مصنف
حجت الاسلام علی رضا پناہیان
موضوع

عوامانہ، عالمانہ اور عارفانہ انتظار

میسجز
۱۰۰+
موضوع کی تفصیل
مشہور عالم دین جناب حجت الاسلام علی رضا پاہیان کی مہدویت کے موضوع پر موجود اہم کتاب جس میں انہوں نے مہدویت کے حوالے سے منتظرین کے فکری اور عملی کردار کے مختلف پہلوؤں اور مختلف مراحل کے انتہائی گہرے اور علمی مطالب کو ساده اور دلچسپ انداز میں بیان کیا ہے. یہ سیریز اس پوری کتاب کا خلاصہ وار ترجمہ ہے.
سوال و جواب

عوامانہ نگاه سے مراد گہرے مسائل اور مطالب پر سطحی طور پر نظر رکھنا اور کسی بھی چیز کی تھوڑی بہت معلومات کو کافی سمجھ لینا ہے.

عوامانہ نگاه یعنی “کم اطلاعات کے باوجود” انہیں “خیالی اور غیرحقیقی طور پر پروان چڑهانا”، “کیوں اور کیسے کے پیچھے نہ جانا” اور “ان کی جڑوں اور نتیجوں کو نہ پہچاننا”، “لوگوں کی افواہوں سے درس حاصل کرنا” اور “عام لوگوں کے افکار پر بھروسہ کرنا”.

عوامانہ نگاه یعنی اندازے لگانا غوروفکر کی جگہ لے لے اور بغیر استدلال کے معاملات کو سمجھنے کا رواج پڑ جائے.

دوسرے الفاظ میں یہ کہ یہ تمام چیزیں اکیلے ہی کسی عوامانہ نگاه کا مقدمہ یا نتیجہ واقع ہو سکتی ہیں.

تمام معاشروں اور تہذیبوں میں موجود عوامانہ نگاه صرف عوام تک محدود نہیں بلکہ بعض اوقات پڑھے لکھے اور معاشرے کے نمایاں افراد بھی عوامی پن کا شکار ہو جاتے ہیں. خاص طور پر جب موضوع کچھ ایسا ہو جو ان کی معلومات اور فیلڈ سے باہر ہو جبکہ اصولی طور پر اس طرح کے افراد میں یہ مشکل نہیں پائی جانی چاہیے.

یہی وجہ ہے کہ جب پڑھے لکھے افراد میں سے کوئی عوامی پن کا شکار ہو جائے تو بہت سارے لوگوں کو بھی اپنے پیچھے لے چلتا ہے اور ممکن ہے کہ وه عوام سے بھی زیاده عوامانہ نگاه کے پھیلانے کا باعث بنے.

 

عوامانہ نگاه کے پھیلنے کے قدرتی اسباب میں سے ایک اس کا سطحی ہونا ہے کیونکہ گہری اور عمیق نگاه پیچیده ہوتی ہے اور اس کا سمجھنا عوام کے لیے مشکل ہوتا ہے.

عوامانہ اور سطحی غلط نگاه کے پھیلنے کا ایک اور سبب یہ ہے کہ یہ نفسانی خواہشات کے زیاده قریب ہوتی ہیں اور نفسانی خواہشات کی خصوصیت یہ ہے کہ خفیہ طور پر یا آشکارا انسانی فکر کو اپنی حمایت پر مجبور کرتی ہے حتی اگر وه بات غلط ہی کیوں نہ ہو.

البتہ ہمیشہ ایسے لوگ دیکھنے کو ملتے ہیں جو بہت سی عوامانہ باتوں کے عوام میں پھیلنے سے فائده اٹھاتے ہیں اور اسے بڑهاوا دیتے ہیں کیونکہ انسانوں کو اپنی غلامی میں لینے کا بہترین راستہ ان کی معلومات کو خراب کرنا اور انہیں حقائق سے منحرف کرنا ہے.

البتہ یہ کام زیاده تر کسی عوامانہ نگاه کے ذریعے حقائق کی تحریف کے ذریعے انجام پاتا ہے کیونکہ کائنات کے اہم حقائق جو لازمی طور پر توجہ کا مرکز بنتے ہی ہیں، ان سے غافل کرنے کا بہترین راستہ یہ ہے کہ عوامانہ نگاه میں غرق کر دیا جائے کہ جس کا نتیجہ حقائق کے حوالے سے باطل نظریات کا قائل ہو جانا ہے.

اگرچہ انہیں عوامانہ باتوں میں بہت سی کام کی باتیں بھی چھپی ہوتی ہیں جن میں سے ہر ایک کسی نہ کسی حقیقت کے ایک زاویے کو بیان کر رہی ہوتی ہیں لیکن مسئلہ جب پیش آتا ہے کہ انسان ان جزوی طور پر صحیح مطالب کو لے لے لیکن کلی طور پر ان کے حوالے سے دقیق تجزیہ و تحلیل اور صحیح نگاه نہ رکھتا ہو کیونکہ اس صورتحال میں وه غلط نتیجے اور عوامی پن کا شکار ہو جائے گا.

یہ عوامی پن کا شکار ہونا برے اثرات کا حامل ہوتا ہے.

ان برے اثرات میں سے ایک “تحریف” اور “انحراف” کے میدان کا فراہم ہونا ہے.

اس کا ایک اور نقصان یہ ہے کہ اگر عوامی پن تحریف اور انحراف کا سبب نہ بھی بنے تب بھی کم از کم ان لوگوں کے لیے بیزاری کا سبب بنے گا جو دقت کے ساتھ اور غوروفکر سے کام لیتے ہوئے عوامانہ نگاه کی کمزوریوں اور نقائص کو فوراً پہچان لیتے ہیں.

اس کے علاوه عوامانہ نگاه کا وجود میں آنا اور اس کا پھیلنا حیات بخش افکار کے بے فائده اور نجات بخش نہ ہونے کا سبب بنتی ہے جو ایک ایسا نقصان ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا.

ظہور منجی (نجات دهنده) کا موضوع اس میں موجود ابهامات اور بہت زیاده حد تک ناکافی معلومات کی وجہ سے اس پر اعتقاد رکھنے والی قوموں کے درمیان عوامانہ نگاه کے رائج ترین مسائل میں سے ایک ہے. اور یہ مسئلہ ناصرف برداشت کے قابل نہیں بلکہ ممکن ہے یہ صورتحال انتظار اور مہدویت کے موضوعات کو سخت نقصان پہنچائے.

منجی کے حوالے سے عوامانہ نگاه دنیا کے تمام ادیان میں موجود ہے.

ایک ایسا تصوّر جس میں کوئی مرکب سوار آئے گا اور دنیا کو اپنے معجزے کے ذریعے تبدیل کر دے گا اور لازمی طور پر لوگوں کی حمایت اور ان میں موجود صلاحیتوں کو استعمال کیے بغیر پوری دنیا کو الٹ پلٹ کر دے گا. تمام الہی قوانین اور انسانی صفات کو نظرانداز کرتے ہوئے انسان کو سعادت کی منزل پر پہنچا دے گا.

اسی طرح یہ بھی ایک عوامانہ نگاه ہے کہ “ہم منجی کے انتظار میں رہیں لیکن اس کے لیے مقدمات فراہم کرنے کو ضروری نہ سمجھیں”.

ایک اور عوامانہ نگاه یہ ہے کہ “منجی کے نجات دلانے کے وسائل اور طور طریقوں کے حوالے سے کچھ سمجھنے کی ضرورت نہیں”.

اور یہ بھی ایک عوامانہ نگاه ہے کہ “منجی کی حکومت کے تسلسل اور اس کے بقاء کے راز کو نہ جانیں” اور اسی طرح کی دیگر افکار جن کی طرف متوجہ نہ ہونے کی صورت میں انسان عوامانہ نگاه کا شکار ہو سکتا ہے.

اس نگاه کا کم ترین نقصان یہ ہے کہ یہ ہمیں “منجی کی مدد کرنے” اور “ان کے قیام کے لیے مقدمات فراہم کرنے” کے حوالے سے کچھ نہیں بتاتی.

#عوامانہ_انتظار

جب آپ منتظرین پر نگاہ دوڑاتے ہیں تو پتہ یہ چلتا ہے کہ منجی کے بارے میں نہ جاننے والوں کی کمی نہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ منتظر کی حیثیت سے آج اپنے اعمال میں بہت ساری غلطیاں انجام دیتے ہیں. اور قدرتی طور پر یہ غلطیاں نہ صرف ظہور میں جلدی کا سبب نہیں بنتیں اور انتظار کو نتیجہ بخش نہیں بننے دیتیں بلکہ شاید ظہور کے دور ہونے کا سبب بھی بنتی ہیں.

ایک ایسا مشکلات کا مارا انسان جو نجات کی تمام راہوں کو بند سمجھتا ہو وه مشکلات کو حل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا اور ایسی صورتحال میں عوامانہ خیالات اور سطحی باتوں کا بازار گرم ہو جاتا ہے.

جبکہ فرج (مشکلات کا حل ہونا) اور نجات کی امید اور حتی اسے نزدیک کرنے کے لیے اور فرج کے ذریعے نجات حاصل کرنے کے لیے پہلے عوامی پن سے نجات حاصل کرنا ضروری ہے، اور یہ حالات کی تبدیلی اور نجات کا مقدمہ ہے، کیونکہ الله تعالی کا اراده یہ ہے کہ انسان خود آگاہانہ طور پر دنیا کے حالات کی تبدیلی کا مقدمہ فراہم کریں:

إنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنفُسِهِمْ (سوره رعد: 11) یعنی “خدا کسی قوم کے حالات کو اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے کو تبدیل نہ کر لے”.

#عوامانہ_انتظار

فلَن تَجِدَ لِسُنَّتِ اللَّـهِ تَبْدِيلًا ۖ وَلَن تَجِدَ لِسُنَّتِ اللَّهِ تَحْوِيلًا (سوره فاطر: 43) یعنی “اور خدا کا طریقہ کار بھی نہ بدلنے والا ہے اور نہ اس میں کسی طرح کی تغیر ہوسکتی ہے”.

جب ایک عوامانہ نگاه میں یہ کہا جاتا ہے کہ “ان شاء الله امام زمانہ (عج) آئیں گے اور حالات کو صحیح کر دیں گے” تو ذہن میں اس طرح کا مطلب آتا ہے کہ آپؑ ایسے طریقوں سے دنیا کے حالات کی اصلاح کریں گے جو اب تک تمام حالات میں نافذ رہنے والے الہی طریقوں سے ہٹ کر ہوں گے.

جیسے کہ خداوند عالم کا یہ سنہری اصول ہے: إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنفُسِهِمْ (سوره رعد: 11) یعنی “خدا کسی قوم کے حالات کو اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے آپ کو تبدیل نہ کر لے”.

اگر منجی اس طرح سے آ کر انسانیت کو نجات عطا کریں تو اس میں سعادت تک پہنچنے کے لیے انسانوں کے ارادے اور آگاہی کے کردار کو نظرانداز کر دیا گیا ہے!

اور دوسری طرف سے “الہی طور طریقوں کی اہمیت” اور “بنیادی طور پر انسانی زندگی کی قدروقیمت” اور “اتنے سارے امتحانات، شکست اور کامیابیوں” کی کیا اہمیت ره جائے گی؟!

#عوامانہ_انتظار

اس طرح کی سوچ کہ سارے کام امام زمانہ (عج) نے آ کر الہی قوانین سے ہٹ کر انجام دینے ہیں کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نہ ظہور سے پہلے اس کے مقدمات فراہم کرنے کے حوالے سے ہماری کوئی ذمہ داری ہے اور نہ ہی ظہور کے بعد ہی ہمارے کاندھوں پر کوئی ذمہ داری ہو گی!

اس طرح کی سوچ کا نتیجہ یہ ہو گا کہ شاید امام زمانہ (عج) کے ساتھی بھی قدرتی طور پر زندگی گزارنے کے بجائے کسی اور انداز میں زندگی گزاریں گے اور انہیں ہم سے زیاده غیر معمولی طاقتیں حاصل ہونگی، وه امام زمانہ (عج) کی خدمت میں آئیں گے اور اپنی اس عظیم غیر معمولی طاقت سے زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے!

اور اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ امامؑ دنیا کے سارے انسانوں کے بجائے صرف اپنے 313 ساتھیوں کے ساتھ ان ذمہ داریوں کا احساس کریں گے، حالات پر نگاه رکھیں گے، دین پر عمل کریں گے اور ساتھ ہی دنیا کے دیگر تمام انسانوں کو مجبوراً یا غیر اختیاری طور پر خدا کی جانب متوجہ کر دیں گے. کیونکہ اگر یہ راستہ لوگوں کے اختیار کے ساتھ طے ہونا ہے تو طول تاریخ میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اکثر اوقات اس اختیار کا نتیجہ بڑے پیمانے پر ظلم اور خدا سے ان کی دوری کا سبب ہی بنا ہے!

اس طرح کی سوچ میں انسان بغیر اختیار اور صلاحیت کے بھی کمال اور سعادت تک پہنچ سکتا ہے.

یعنی گویا ایک بہت اچھے حکمران اور اس کے کچھ وفادار ساتھیوں کی مدد سے سارے انسانوں کو سعادت تک پہنچنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے!

#عوامانہ_انتظار

ہم اس عوامانہ نگاه کو روحانی رنگ بھی دے سکتے ہیں اور وه ایسے کہ ہم یہ سوچیں کہ امام زمانہ (عج) کی روحانی طاقت سب کو الله تعالی کا فرمانبردار بنا دے گی یا آپؑ غیبی طاقت سے ساری مشکلات کو حل فرمائیں گے.

اگرچہ یہ بات حکمت سے خالی نہیں اور امام زمانہ (عج) کا حاضر ہونا پوری دنیا اور تمام انسانوں میں بہت زیاده اثرانداز ہو گا لیکن یہ بات ایک عوامانہ نگاه میں کس طرح سمجھی جائے گی؟ عوامانہ طور پر اس بات کا مطلب یہ لیا جائے گا کہ امام زمانہ (عج) کی ایک نگاه اور روحانی ارادے سے اچانک سارے لوگ بہت اچھا محسوس کرنے لگیں گے!

البتہ یقیناً امام زمانہ (عج) کی روحانی نگاه معجزه کر دے گی اور یقینی طور پر ان کا ظہور باصلاحیت انسانوں کے لیے بابرکت ثابت ہو گا لیکن کیا کمال تک پہنچنے کے قوانین اور انسان کے عزم و ارادے کی اہمیت ختم ہو جائے گی؟!

اگر یہی کچھ پیش آنا تھا تو یہ کام پیغمبر اکرمؐ اور مولا علیؑ کے ہاتھوں بہتر طریقے سے پیش آ سکتا تھا لیکن الله تعالی نے اپنے پیغمبرؐ سے فرمایا: إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ (سوره قصص: 56) یعنی “پیغمبر بیشک آپ جسے چاہیں اسے ہدایت نہیں دے سکتے ہیں” تو پھر کیسے ہو سکتا ہے کہ امام زمانہؑ انسانوں کے ارادے کے بغیر خود اپنے ارادے سے انہیں ہدایت دے دیں؟!

یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ الله تعالی اپنے پیغمبرؐ سے قرآن میں فرمائے: إِنْ أَنتَ إِلَّا نَذِيرٌ (سوره فاطر: 23) یعنی “آپ تو صرف ڈرانے والے ہیں ” اور مَّا عَلَى الرَّسُولِ إِلَّا الْبَلَاغُ (سوره مائده: 99) یعنی “اور رسول پر تبلیغ کے علاوہ کوئی ذمہ داری نہیں ہے”؛ تو پھر اس نگاه کے مطابق امام زمانہ (عج) کی ذمہ داریاں ایک دم سے پیغمبر اکرمؐ سے مختلف ہو جائیں گی؟!

#عوامانہ_انتظار

نتیجہ:

لہذا یہ ایک غلط خیال ہے کہ امام زمانہؑ کے انسانیت کے لیے منجی اور نجات دہنده ہونے سے مراد یہ ہے کہ آپؑ آئیں گے اور “انسانوں پر عائد ہونے والی ذمہ داریوں کے بغیر”، “انسانی معاشروں پر حاکم قدرتی اصولوں اور طورطریقوں” سے ہٹ کر جنت اور مطلوبہ معاشرے کی طرف رہنمائی فرمائیں گے.

اس طرح کی سوچ میں دراصل “دین کے کردار کو معمولی سمجھا جاتا ہے” اور”انسانی کرامت” اور “الله تعالی کے ناقابل تبدیل قوانین اور اصولوں” کو نظرانداز کیا جاتا ہے. اور بالآخر اس سوچ کا نتیجہ ایک ایسا بے خاصیت انتظار ہے جس میں ہماری کوئی ذمہ داری نہیں ره جاتی!

صحیح ہے کہ #امام_محمد_باقرؑ سے منقول روایت میں ہے کہ “امام زمانہؑ مومنین کے سر پر ہاتھ پھیریں گے اور ان کی عقل بڑھ جائے گی”، لیکن اس روایت کو سمجھنے کے لیے #ایک_گہری_نگاه کی ضرورت ہے نہ یہ کہ ہم اس روایت کو عوامانہ نگاه سے تفسیر کریں اور یہ خیال کریں کہ امام زمانہؑ تمام الہی اصولوں سے ہٹ کر انسان کی قدرتی حالت میں تبدیلی پیدا کریں گے.

اس حوالے سے ایک انتہائی اہم نکتہ یہ ہے کہ اگر ابھی بھی مومنین کا کوئی گروه اس بات کی صلاحیت پیدا کر لے کہ امام زمانہؑ کے حضور پہنچ سکے تو وه ان کی عنایات کو حاصل کر لیں گے اور امام زمانہؑ کے خاص لطف سے ان کی عقلیں دیگر افراد کے مقابلے میں بڑھ جائیں گی.

#عوامانہ_انتظار

بہرحال ظہور کے معاملے میں عوامانہ نگاه رکھنا اور یہ تصوّر کرنا کہ ظہور الہی قوانین و اصولوں سے ہٹ کر واقع ہو گا، ایک ایسا معاملہ ہے جس کی آئمہ طاہرینؑ نے بھی شدت سے مخالفت کی ہے اور اس فکر کا مقابلہ کیا ہے:

“بشیر کہتا ہے جب میں کوفے سے مدینے پہنچا تو امام محمد باقرؑ کی خدمت میں حاضر ہوا. امامؑ نے میرے ہمسفر افراد کے بارے میں پوچھا تو میں نے عرض کی: مرجئہ (ایک منحرف فرقہ) کے کچھ افراد تھے. … میں نے عرض کی: وه کہتے ہیں کہ جب مہدیؑ قیام کریں گے تو ان کے لیے حالات خودبخود ٹھیک ہوتے چلے جائیں گے حتی یہاں تک کہ حجامت میں بہنے والے خون کے برابر بھی خون نہیں بہے گا.

امامؑ نے فرمایا: اس کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ہرگز ایسا نہیں ہے. اگر کسی کے لیے حالات کو خودبخود ٹھیک ہونا ہوتا تو یقینی طور پر وه رسول اکرمؐ کے لیے صحیح ہو جاتے جبکہ آپؐ کو دانتوں کے ٹوٹنے اور چہرے پر زخم لگنے کا سامنا کرنا پڑا.

بالکل نہیں! اس کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے (ایسا نہیں ہو گا) جب تک کہ میں اور تم زخم کے خشک شده خون کو صاف نہ کر لیں. اس کے بعد امامؑ نے اپنی پیشانی کو اس حالت کی نشانی کے طور پر صاف کیا” (غیبت نعمانی، ص 283-284)

امام خمینیؒ نے بھی اپنے الہی و سیاسی وصیت نامے میں واضح طور پر اس طرح کی عوامانہ نگاه کی نفی کی ہے:

“اگر آپ یہ توقع رکھیں کہ ایک رات میں سارے کام اسلام اور خداوند عالم کے احکام کے مطابق تبدیل ہو جائیں گے تو یہ ایک غلطی ہے اور انسانیت کی طول تاریخ میں اس طرح کا معجزه پیش نہیں آیا ہے اور نہ ہی پیش آئے گا. اور وه دن جب ان شاءالله پوری دنیا کی اصلاح کرنے والا قیام کرے گا تو یہ خیال نہ کریں کہ کوئی معجزه ہو گا اور ایک دن میں پوری دنیا کی اصلاح ہو جائے گی بلکہ قربانیوں اور جدوجہد کے ذریعے ستمگر مغلوب ہو نگے”.

#عوامانہ_انتظار

اسی طرح ایک عوامانہ تصوّر یہ ہے کہ جب امام زمانہؑ آئیں گے تو سارے مسائل تلوار کے زور پر حل کریں گے!

تلوار اس دن بھی تھی جب علیؑ ابن ابی طالبؑ کے ہاتھ باندھے گئے لیکن مقدمات فراہم نہ ہونے کی وجہ سے اس سے استفاده نہیں کیا گیا. یہ وہی تلوار ہے جو صرف اس کے مناسب موقعے پر ہی بےنیام ہو گی.

اس طرح کی عوامانہ سوچ کی وجہ سے ممکن ہے یہ تصوّر کیا جائے کہ امام زمانہؑ کے اقدامات (نعوذبالله) شریعت اور الہی احکامات سے ہٹ کر ہونگے، وہی احکامات جو حکمرانوں کے لیے طاقت کے استعمال کے حوالے سے محدودیت ایجاد کرتے ہیں.

البتہ یہ بات صحیح ہے کہ طاقت کا استعمال ہو گا، جیسے کہ پہلے بھی ایسا ہی تھا لیکن مطلوبہ شرائط پوری نہ ہونے کی وجہ سے اس زمانے میں طاقت استعمال نہیں کی گئی، لیکن امام زمانہؑ کے دور میں وه شرائط حاصل ہو جائیں گی.

ان مطلوبہ شرائط میں سے ایک یہ ہے کہ لوگوں کے لیے “حق واضح” اور “اتمام حجت” ہو چکی ہو جو اس زمانے میں حاصل ہو جائے گی.

اگر تلوار کے استعمال کو ان قوانین کے بغیر بیان کیا جائے تو یہ اس تصوّر کی تائید ہو گی جو دشمن امام زمانہؑ کے حوالے سے دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں اور لوگوں کو ڈراتے ہیں، ایک ایسے ظالم اور تدبیر سے خالی حکمران کی تصویر جو تمام مسائل کو صرف تلوار کے زور پر حل کرتا ہو!

#عوامانہ_انتظار

معاشرے میں انتظار اور امام زمانہؑ کے موضوع پر زیاده توجہ دیے جانے اور دعائے ندبہ پڑھے جانے کی نئی لہر معاشرے میں پھیلنے سے پہلے، کچھ لوگ امام زمانہؑ کو صرف ان کی تلوار سے پہچانتے تھے.

حتی بہت سارے لوگ پریشان تھے کہ اگر امام زمانہؑ ظہور فرمائیں تو ہم گنہگاروں کی گردنیں اڑا دیں گے! یہ امام زمانہؑ کے حوالے سے کسی حد تک ایک عوامانہ تصوّر تھا.

آہستہ آہستہ لوگوں کے لیے توضیح دی گئی کہ:

“امام زمانہؑ تو اس لیے نہیں آ رہے کہ مومن اور غیرمومن افراد کو قتل کر دیں؛ حتی وه تو گنہگاروں کو مارنے کے لیے بھی نہیں آ رہے بلکہ بہت سے گنہگار ان کے آنے سے اچھے انسان بن جائیں گے.

#قتل_کے_اپنے_قوانین_اور_اصول_ہیں. ایسا نہیں کہ ہر گنہگار مار دیا جائے.

حتی یہ بھی طے نہیں ہے کہ کچھ گنہگار جو ان کے آنے کے بعد بھی اچھے انسان نہیں بنیں گے مار دیے جائیں”.

جب یہ باتیں لوگوں کے لیے بیان کی گئیں اور قوانین اور اصول بتائے گئے تو بہت سے لوگ اس وقت امام زمانہؑ کی مہربانی کی طرف متوجہ ہوئے اور امامؑ کی محبت ان کے دل میں پھوٹ پڑی.

#عوامانہ_انتظار

ظلم کو سمجھنا بھی ایک ایسا مرحلہ ہے جس کے لیے معاشرے کی فکری سطح کا بلند ہونا ضروری ہے اور یہ ضروری نہیں ہے کہ ہر معاشرے کے افراد ظلم کو صحیح طریقے سے سمجھ سکیں. یہ ممکن ہے کہ ایک معاشرے میں مختلف طرح کے ظلم موجود ہوں لیکن لوگ اسے سمجھ نہ سکیں بلکہ اسے ظلم ہی نہ سمجھیں.

ظلم کو سمجھنے کے بعد ضروری ہے کہ عدالت کی صحیح سمجھ بھی حاصل ہو.

عدالت کے اجراء ہونے کا صحیح مطلب “ہر جگہ عدالت کا نفاذ” اور “اس کا پائدار ہونا” ہے.

عدالت کا ہر جگہ اور ہر معاملے میں نفاذ صرف بڑے ظالموں اور منافع خوروں کی دشمنی کا سبب ہی نہیں بنتا بلکہ وه لوگ بھی دشمنی کرتے ہیں جو عدالت کی وجہ سے اپنے چھوٹے سے منافع کو کھونے پر بھی تیار نہیں.

ہم جانتے ہیں کہ امام زمانہؑ اس وقت ظہور کریں گے جب ظلم ہر جگہ پھیل چکا ہو، لوگ ظلم سے تنگ آ چکے ہوں اور کسی ایسے کے انتظار میں ہوں جو انہیں ظلم سے نجات دلائے، لیکن ضروری ہے کہ لوگ “عدالت اور اس کے اثرات” کو قبول کرنے کے لیے بھی تیار ہوں.

صرف اسی صورت میں اگر امام زمانہؑ ظہور کریں تو لوگ ان کی طرف کھنچے چلے جائیں گے اور دنیا کی عوام ان کی پیروی کرے گی اور حق کی حکومت پوری دنیا میں آسانی کے ساتھ قائم ہو جائے گی.

#عوامانہ_انتظار

البتہ ہمیں عام لوگوں کو امام زمانہؑ سے قریب لانے کے لیے بڑے بڑے بد کرداروں کو امام زمانہؑ کی تلوار سے ڈرانے سے دریغ نہیں کرنا چاہیے. معاشرے میں امن و امان کے قیام کے لیے مستکبروں کو عدالت کی تلوار سے ڈرانا ایک بنیادی اصول ہے.

ایک “غیرعوامانہ” نگاه میں جو چیز اہم ہے وه یہ ہے کہ امام زمانہؑ کے قیام اور ان کی حکومت میں شمشیر کیوں استعمال کی جائے گی اور اس کی وجہ بہت واضح ہے.

جب ظالموں اور تمام افراد پر اتمام حجت کر دی گئی ہو تو پھر نرمی دکھانے کی کیا ضرورت ہے؟ جب کوئی نہیں چاہتا کہ ظلم اور سرکشی سے باز آئے تو پھر صبر اور نرمی کس لیے؟ وه جو حق تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں اور یہ چاہتا ہے کہ جتنا موقع ملے اس سے غلط فائده اٹھائے اور اپنی هوا و هوس کو پورا کرے اور اس راه میں دوسروں سے لوٹ مار کرے تو پھر کیوں گواہوں اور دلیل کے ساتھ سزا پائے اور مارا جائے؟

اس صورت میں جب ہم یہ سنتے ہیں کہ امام زمانہؑ فوراً اور عدالت کے رائج دفتری طریقوں سے ہٹ کر ان ظالموں کو سزا دیں گے تو ہمیں سکون ملتا ہے اور اس صورتحال میں ظالموں کے پاس بھی تسلیم ہو جانے کے علاوه کوئی چاره نہیں ہو گا.

امام جعفر صادقؑ: “إذا قامَ قائمُ آلِ محمّدٍ علَيهِ و علَيهِمُ السلامُ حَكَمَ بينَ الناسِ بحُكمِ داودَ ، لا يَحتاجُ إلى بَيِّنةٍ ، يُلهِمُهُ اللّه ُ تعالى فَيَحكُمُ” یعنی “جب قائمؑ آل محمدؐ قیام کریں گے تو حضرت داؤدؑ کی طرح قضاوت کریں گے اور انہیں دلیل و گواہوں کی ضرورت نہیں پڑے گی بلکہ الله تعالی ان پر الہام کرے گا اور وه خود اپنے علم کی بنیاد پر فیصلہ کریں گے”. (غیبت نعمانی، ج 2، ص 386)

#عوامانہ_انتظار

بات یہ چل رہی تھی کہ ظہور کے لیے “ہر جگہ پھیلا ظلم”، “عدالت اور اس کے اثرات کو برداشت کرنے کی آمادگی” کے بغیر کافی نہیں ہے اور اسی لیے ظلم سے بیزاری کی کچھ قسموں کا کوئی فائده نہیں اور وه ظہور کے لیے آمادگی کی علامت نہیں.

ان میں سے ایک قسم صرف ظلم کے خلاف ماحول بن جانے کی وجہ سے اس سے دوری اختیار کرنا ہے (یعنی عدالت اور اس کے اثرات کو برداشت کرنے کی آمادگی کے بغیر).

اس کی ایک اور قسم اس شخص کی سی ہے جس نے پہلے دھوکے یا مہنگی چیزیں بیچ کر مال جمع کیا اور پھر اپنے لیے گھر بنایا لیکن بعد میں کوئی بادشاه یا کوئی طاقتور دهوکے باز آئے اور اس کے گھر پر قبضہ کر لے اور اس شخص سے کچھ بن نہ پڑے تو اب حق والا بن کر کہے: امام زمانہؑ کب آئیں گے تا کہ حق حقدر تک پہنچے؟! امام زمانہؑ اس کی طرح کے حقوق دلوانے نہیں آئیں گے.

بنیادی طور پر “اپنے حق کا مطالبہ کرنا” اور “حق و عدالت کا طرفدار ہونا” دو الگ چیزیں ہیں.

بہت سے افراد جو حق و عدالت کا دم بھرتے ہیں دراصل اپنے ذاتی حقوق کے پیچھے ہیں نہ یہ کہ ان کا دل حق و انصاف کے لیے جل رہا ہو.

آیت الله بهجتؒ بھی فرماتے ہیں کہ:

امام زمانہؑ ایسے افراد چاہتے ہیں جو صرف ان کے لیے ہوں. وه لوگ ظہور کے (حقیقی) منتظر ہیں جو الله کے لیے اور اسی کے راستے میں امام زمانہؑ کے منتظر ہیں، نہ وه افراد جو اپنی ذاتی حاجتیں بر لانے کے لیے ان کے منتظر ہیں.

#عوامانہ_انتظار

روایات میں بھی ہے کہ امام زمانہؑ اس وقت ظہور فرمائیں گے جب زمین ظلم و جور سے بھر گئی ہو گی. لیکن اس واضح اور یقینی حقیقت سے بھی عوامانہ تصوّر اپنایا جا سکتا ہے. اس حقیقت کے حوالے سے عوامانہ سوچ یہ ہے کہ صرف لوگوں کا ظلم سے تھک جانا اور ظلم و جور کا اپنے عروج تک پہنچنا ظہور کے لیے کافی ہے اور پھر لوگوں کا “عدالت قبول کرنے کے لیے تیار ہونا” ضروری نہیں جبکہ اس صورت میں عدل کی حکومت پائدار نہیں ہو سکتی! مثال کے طور پر تاریخ اسلام میں جب لوگوں نے امیرالمؤمنینؑ کو مسلمانوں کا خلیفہ بنانے کے لیے ان کے در پر ہجوم لگا دیا اور شدید اصرار کرنا شروع کر دیا “یا علی! آپ حتماً حکومت کو اپنے ہاتھ میں لے لیں” لیکن امیرالمؤمنینؑ نے فرمایا “نہیں، مجھے چھوڑ دو”. امیرالمؤمنین علیؑ خلافت قبول کرنے کے لیے اتنے….. Read More »

ہو سکتا ہے کہ ان تمام عوامانہ تصوّرات میں کچھ باتیں صحیح بھی ہوں لیکن جب ہم ان باتوں پر گہری نگاه نہ رکھتے ہوں تو ممکن ہے کہ ان میں سے ہر بات کے ذیل میں غلط تصوّرات اور افکار ایجاد ہو جائیں.

اس لیے ضروری ہے کہ امام زمانہؑ کے ظہور اور ان کی حکومت کے بارے میں موجود اشاروں کو تجزیہ و تحلیل کیے بغیر قبول نہ کیا جائے بلکہ ضروری ہے کہ دینی تعلیمات کے سائے میں ان کی تفسیر کی جائے.

ظہور کے حوالے سے بیان کی گئی خصوصیات اس عظیم وادی کی طرح سے ہے جس کے صرف کچھ حصے جزیرے کی شکل میں سمندر کے پانی سے باہر نکل آئے ہیں. ہم صرف سمندر سے باہر نکلے حصے کو ہی مدنظر نہ رکھیں بلکہ پانی میں اتر جائیں اور دینی تعلیمات کی مدد سے اس پوری وادی کی خصوصیات سے آشنا ہوں جو مکمل طور پر پانی سے باہر آنی ہے!

#عوامانہ_انتظار

لیکن عوامانہ نگاه یہ ہے کہ ظلم کا بڑهنا ایک ایسی “لہر” کا سبب بنے گا کہ لوگ امام زمانہؑ کی طرف مائل ہو جائیں گے اور عدالت اور اس کے اثرات کو برداشت کرنے کی عمومی طور پر آمادگی کے بغیر بھی امام زمانہؑ کی حکومت صرف اسی “وقتی لہر” کے بل بوتے پر قائم ہو جائے گی.

بنیادی طور پر الله تعالی “وقتی لہروں” کو اہمیت نہیں دیتا اور یہ نہیں چاہتا کہ اپنے دین کو ان “وقتی لہروں” کی مدد سے آگے بڑھائے. اگر کبھی اجتماعی وقتی لہروں کو اپنے دین کے کسی گوشے کو آگے بڑھانے میں استعمال بھی کرے تو خود ہی سخت امتحانوں کے ذریعے ان وقتی لہروں کے مٹنے کا میدان فراہم کر دیتا ہے.

آئیں اس مطلب کو سمجھنے کے لیے پلٹیں اور اسلام کی ابتدائی تاریخ پر نظر دوڑائیں:

پیغمبر اکرمؐ کی زندگی کے آخری زمانے میں جب بڑی طاقتیں آپؐ کے گرد جمع تھیں تب اسلام قبول کرنے کی ایک بڑی لہر ایجاد ہوئی. اگرچہ یہ لہر اسلام اور اسلامی معاشرے کی پائداری اور اسلامی تہذیب و تمدّن کے آغاز کے لیے مؤثر تھی لیکن پیغمبر اکرمؐ کی رحلت کے بعد الله تعالی نے امیرالمؤمنینؑ کے زمانے کے امتحانات کو اس لہر کے سامنے ایک بند کی طرح کھڑا کر دیا جس کے نتیجے میں بہت سے ایسے افراد جو صحیح طریقے سے اسلام سے متمسک نہیں ہوئے تھے جھڑ گئے اور اپنے ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھے.

اس زمانے میں بہت سارے مختلف امتحانوں کے بعد بالآخر لوگ امیرالمؤمنینؑ کی خلافت کے آخری دور میں ان کے حکم کی تعمیل میں امیرِ شام سے مقابلے کے لیے آماده ہوئے جو مسلمانوں کے متفقہ خلیفہ کی پیروی نہیں کرتا تھا لیکن اسی وقت مولا علیؑ کی شہادت کا وقت آن پہنچا. اور لوگوں کا امتحان لیا گیا کہ اب وه یہی بات ان کے وصی یعنی امام حسنؑ کی ولایت میں بھی مانتے ہیں یا نہیں!

آپ دیکھ رہے ہیں کہ الله تعالی ہر ابھرتی لہر کا ساتھ نہیں دیتا، اسی لیے اس خاص موقعے پر مولا علیؑ کو اٹھا لیا. لوگوں نے بھی امام حسنؑ کا ساتھ نہیں دیا اور زمین گیر ہو گئے. یہ الله تعالی کا ایک طریقہ ہے کہ کبھی کبھار بنے ہوئے ماحول کے خلاف عمل کر کے امتحان لیتا ہے!

#عوامانہ_انتظار

قدرتی طور پر عوامانہ نگاه کے بہت سے انفرادی اور اجتماعی برے اثرات ہیں. ان میں سے ایک مہدویت اور نجات دہنده کے موضوع کے حوالے سے انتظار کی اصلی تعلیمات کا دنیا میں نہ پھیلنا ہے.

اگر ہم نے سطحی طور پر دیکھا اور امام زمانہ (عج) کی حکومت کی تھیوریز کو علمی طور پر بیان نہیں کیا اور مہدویت اور منجی کے موضوع کی عالمانہ تجزیہ و تحلیل پیش نہیں کی تو آہستہ آہستہ یہ موضوع ایک خیالی اور وهمی تصوّر میں تبدیل ہو جائے گا اور یہ انتظار کی اصلی تعلیمات کے پھیلانے کی راه میں ایک بڑی رکاوٹ بن جائے گا جس کی وجہ سے یہ اصلی تعلیمات خاص طور پر نمایاں شخصیات کے درمیان بیان نہیں کی جا سکتیں تا کہ ان کے ذہنوں کو اس مطلب کی طرف دقیقاً متوجہ کیا جا سکے. اور ایسی حالت میں بہت سے لوگ اس موضوع کو غیر عقلائی ہونے کی وجہ سے قبول نہیں کریں گے!

جبکہ یہ بات ہمارے لیے ممکن ہے کہ ہم امام زمانہؑ کی حکومتی روش میں سنجیدگی کے ساتھ غور و فکر کر کے معاشرے میں موجود مشکلات کو دور کرنے اور اس کی ترقی کے لیے بہتر منصوبے اور بہتر مینجمنٹ میں ان کی مدد کر سکیں.

دانشوروں اور نمایاں افراد کا مہدویت کے حوالے سے گفتگو کرنا ایک اچھی ابتداء ہے لیکن اگر یہ ابتداء آگے چل کر امام مہدیؑ کے طرز حکومت کے حوالے سے سنجیده اور گہرے غور و فکر تک نہ پہنچے؛ اور اس غور و فکر کے نتائج ان کے منصوبوں پر اثر انداز نہ ہوں تو یہ نقصان اور آفت کا باعث بنے گی.

#عوامانہ_انتظار

مہدویت کے حوالے سے ایک اور مطلب جو حقیقت تو ہے لیکن عوامانہ نگاه کا شکار ہے یعنی یہ حقیقت کہ ظہور کے بعد نعمتیں فراوان ہو جائیں گی، برکات نازل ہونگی، مریض تندرست ہو جائیں گے، بے گھروں کو گھر مل جائیں گے، مکمل امن و امان قائم ہو جائے گا یعنی خلاصتاً سب معاملات ٹھیک ہو جائیں گے. یہ ساری باتیں صحیح ہیں اور ظہور سے متعلق روایات میں وارد ہوئی ہیں.

ہمارا یہ عقیده بہت قابل قدر ہے اور ہمارے عقائد کے کچھ حصے کو تشکیل دیتا ہے کہ امام زمانہؑ الله کی نظر میں بہت زیاده عظمت رکھتے ہیں اور آپؑ خدا کے اذن سے انسانی زندگی کی مشکلات کو آسانی سے حل کر سکتے ہیں. لیکن یہ اعتقاد بھی عوامانہ نگاه کا شکار ہو سکتا ہے.

اگرچہ امام زمانہؑ حتی غیبت کے زمانے میں بھی مومنین کی مشکلات حل فرماتے ہیں اور ان پر عنایت اور مہربانی فرماتے ہیں لیکن اگر ہمارا امام زمانہؑ کے ظہور کے لیے انتظار صرف اپنی ذاتی مشکلات حل کروانے کے لیے ہو تو واضح ہے کہ ہمارا اس طرح کا انتظار ایک سطحی اور عوامانہ انتظار ہو گا.

صحیح ہے کہ اگر ہم اس بات کو سمجھ جائیں کہ ہمارے اقتصادی مسائل کا حل بڑے پیمانے پر پائی جانے والی عالمی مشکلات کے حل میں چھپا ہے اور امام زمانہؑ آ کر ان مشکلات کی جڑ سے اصلاح فرمائیں گے تو اس صورت میں ہم ایک نسبتاً گہری نظر تک پہنچے ہیں.

لیکن بنیادی طور پر امام زمانہؑ کے ظہور کا مقصد معاشرے کی چھوٹی، بڑی اور مجموعی مشکلات کا خاتمہ کرنا نہیں بلکہ ان مشکلات کو برطرف کرنا صرف بلندتر انسانی اور روحانی اہداف کے حصول کا مقدمہ ہے.

#عوامانہ_انتظار

عوامانہ نگاه کا تیسرا برا اثر منتظرین کے درمیان پیدا ہو جانے والی “سستی” ہے.

دوسرے الفاظ میں عوامانہ نگاه اس بات کا سبب بنتی ہے کہ منتظرین اپنی ذمہ داریوں کو ترک کر دیں اور انہیں نہ جانیں.

یہ ایک بہت بری چیز ہے کہ ہم ایک منتظر کے عنوان سے جب بھی امام زمانہؑ کو یاد کریں تو ایک آه بھریں اور یہ کہیں کہ “ان شاء الله مولاؑ آ جائیں” اور پھر اپنی غلطیوں بھری زندگی کو جاری و ساری رکھیں.

یہ ایک عیب اور آفت ہے کہ منتظر ہونا ہماری زندگی میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہ لائے.

قدرتی بات ہے کہ جب ہم انتظار کے موضوع پر سطحی طور پر نگاه کریں گے تو ہم اپنے لیے:

– اس موضوع سے نکلنے والی ذمہ داریوں کو نہیں سمجھ پائیں گے؛

– اور نہ اپنے وجود میں ایک اٹھان محسوس کریں گے؛

– اور نہ ہی ذمہ داری کا احساس کریں گے.

#عوامانہ_انتظار

وہ لوگ جو اس موضوع پر عوامانہ نگاه سے بچنا چاہتے ہیں ان کے لیے ضروری ہے کہ وه اس بات کو سمجھ لیں کہ زندگی کی مشکلات سے نجات کے لیے مقدمات ضروری ہیں جن میں سب سے اہم کفر کی بساط کا لپیٹ دیا جانا ہے (جو ہمیشہ براه راست یا بالواسطہ ظلم کا سبب بنتا ہے)، اور یہ مشکلات کا برطرف ہونا خود اس سے بھی اہم مقاصد کے حصول کا مقدمہ ہے مثلاً بندگانِ خدا کا الله تعالی کی عبادت اور روحانی کمالات کے حصول کے لیے فرصت حاصل کرنا.

ساتھ ہی یہ بھی جان لیں کہ ظہور کے بعد بھی “تمام” مشکلات حل نہیں ہو جائیں گی اور کچھ مشکلات پھر بھی باقی ره جائیں گی. اس بارے میں امام خمینیؒ واضح طور پر فرماتے ہیں کہ:

“ہمیں یہ توقع نہیں رکھنی چاہیے کہ ہم صبح ایسی حالت میں بیدار ہوں کہ ساری چیزیں درست ہو چکی ہوں. امام زمانہؑ کے دور میں بھی جس میں آپؑ اپنی پوری طاقت سے عدالت کا اجراء کرنا چاہیں گے تب بھی یہ نہیں ہو گا کہ حتی کوئی چھپ کر بھی غلط کام نہ کر سکے. اور بالآخر یہی مخالفین آپؑ کو شہید کریں گے. اور روایات میں اس مطلب سے قریب بات بیان ہوئی ہے کہ اس زمانے کے کچھ فقہاء امام زمانہؑ کی مخالفت کریں گے.”

یہ صحیح ہے کہ ظہور کا خوبصورت اور سنہرا دور ان حالات سے جس سے آج انسان دوچار ہے بہت ہی مختلف ہے لیکن اس زمانے کے حوالے سے یہ تصوّر رکھنا کہ “دنیا جنت بن جائے گی” ایک عوامانہ تصوّر ہے.

جب تک دنیا باقی ہے دنیاوی سختیاں اور مشکلات باقی رہیں گی. انسانوں کا خالق فرماتا ہے: لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي كَبَدٍ یعنی “ہم نے انسان کو مشقت میں رہنے والا بنایا ہے”. اور امیرالمؤمنینؑ بھی فرماتے ہیں کہ: الدّنيا دار المحن یعنی “دنیا بلاؤں اور سختیوں کی جگہ ہے”.

#عوامانہ_انتظار

البتہ ظہور کے حوالے سے ایک عالمانہ تجزیہ و تحلیل میں انسان کی زندگی پر حاکم تمام قدرتی قوانین کو نظر میں رکھا جائے گا جن میں #روحانیت کا عنصر یقینی طور پر سب سے اہم ہے.

#معجزے کا عنصر بھی اس فکری مجموعے میں ایک جگہ قرار پائے گا. #الہی_نصرت اور #امام_زمانہ_ع_کی_روحانی_توجہ کا بھی اس فکری مجموعے میں اپنا مقام ہو گا. ہم نہیں چاہتے کہ ان عناصر کا انکار کریں. اس طرح نہیں ہے کہ امام زمانہؑ کی نگاه اور ان کا کلام روحانیت پر مشتمل اور معجزه نما نہ ہو. آپؑ کی روحانی عنایت بھی انہیں قدرتی عوامل میں سے ایک ہے.

البتہ ضروری ہے کہ ہم اس کی علمی تھیوری کو استخراج کریں اور اس بات کو واضح طور پر سمجھیں کہ “کس طرح ایک الہی رہبر اپنے نور سے معاشرے کو نجات دیتا ہے” اور واضح کریں کہ اس فکری مجموعہ میں جس میں تمام عوامل ایک دوسرے کے ساتھ مل کر معاشرے کو نجات دیتے ہیں، اس نور کا حقیقی کردار کہاں ہے.

خاص طور پر جب یہ بات واضح ہے کہ رسول خدا (ص) کے بے نظیر نور اور ان کے بعد امیرالمؤمنینؑ اور باقی اماموںؑ کی موجودگی کے باوجود دیگر عناصر کے فراہم نہ ہونے کی وجہ سے کبھی بھی وه نجات بخش اور نمونہ حکومت مکمل طور پر قائم نہ ہوئی اور تسلسل قائم نہ رکھ سکی.

#عوامانہ_انتظار

اگر ہم عوامانہ نگاه کے کچھ نکات کو ہٹا کر نجات دهنده کے موضوع پر نگاه دوڑائیں گے تو تفکر کی تازه ہوائیں ہمارا استقبال کریں گی. مثلاً اگر ہم اس بات کو قبول کر لیں کہ ظہور اور امام زمانہ (عج) کی حکومت ایک قدرتی انداز میں، دین و شریعت کے قوانین اور الہی طورطریقوں کے مطابق ہیں جنہیں تمام انبیاءؑ، اولیاء اور ہمارے معصوم اماموںؑ نے قبول کیا اور اس کے مطابق عمل کیا ہے تو پھر لازمی طور پر اسے بھی قبول کریں گے کہ آخر تک ان کی حکومت کا تسلسل بھی انہیں احکام اور الہی طورطریقوں کے مطابق قدرتی انداز میں ہو گا؛ البتہ کچھ ایسی شرایط اور الہی قوانین کے مطابق جو ابھی تک محقق نہیں ہو سکی ہیں. لہذا اس معاملے کی بہتر پہچان کے لیے ضروری ہے کہ ہم امام زمانہؑ کی حکومت کی سیاسی، اجتماعی اور انسانی طور پر تجزیہ و….. Read More »

البتہ ابتدائی طور پر حاصل ہونے والی محبت کے رابطے کا کچھ حصہ سالم فطرتیں ہیں اور کچھ حصہ بعض کلی اور ابتدائی نوعیت کی معلومات ہیں جن میں سے ممکن ہے کچھ کی سطح بہت معمولی ہو.

لیکن بات یہ ہے کہ یہ کلی اور ابتدائی معلومات آگے بڑھیں اور کامل ہوں تا کہ وه محبت کا رابطہ پائدار ہو جائے اور اسی کم ترین سطح میں باقی نہ رہے.

صحیح ہے کہ دعائے ندبہ پڑهی جانے لگی ہے اور اس کے پروگرامز میں رونق بڑھنے لگی ہے لیکن وه دعائے ندبہ جو امام زمانہ (عج) کے لیے پڑهی جانی چاہیے اور اس کے لیے بہت زیاده محبت کی ضرورت ہے، جس کی طرف خود اس دعا میں بھی اشاره ہوا ہے، وه ہماری پڑهی جانے والی دعائے ندبہ سے بہت مختلف ہے.

امام زمانہؑ کا مقدس نام دلوں میں جو بھی اثر اور مٹھاس پیدا کرتا ہے وه انتہائی قابل احترام ہے لیکن شکایت اس صورت میں ہے کہ ہم یہ چاہیں کہ یہ اسی ابتدائی اور کم از کم مقدار میں ہی باقی رہے اور ہم اسے ہی کافی سمجھ لیں.

یہ وه صورتحال ہے جس میں ہمیں عوامانہ برے اثرات کا منتظر رہنا چاہیے.

#عوامانہ_انتظار

عوامانہ نگاه کے برے اثرات میں سے ایک یہ ہے کہ انحراف اور دشمنوں کے مہدویت کے موضوع سے غلط فائده اٹھانے کا موقع فراہم ہو جاتا ہے.

“منجی کے حوالے سے عوامانہ نگاه” اس بات کا سبب بنتی ہے کہ بہت سے لوگ یہ خیال کریں کہ وه کچھ ظاہری چیزوں کے ذریعے خود کو منجی یا ان سے مرتبط فرد ثابت کر سکتے ہیں. منجی سے ارتباط رکھنے کے حوالے سے طرح طرح کے جھوٹے دعوے کرنے والے کم نہیں ہیں جو ہر تھوڑے عرصے میں سننے کو ملتے ہیں. بہائیت کے فرقے کو بھی اسی طرح کی مشکلات میں سے ایک سمجھنا چاہیے.

روایات میں بھی یہ بات ذکر ہوئی ہے کہ ظہور کے زمانے میں بہت سے انحرافی پرچم اٹھائے جائیں گے جو منجی ہونے کا دعویٰ کریں گے. اس طرح کے انحرافات کس طرح کے ماحول میں اپنی جگہ بناتے ہیں؟

– کیا “منجی کے حوالے سے عوامانہ نگاه” کے علاوه کوئی – ایسی چیز ہے جو ان انحرافات کے رائج ہونے کا سبب ہیں؟

عوامانہ نگاه دشمنوں کو موقع فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ دوستوں کے منحرف ہونے کا سبب بھی بنتی ہے.

منجی اور مہدویت کے موضوع کے حوالے سے ممکنہ انحرافات میں سے ایک یہ ہے کہ لوگوں کو صرف امام زمانہؑ سے احساساتی اور محبت کا رشتہ برقرار کرنے پر متمرکز کر دیا جائے.

یہ احساساتی رابطہ اچھی چیز ہے اور ضروری ہے کہ یہ بڑھے بھی. الہی ذمہ داریوں میں غوروفکر کرنے اور معرفت کے بڑھنے سے امام زمانہؑ کے ساتھ یہ محبت کا رشتہ بڑھے گا بھی.

لیکن “صرف” اسی رابطے پر توجہ دینا اور منتظرین کی تمام آرزؤوں کو صرف ایک خفیہ دیدار اور امام زمانہؑ کی خدمت میں پہنچنے پر منحصر کر دینا اور اس کے #اجتماعی حقائق اور لوازمات کی طرف توجہ نہ کرنا، ایک ممکنہ انحراف کی زمین فراہم کرنا ہے.

ایک ایسا انحراف جس کے باطن میں ممکن ہے کہ امام زمانہؑ کے راستے سے مخالفت کی بہت ساری چیزیں پائی جائیں، جو دراصل خالص اسلام ہے.

#عوامانہ_انتظار

اگر کوئی اپنے دینی احساسات کو ابتدائی سطح میں باقی رکھے جبکہ وقت کی ضرورت یہ ہو کہ وه اس معاملے میں اس سے زیاده ترقی کرے تو ممکن ہے اس کا یہ توقف اس کے انحراف کا سبب بن جائے.

اس طرح کا انسان ممکن ہے آہستہ آہستہ اپنے ہی دین کے خلاف اٹھ کھڑا ہو کیونکہ ان ابتدائی دینی احساسات کے وجود میں آنے کے کچھ عرصے بعد اسے ان احساسات کے مقدماتی اور ابتدائی ہونے کا احساس ہونے لگے گا اور اس کے نتیجے میں وه کوشش کرے گا کہ اس طرح کی ابتدائی سطح سے دوری اختیار کرے.

اب اگر اس صورتحال میں اس کا ابتدائی سطح کے احساسات سے فاصلہ اختیار کرنا ان احساسات کے مزید گہرا ہونے کی سمت میں نہ ہو تو ممکن ہے کہ وه ان احساسات کو ختم کر دینے اور ان سے مقابلہ کرنے کی سمت میں سفر کرے.

لہذا ضروری ہے کہ دینی احساسات کی گہرائی تک پہنچا جائے اور اس ابتدائی تعلق کو جو امام زمانہؑ کے حوالے سے پیش آیا ہے، گہرائی عطا کی جائے.

ضروری ہے کہ ہم ہوشیار رہیں کہ عامیانہ محبت ہمارا کام خراب نہ کر دے اور جب ہم اس محبت کے محتاج ہوں اس وقت ہمارے ہاتھ سے نہ نکل جائے.

عوامانہ محبت کا ایک نمونہ…

#عوامانہ_انتظار

عوامانہ نگاه کا سب سے برا اثر یہ ہے کہ ممکن ہے اس کی وجہ سے منتظرین عاقبت بخیر نہ ہو سکیں!

دوسرے الفاظ میں یہ کہ یہ بات ممکن ہے کہ وه منتظرین جو منجی اور مہدویت کے موضوع پر عوامانہ نگاه رکھتے ہیں، ظہور کے بعد امام زمانہؑ کے دشمنوں میں سے قرار پائیں! جیسا کہ روایات میں بھی اس مطلب کی طرف واضح طور پر اشاره موجود ہے کہ کچھ لوگ امام زمانہؑ کے سامنے کھڑے ہو جائیں گے اور کہیں گے کہ: …حتّى يقول كثير من الناس: ليس هذا من آل محمّد… (امام محمد باقرؑ، غیبت نعمانی، ص 231)) یعنی “یہ امام زمانہؑ نہیں ہیں، یہ پیغمبر اکرمؐ کے بیٹے نہیں ہو سکتے”.

ایسا کیوں ہے کہ وه لوگ جنہوں نے پہلے امام زمانہؑ کا انتظار کاٹا ہے، ظہور کے بعد ان کی مخالفت میں اٹھ کھڑے ہوں؟! اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے پہلے امام زمانہؑ کی شخصیت کے حوالے سے ایک خیالی اور وہمی تصویر اپنے ذہن میں بنائی تھی جو اب ظہور کے بعد آپؑ کے حقیقی اور حسین وجود کے ساتھ سازگار نہیں، جس کی وجہ سے ان کی مخالفت کر رہے ہیں.

البتہ کچھ لوگ امام زمانہؑ کی مخالفت اس وجہ سے کریں گے کہ وه اپنے نفس کی تربیت نہ کر پائے ہونگے اور امام زمانہؑ کے کچھ احکام ان کے مفادات کے خلاف ٹکراؤ کی حالت میں ہونگے، جبکہ اس ٹکراؤ کی بنیاد بھی ممکن ہے ایک طرح سے منجی کے بارے میں غلط تصوّر رکھنے میں ہی ہو.

مدینے میں یہودیوں کا بھی یہ خیال تھا کہ آنے والے پیغمبرؐ انہیں میں سے ہونگے یا کم از کم ان سے نزدیک ہونگے. وه بالکل بھی یہ تصوّر نہیں کرتے تھے کہ پیغمبرؐ کا آنا ان کے مفادات کو نقصان پہنچائے گا.

یہ اس وجہ سے تھا کہ وه آنے والے پیغمبرؐ کے بارے میں غلط تصوّر رکھتے تھے جس کی وجہ صرف یہی تھی کہ وه منجی کے موضوع پر عالمانہ نگاه نہیں رکھتے تھے.

#عوامانہ_انتظار

ہم دعائے ندبہ میں پکارتے ہیں کہ:

«مَتَي تَرَانَا وَ نَرَاكَ وَ قَدْ نَشَرْتَ لِوَاءَ النَّصْرِ تُرَي، أَ تَرَانَا نَحُفُّ بِكَ وَ أَنْتَ تَؤُمُّ الْمَلأَ وَ قَدْ مَلأَتَ الأَرْضَ عَدْلاً؟

یہ کب ہو گا کہ آپؑ ہمیں دیکھیں اور ہم آپؑ کو، اس حالت میں کہ جب آپؑ نے کامیابی اور نصرت کا پرچم بلند کیا ہوا ہو اور سب اسے دیکھیں؟

آیا ہم ایسے دن کو پا سکتے ہیں جب ہم نے آپؑ کو حلقے میں گھیرا ہوا ہو، اس حالت میں کہ جب آپؑ لوگوں کے امام اور رہبر ہوں اور زمین کو عدل و انصاف سے بھر چکے ہوں؟»

یعنی میں اس وقت آپؑ کے دیدار کا عاشق ہوں جب آپ امام ہوں اور عالمی حکومت قائم کر چکے ہوں. نہ یہ کہ اے کاش میں آپؑ کو کسی گوشہ و کنار میں دیکھ لوں!

اگرچہ ضروری ہے کہ ہم اس بات کا اقرار کریں کہ عام طور پر اگر امام زمانہؑ کے دیدار کی خواہش کسی بھی دل میں پیدا ہو جائے، چاہے انفرادی طور پر ہی صحیح، اس دل میں “ظہور” اور “دنیا کی نجات” کا شوق بھی پیدا ہو ہی جائے گا، اور یہ دونوں ایک دوسرے کے لازم و ملزوم ہیں،

لیکن صرف امام زمانہؑ کے دیدار کے حوالے سے تبلیغ کرنے میں ایسے گمراہانہ کام انجام دیے جاتے ہیں جن سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے.

امام زمانہؑ کی سلامتی کی دعا میں…

#عوامانہ_انتظار

اگر ہم ہر ایک عوامانہ نگاہ کے برے اثرات کے بارے میں بحث کرنا چاہیں تو بات بہت لمبی ہو جائے گی لیکن عوامانہ نگاه کا ایک اور اہم برا اثر جس کا ذکر ضروری ہے وه یہ ہے کہ اگر ظہور کے معجزات کے حوالے سے ہمارا اعتقاد، اور صرف انہیں معجزات کو حالات صحیح ہونے کا سبب سمجھنا اگر عوامانہ نگاه کی حد ہی میں باقی رہے، جس کی خصوصیات پہلے بیان ہوئیں، تو دین کا کارآمد ہونا اور ہمارے دینی اعتقادات زیر سوال آ جائیں گے.

اور پھر اس طرح کہ کچھ لوگ کہیں گے:

– “دیکھا الله کا دین قابل اجراء نہیں تھا؟ تم نے دیکھا کہ کسی بھی پیغمبرؑ کو کامیابی حاصل نہیں ہوئی؟

– اور وه لوگوں کو توحید اور خدا پر ایمان کے پرچم تلے جمع نہیں کر سکے اور ایک مستحکم اور ہر جگہ پھیلی حکومت قائم نہ کر سکے؟

– آخرکار خود خدا نے معجزے کے ذریعے سارے کاموں کو صحیح کر دیا”.

تو پھر وه لوگ جو دین پر عمل کرنے  کے لیے اتنی تکلیفیں برداشت کرتے تھے تا کہ اپنی اصلاح کر سکیں، ایک بیکار کام انجام دیتے تھے؟!

اگر یہ بات طے ہو کہ لوگوں کا امام زمانہؑ کی حکومت کو قبول کرنا اور اس کا تسلسل کچھ الہی قوانین اور طورطریقوں کے معطل ہونے کے ذریعے وجود میں آئے تو اس وقت پتہ چلے گا کہ الله کا دین انہیں قوانین اور قدرتی طورطریقوں کی مدد سے جو اب تک دنیا میں نافذ تھے، قابل اجراء نہیں!

اور اس بات کا نتیجہ یہ ہے کہ ابھی سے ہی احکام خدا کا عملی نہ ہونا ثابت ہو جائے گا (نعوذبالله)!!

#عوامانہ_انتظار

بالآخر ہمارے لیے خوش رہنا اور تفریح کرنا بھی ضروری ہے. روح کے لیے بہترین سکون کی بات یہ ہے کہ ہم کسی کو شدیداً پسند کرتے ہوں، ایسی محبت جو ہمارے پورے وجود کو لبریز کر دے اور ہمارے اندر آگ لگا دے. اگر عشق و محبت کی گرمی کسی کے اندر آگ نہ لگائے تو پھر وه آتش دان کے کنارے بیٹھتا ہے.

ہم بے وقوف بھی نہیں ہیں کہ کسی سے خواه مخواه اتنی زیاده محبت کرنے لگیں. محبت کی کمی کا بھی شکار نہیں کہ چھوٹی موٹی محبت سے بہل جائیں اور اسے زیاده تصوّر کریں. لہذا عشق آسانی سے ہاتھ نہیں آتا!

واضح ہے کہ عاشق بننے کا اہم ترین راستہ ایک ایسے معشوق کا ملنا ہے جو عشق کیے جانے کے قابل ہو. الله تعالی نے بھی عاشق بننے کے لیے راستہ فراہم کیا ہے اور اسے آسان بنایا ہے، اور وه راستہ یہ ہے کہ ہر زمانے میں ایک ایسی شخصیت “امام” کے نام سے عطا فرمائی ہے جس سے عشق کیا جا سکے. یہ کسی بھی امام کی اہم ترین خصوصیت ہے. اگر کوئی امامؑ سے عشق نہ کر سکے تو اسے چاہیے کہ اپنے آپ کو ملامت کرے.

صرف زبانی دعووں سے بھی عاشق نہیں بنا جا سکتا بلکہ ضروری ہے کہ ایک مقام پر پہنچیں ورنہ فرشتے ہمیں جواب دیں گے کہ:

“تم سچ نہیں کہہ رہے کیونکہ وه ہوں یا نہ ہوں تم اپنی زندگی تو گزارو گے ہی، اس لیے کہ تم نے اپنا دل ہزار جگہ مشغول کر لیا ہے. تم نے اپنے لیے اتنی جعلی اطمینان کی چیزیں بنا لی ہیں کہ امامؑ کی نوبت ہی نہیں آتی! تو کہاں یہ بات کہ تمہارا دل امام زمانہؑ کے لیے وقف ہو جائے!”.

#عوامانہ_انتظار

#عوامانہ_نگاه کے علاوه #عوامانہ_محبت کے حوالے سے بھی بات کی جا سکتی ہے. البتہ ضروری ہے کہ ہم ان دونوں میں فرق کی طرف متوجہ رہیں.

عوامانہ محبت اگرچہ زیاده احترام کیے جانے کے قابل ہے لیکن ممکن ہے کہ کچھ ایسی مشکلات کا شکار ہو جائے کہ ان میں سے کچھ تلافی کیے جانے کے قابل نہیں!!

عوامانہ محبت سے مراد ایسی چاہت ہے جو سطحی ہو یا بغیر ستون کی جس کی نابودی ہر لمحے ممکن ہو.

کبھی کبھار ہم عوامانہ محبتوں کی اصطلاح کو ایسی محبتوں کے لیے استعمال کر سکتے ہیں جو ایک چیز کو صحیح طور پر نہ سمجھنے یا غلط تصوّر کی وجہ سے پیدا ہوئی ہو. قدرتی طور پر یہ غلط سوچ اسی عوامانہ نگاه کی وجہ سے ہے جس کا ذکر کیا جا چکا.

امیرالمؤمنینؑ نے فرمایا: مَوَدَّةُ العَوامِّ تَنقَطِعُ كانقِطاعِ السَّحابِ ؛ و تَنقَشِعُ كَما يَنقَشِعُ السَّرابُ (غررالحکم، حدیث 1129)) یعنی “عوامانہ دوستی بادلوں کی طرح قطع ہو جاتی ہے اور سراب کی طرح مٹ جاتی ہے”.

البتہ اس قسم کی محبت کے حوالے سے مثبت نگاه بھی ممکن ہے اور وه اس وقت جب اسے ایک قدرتی اور فطری محبت کے معنی میں لیا جائے اگرچہ اس کی شدت بہت معمولی ہو. بہت سے لوگوں کا اولیاء الہی سے لگاؤ، احترام اور ان کی پہچان اسی طرح کی محبت سے آغاز ہوتی ہے. ضروری ہے کہ اس طرح کی محبت کو سراہا جائے جو بہت سے لوگوں میں رائج ہے بلکہ اس کے اہل افراد میں ترویج بھی کی جائے لیکن ساتھ ہی ساتھ عالمانہ نگاه فراہم کرنے کے ذریعے اسے مستحکم کیا جائے اور بڑهایا جائے.

کبھی کبھار لوگوں میں موجود مختلف عوامانہ لگاؤ غلط تحلیل کرنے کی وجہ سے معمولی شمار کیے جاتے ہیں جبکہ انہیں عوام میں سے ایسے افراد مل جاتے ہیں جو ایسی گہری معرفت اور پختہ یقین کے حامل ہوتے ہیں کہ نمایاں افراد اس مقام کی حسرت کرتے ہیں.

واضح ہے کہ جو لوگ بظاہر زیاده پڑھے لکھے نہیں اور زیاده معلومات نہیں رکھتے انہیں عوامانہ نہیں سمجھنا چاہیے اور ان کی محبتوں کو عوامانہ محبتوں میں شامل نہیں کر دینا چاہیے. اور دوسری طرف سے…

#عوامانہ_انتظار

اس عاشقی کے اہم ترین فوائد میں سے ایک یہ ہے کہ دین کی تبلیغ کے لیے دین کے عقلی اور منطقی پہلوؤں کے بیان کرنے کے بعد اس عشق کی آگ جو دین نے تمہارے اندر ایجاد کی ہے، دوسروں کو بھی دکھا سکتے ہو تا کہ سب یہ دیکھ لیں کہ یہ دین کس حد تک تمہیں سیراب کر سکا اور تم اس دین سے کس حد تک (روحانی) لذت اٹھاتے ہو، اپنی نماز سے، عبادت سے، ولایت سے، جو اب یہ چاہتے ہو کہ دوسروں کو بھی اس دین کی طرف دعوت دو.

دوسرے لوگ زبان بے زبانی میں تم سے پوچھتے ہیں کہ:

تم جو امام زمانہؑ کو پہچانتے ہو اور ان سے محبت کرتے ہو، تمہارے مولا نے کس قدر تمہارے دل کو تسخیر کیا ہے؟

یہ ولایت جس کا تم دم بھرتے ہو، اس کا اثر خود تمہارے وجود میں کس قدر گہرا ہے؟ اس نے تمہاری زندگی کو دوسروں کی زندگی سے کتنا مختلف بنایا ہے؟ تمہاری زندگی میں کتنا آرام و سکوں، خوشی اور انرجی کو زیاده کیا ہے؟

اگر ہم جو انتظار کے دعوے دار ہیں ان سوالوں کے مناسب جواب نہ دے سکیں تو نہ صرف امام زمانہؑ کے لیے اچھے مبلغ نہیں بن سکتے بلکہ ہمارا وجود اور ہمارا دعوی امام زمانہؑ کے قابلِ عشق وجود کے لیے نقصانده ثابت ہو گا!

#عوامانہ_انتظار

دوسری طرف سے اس بات کا بھی خیال رکھیں کہ مہدویت اور امام زمانہ (عج) کے موضوع کو عقلی اور علمی طور پر سمجھنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ پہلو اس موضوع کے احساساتی اور محبت کے پہلو کے مدمقابل ہے. یہ ایک غلطی ہے کہ ہم ان دو پہلوؤں کو ایک دوسرے کے مدمقابل قرار دیں. جیسے کہ کچھ لوگ اپنی کوتاه فکری کی وجہ سے امام زمانہؑ کے موضوع پر علمی نظر رکھنے کی نصیحت کرنے کے ساتھ ساتھ آپؑ سے محبت کے پہلو پر حملہ کر دیتے ہیں اور اسے ایک معمولی اور غیر بنیادی چیز قرار دیتے ہیں.

کوئی یہ نہ سمجھے کہ امام زمانہؑ کے حوالے سے عقلی اور منطقی انداز میں سمجھنے کی اہمیت ان کے لیے گریہ کرنے سے زیاده ہے! اگر کسی کی معرفت امام زمانہؑ کے حوالے سے زیاده ہوئی تو وه آنسؤوں کے بجائے خون کے آنسو روئے گا!

ہم یہ نہ سوچیں کہ اگر ہمارے پاس علم آ گیا تو پھر ہم گریہ کرنے اور دعائے ندبہ کو چھوڑ دیں گے بلکہ الٹا اگر علم آ گیا تو اس وقت ہم صحیح معنوں میں دعائے ندبہ پڑھنے والے بنیں گے، اس وقت ہمیں سمجھ آئے گا کہ ہم کس لیے آنسو بہا رہے ہیں. یہ معرفت کا عجیب اثر ہے.

کبھی کبھار کچھ لوگ نہ جاننے کی وجہ سے یہ کہتے ہیں کہ: “ارے بھائی امام زمانہؑ کے لیے بہت رو لیا، اب معرفت حاصل کرنے کی باری ہے”، اس بات سے غفلت اختیار کرتے ہوئے کہ اگر معرفت بڑھے تو گریہ بھی بڑھ جاتا ہے.

لہذا اگر کسی کی معرفت بڑھ جائے لیکن اس کی تڑپ، آنسو اور آہیں نہ بڑھیں تو اسے اپنی انسانیت میں تردید کرنی چاہیے.

یہ ایک اصول ہے کہ علم خوف کو بڑهاتا ہے. اسی لیے خداوند عالَم فرماتا ہے کہ إِنَّمَا يَخْشَى اللَّـهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ (سوره فاطر: 28) یعنی “اللہ سے ڈرنے والے اس کے بندوں میں صرف صاحبانِ معرفت ہیں”.

#عوامانہ_انتظار

اس روایت کی بنیاد پر جس میں عوامانہ محبت کے منقطع ہو جانے کا ذکر موجود ہے (اور وه پہلے میسج نمبر 28 میں بیان ہو چکی)، امام زمانہؑ سے شدید محبت کا ایک اور اثر یہ ہے کہ آپؑ اس صورت میں ہمیں اپنے یار و مددگار کے طور پر انتخاب کر لیں گے کیونکہ اس صورت میں آپؑ دیکھ لیں گے کہ ہماری محبت گارنٹی شده اور پائدار ہے.

کچھ نہیں معلوم کہ امام زمانہؑ کسی ایسے شخص کو اپنی مدد کے لیے انتخاب کریں جو پائدار محبت نہ رکھتا ہو؟!

لہذا اس شدید محبت کو معمولی نہیں سمجھا جا سکتا اور نہ ہی محبت کے کم ہونے کو برداشت کیا جا سکتا ہے.

#عاشقانہ_محبت_ایک_منتظر_کی_تمام_معرفتوں_اور_روحانی_کمالات_کا_نچوڑ_ہے.

البتہ ایک منتظر کے دل میں امام زمانہؑ سے عشق کے علاوه فرج یعنی ظہور کے حوالے سے بھی شدید محبت پائی جاتی ہے کہ اس حوالے سے بھی اس کے مناسب مقام پر تجزیہ و تحلیل کی جانی چاہیے اور ہم بعد کی ابحاث میں اس بارے میں گفتگو کریں گے (ان شاء الله).

اس بارگاه میں عمومی طور پر وارد ہونا غیر اختیاری طور پر خود بخود اور آسان ہے لیکن خصوصی طور پر وارد ہونا اختیاری اور سخت ہے اور دنیا کے پاکیزه افراد نے اس عظیم بارگاه میں پہنچنے کے لیے آرزوئیں اور بہت زیاده گریہ و زاری کی ہے!

#عوامانہ_انتظار

عوامانہ محبت کا ایک نمونہ “ظہور” پر توجہ کیے بغیر اور “فلسفہ غیبت اور فلسفہ انتظار” پر توجہ کیے بغیر امام زمانہؑ کے دیدار کو اہمیت دینا ہے.

صحیح ہے کہ اس طرح کی محبت سے بھی احترام کے ساتھ پیش آنا چاہیے لیکن سوال یہ ہے کہ کس طرح ان کے عاشق ہونے کا دعوی اور ان کے دیدار کی تمنا رکھی جائے لیکن خود امام زمانہؑ کے مقاصد کی طرف سے بے اعتنائی برتی جائے؟! آیت الله بہجتؒ فرماتے ہیں کہ:

– “کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ ہمارے آقا و مولا حضرت ولی عصر (عج) غمگین ہوں اور ہم خوشحال؟! وه تو اپنے چاہنے والوں پر پڑنے والی مصیبتوں کی وجہ سے گریہ کریں لیکن ہم ہنسیں بولیں اور خوشحال ہوں اور پھر اسی حالت میں اپنے آپ کو ان کا اطاعت گزار بھی سمجھیں؟!”.

– “امام زمانہؑ صرف ایسے لوگوں کو چاہتے ہیں جن کا مقصد صرف وه خود ہوں. وه لوگ فرج کے منتظر ہیں جو خدا کے لیے اور اسی کی راه میں امام زمانہؑ کے منتظر ہوں، نہ اپنی ذاتی خواہشات کے پورا ہونے کے لیے!”.

– “صرف امام زمانہؑ کو ڈهونڈ نکالنا اور انہیں دیکھ لینا اہم نہیں … ہم میں سے ہر کوئی اپنی ذاتی خواہشات کے پورا ہونے کی فکر میں لگا ہوا ہے، کوئی بھی امام زمانہؑ کی فکر میں نہیں کہ جن کا فیض سب تک پہنچتا ہے اور وه اہم ترین ضرورت ہیں”.

یہ لوگ جو “صرف” امام زمانہؑ کے دیدار کی آرزو لیے ہوئے ہیں اور انہیں “عالم انسانیت کو درپیش مصیبتوں” اور “امام زمانہؑ کی ذمہ داریوں” سے کوئی مطلب نہیں، یہ افراد عام طور پر امام زمانہؑ کے لیے کوئی مشکل حل نہیں کر سکتے.

البتہ ممکن ہے کہ اگر وه سچے ہوں تو امام زمانہؑ ان کے کام آئیں.

#عوامانہ_انتظار

ہمیں سوچنے سمجھنے اور غوروفکر کی صلاحیت کے ساتھ خلق کیا گیا ہے اور ہماری روح کا کچھ حصہ عقل نامی چیز پر مشتمل ہے. آگاہی کا نور جتنا زیاده ہو گا اتنا ہی زیاده سمجھے جانے کے قابل ہو گا. علم حاصل کرنے کا ایک طریقہ غوروفکر ہے جس کے بہت سے مختلف طریقے موجود ہیں.

غوروفکر کے ذریعے اپنے کسی احساس کے بارے میں علم حاصل کیا جا سکتا ہے اور یہ علم خود ایک نئے احساس کے ایجاد ہونے کا باعث بن سکتا ہے. بہرحال ضروری ہے کہ ہم کوشش کریں تا کہ اپنے اندر #انتظار کے احساس کو محسوس کریں اور اس کے حوالے سے اپنے علم کو بڑهائیں.

کسی مطلب کو اچھی طرح سمجھنے کا ایک طریقہ کیمسٹری میں انجام دیے جانے والے طریقے کی طرح ہے کہ ان مفاہیم کو تجزیہ و تحلیل کریں تا کہ اسے تشکیل دینے والے اصلی عناصر کو پہچان سکیں.

انتظار کے مفہوم کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے اسے وجود میں لانے والے عناصر کو سمجھنا ضروری ہے. ہر منتظر اپنے انتظار کے حوالے سے غوروفکر کر کے یہ پتہ چلائے کہ وه کونسی چیزیں ہیں جس کی وجہ سے اس کے اندر انتظار کی یہ کیفیت پیدا ہوئی ہے.

یقیناً وه انتظار جسے رسول خداؐ نے اپنی امّت کا افضل ترین عمل قرار دیا ہے “ایک جانبی، معمولی اور کم اہمیت چیز نہیں ہو سکتی” یا “کوئی ایسی چیز نہیں ہو سکتی جو ہماری روحانی ترقی میں زیاده اثر انداز نہ ہو”. انتظار کی اہمیت اور اس کے قیمتی آثار، انتظار کے مفہوم کی تعریف اور اسے تشکیل دینے والے عناصر کی پہچان کی ضرورت کو مزید واضح کرتے ہیں.

#عالمانہ_انتظار

امام زمانہؑ کی سلامتی  کی مشہور دعا (اللهم کن لولیک الحجةؑ بن الحسنؑ…) میں ہم ان کے دیدار کے لیے بالکل بھی دعا نہیں کرتے بلکہ آپؑ کی سلامتی کے لیے دعا کرتے ہیں تا کہ ان کا فرج آن پہنچے اور آپؑ اپنی اس حکومت کو قائم کریں.

یہ ایک عاشقانہ اور عارفانہ خلوص کی انتہا ہے جس میں انسان اپنے آپ کو مکمل طور پر نظر انداز کرتا ہے اور صرف اپنے محبوب کو مدنظر قرار دیتا ہے.

دعائے عہد میں بھی جس کا ہر صبح پڑها جانا مستحب ہے اور امام خمینیؒ اس بات کا اعتقاد رکھتے تھے کہ اس دعا کا پڑھنا انسان کی قسمت پر اثر انداز ہوتا ہے، آپؑ کے دیدار کی درخواست کرنے سے پہلے یہ دعا کرتے ہیں:

اللّٰهُمَّ إِنْ حالَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ الْمَوْتُ الَّذِي جَعَلْتَهُ عَلَىٰ عِبادِكَ حَتْماً مَقْضِيّاً فَأَخْرِجْنِي مِنْ قَبْرِي مُؤْتَزِراً كَفَنِي ، شاهِراً سَيْفِي ، مُجَرِّداً قَناتِي

جس کا اجمالی ترجمہ یہ ہے کہ: خدایا اگر میں مر بھی جاؤں تو مجھے زنده کر دینا تا کہ امام زمانہؑ کی رکاب میں جنگ کروں.

پھر کہتے ہیں:

اللّٰهُمَّ أَرِنِي الطَّلْعَةَ الرَّشِيدَةَ یعنی اس خوبصورت چہرے کو مجھے دکھلا دے.

یعنی وه چیز جو میرے لیے اہم ہے ان کی سربراہی ہے، ان کی حکومت ہے، حق کی حاکمیت ہے.

یہی مطلب دعائے عہد کے دیگر حصوں میں اور اسی طرح امام زمانہؑ سے منصوب دیگر دعاؤں میں بہت واضح ہے.

#عوامانہ_انتظار

#انتظار کو تشکیل دینے والے عناصر پر بحث کرنے سے پہلے تھوڑا بہت انتظار کی اقسام پر بھی نظر دوڑاتے ہیں تا کہ یہ پتہ چل جائے کہ ہم کس قسم کے انتظار کی تعریف کرنا چاہتے ہیں.

انتظار کسی بھی چیز کے حوالے سے ہو سکتا ہے لیکن رائج ترین اور اس کی اہم ترین قسموں میں سے ایک انتظار، فرج اور مشکلات کے حل کا انتظار ہے. موعود یعنی امام زمانہؑ کا انتظار، فرج اور مشکلات کے حل کے انتظار کا سب سے واضح مصداق ہے.

وه تمام افراد فرج کے منتظرین میں شمار ہوتے ہیں جو مشکلات کے حل، ناامنی وغیره کے لیے دعاگو اور آئنده کے لیے پرامید ہیں. البتہ انتظار کی ان اقسام کی کیفیت کے درجے بہت مختلف ہیں: جیسے:

– کچھ افراد پوری دنیا کے لیے فرج کے منتظر ہیں لیکن کچھ صرف اپنی ذاتی مشکلات کے حل (فرج) کے انتظار میں ہیں؛

– کچھ لوگ اپنی تمام مشکلات کے حل کے منتظر جبکہ کچھ صرف چند مشکلات کے حل کی امید لگائے بیٹھے ہیں.

اس وعده دیے گئے فرج کے انتظار سے مراد پوری انسانیت کی مشکلات کے حل ہونے کا دیا جانے والا وعده ہے. اور جب ہم کسی بھی انتظار کے حوالے سے بات کرتے ہیں تو اس سے مراد مہدی موعودؑ کے ہاتھوں انہیں خاص حالات کا حصول ہے جن کا دائره بہت وسیع ہے اور اس میں انتظار کی بہت سی قسمیں شامل ہیں.

#عالمانہ_انتظار

قدیم فارسی میں اکثراً عشق سے مراد شدید محبت تھی. اور عام طور پر ایسی محبت زمینی اور مادی پہلو سے زیادہ روحانی اور عرفانی پہلو کی حامل ہے کیونکہ مادی اور زمینی محبتیں عام طور پر زیاده عروج تک نہیں پہنچتیں یا اگر پہنچ بھی جائے تو جلد ہی زوال کا شکار ہو جاتی ہیں. لہذا بہتر ہے کہ ہم بھی اس لفظ کو اس روحانی اور عرفانی معنی کے علاوه استعمال نہ کریں. حتی محبت کے عام روابط میں بھی اسے استعمال کرنے سے گریز کریں.

عشق کی خاص نشانی اپنے آپ کو قربان کر دینا ہے. اگر محبت اتنی زیاده شدید ہو کہ انسان اپنے محبوب پر قربان ہونے کے لیے تیار ہو جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ عشق حاصل ہو گیا ہے.

اس توضیح کے مطابق اس لفظ کا ایک بہترین استعمال امام زمانہ (ارواحنا فداه) سے محبت کے حوالے سے ہے جن سے اس طرح کی شدید محبت رکھی جا سکتی ہے.

اس بات کو نظر انداز کرتے ہوئے کہ امام زمانہؑ سے کم محبت نہیں رکھی جا سکتی اور ہر کوئی جو ان سے قلبی اور احساساتی رابطہ برقرار کرے آہستہ آہستہ ان سے شدید محبت کرنے لگے گا، بنیادی طور پر انسان کی ضرورت ہے کہ وه کسی سے عاشقانہ محبت کرتا ہو اور اس کے عشق سے اپنی زندگی کو اطمینان عطا کرے.

یہ شدید محبت امام زمانہؑ کے علاوه کسی سے بھی نہیں ہو سکتی اور یہ بھی نہیں ہو سکتا کہ ان کے ساتھ ایسی محبت نہ ہو.

اگر ہماری محبت آپؑ سے اتنی شدید نہیں تو پتہ یہ چلتا ہے کہ ہماری روح مشکل کا شکار ہے ورنہ امام زمانہؑ اس سے زیاده محبت کے قابل ہیں.

کیونکہ شدید محبت کا حصول صرف…

#عوامانہ_انتظار

تمام انسان آسانی کے ساتھ اپنے وجود میں انتظار کے احساس کو محسوس کر سکتے ہیں. یہ کوئی مشکل کام نہیں. البتہ مختلف چیزوں کے منتظر ہونے کی وجہ سے انتظار کا احساس مختلف طرح کا ہوتا ہے اور اس کے مختلف درجات ہوتے ہیں.

انتظار کے مفہوم کو بہتر طریقے سے سمجھنے کے لیے اسے تشکیل دینے والے عناصر کو بہتر طریقے سے پہچاننے کی ضرورت ہے تاکہ اس طرح انتظار کے مفہوم کی زیاده بہتر تعریف حاصل ہو.

ہر منتظر اپنے انتظار کے بارے میں غوروفکر کر کے اس بات کو پہچان سکتا ہے کہ وه کون سے عناصر اور خصوصیات تھیں جن کی وجہ سے اس کے اندر انتظار کا احساس پیدا ہوا ہے.

اس گفتگو میں ہم انتظار کے مفہوم کے عناصر کے حوالے سے تحقیق کریں گے تاکہ ان کی پہچان کے ذریعے انتظار کی دقیق اور عالمانہ تعریف حاصل ہو سکے. اس مقصد کے حصول کے لیے پانچ عناصر کے بارے میں بحث کی جائے گی:

1) موجوده حالت پر معترض ہونا

2) مطلوبہ حالت سے آگاہی

3) مطلوبہ حالت کے حصول پر اعتقاد

4) مطلوبہ حالت کا شوق

5) مطلوبہ حالت کے حصول کے لیے اقدام

#عالمانہ_انتظار

کیونکہ شدید محبت کا حصول #معرفت، #عمل_صالح اور #محکم_ایمان کے بغیر ممکن نہیں اس لیے عوامانہ محبت کے منفی اثرات سے بچنے کا اہم ترین ذریعہ امام زمانہؑ سے عاشقانہ رابطے کا حصول ہے. کیونکہ جو عاشق بننے کا اراده کر لیتا ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ اس عشق کی بنیادوں کو مضبوط کرنے کی طرف متوجہ ہو جائے اور اس حوالے سے ضروری علم حاصل کرے اور اس کے مطابق اعمال انجام دے.

بنیادی طور پر عوامانہ محبت کی اہم ترین علامت محبت کا کم اور ابتدائی مرحلے میں ہونا ہے جو معرفت اور تقوی نہ ہونے کا قدرتی نتیجہ ہے. محبت کے برے اثرات سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ محبت کو بڑهایا جائے. وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِّلَّهِ (سوره بقرة: 165) یعنی “جو صاحب ایمان ہیں وہ سب سے بڑھ کر خدا سے محبت کرتے ہیں”.

یہاں تک امام زمانہؑ سے عاشقانہ محبت کے دو فائدے اور ضرورتیں بیان ہوئیں یعنی:

1) امام زمانہؑ سے عاشقانہ محبت خود ہماری زندگی کے اطمینان کے لیے ضروری ہے؛

2) امام زمانہؑ سے عوامانہ محبت کے منفی اثرات سے بچنے کا بہترین راستہ ان سے عاشقانہ محبت کا حصول ہے.

ضروری ہے کہ ہم عشق کے ساتھ زندگی گزاریں تا کہ اس عشق کی وجہ سے زندگی کے مختلف کاموں کو انجام دینے کا شوق پیدا ہو یعنی اس کی وجہ سے تعلیم حاصل کریں، گھرانہ تشکیل دیں وغیره.

اور اگر ایسا عشق موجود نہ ہو تو ہم جلد ہی ٹھنڈے پڑ جائیں گے اور بہت سارے نقصانات سے امان میں نہیں رہیں گے جو دراصل دوسروں کے حقوق پر تجاوز اور خدا کی نافرمانی ہے! ہمارا اخلاق خراب ہو جائے گا اور روحانی توازن کو کھو بیٹھیں گے!

#عوامانہ_انتظار

وه انسان جو موجوده حالت کا مخالف نہیں اور اعتراض نہیں کرتا وه منتظر ہونے سے زیاده قدامت پسند ہونے کے زیاده نزدیک ہے اور کیا پتہ کہ شاید دنیا کی حالت تبدیل نہ ہونے پر خوش بھی ہو.

موجوده حالت پر راضی نہ رہنا اور اعتراض کرنا ہی وه چیز ہے جو انسانی فکر کو مطلوبہ حالت تک پہنچنے کے لیے فعال کرتی ہے اور انسان کے دل میں انتظار کے احساس کو وجود میں لاتی ہے.

یہ اعتراض انسانی زندگی اور اس کی حرکت کے لیے اتنا زیاده اہم ہے کہ اس کا نہ ہونا انسان کے لیے جیتے جی مرده ہونے کا باعث بنتا ہے.

اعتراض کرنا انسان میں موجود کمال حاصل کرنے کے جذبے کا نتیجہ ہے. یہ نہیں ہو سکتا کہ انسان کی فطرت میں تقرّب کا جذبہ رکھا گیا ہو لیکن کمی اور خرابیوں کے مقابلے میں بے قراری اور بیزاری کا احساس نہ کرے یا حتی ان سے فرار نہ کرے. انتظار عقلانیت کی نشانی ہے.

انسان کا اعتراض مختلف چیزوں پر ہو سکتا ہے، ایک سلب شده حق سے لے کر ایک چھپے عشق تک. جدائی پر عاشقانہ انداز میں اعتراض کرنا دراصل انتظار کرنے والوں کا ایک عارفانہ عمل ہے.

#عالمانہ_انتظار

انتظار کے احساس کے وجود میں آنے کا مقدمہ موجوده حالت پر معترض ہونا ہے. وه شخص جو موجوده حالت پر راضی ہو وه کسی دوسری حالت کا جو پہلی حالت سے بہتر ہو منتظر نہیں بن سکتا. اگرچہ یہ اعتراض ممکن ہے انتظار کا اندرونی مقدمہ نہ ہو بلکہ بیرونی مقدمہ ہو لیکن انتظار کے تشکیل پانے میں اس کے اہم اور بنیادی کردار کی وجہ سے اسے ہم نے انتظار کو تشکیل دینے والے عناصر میں سب سے پہلے قرار دیا ہے.

اعتراض کے درجوں میں بھی فرق ہو سکتا ہے اور قدرتی طور پر اعتراض کی شدت جس حد تک کم ہو گی اتنا ہی اس شخص میں انتظار کی طاقت کم ہو جائے گی.

ممکن ہے اعتراض کی شدت اتنی زیاده ہو کہ منتظر حالت کو تبدیل کرنے کا مطالبہ کرنے لگے اور یہ بھی ممکن ہے کہ شدت اتنی کم ہو کہ صرف چند معمولی تبدیلیوں کی درخواست کی حد تک باقی ره جائے.

دوسری طرف سے اس اعتراض کی وجہ جتنی زیاده منطقی ہو اتنا ہی اس کا انتظار بھی دائمی ہو گا. اس لیے وه اعتراض جو جلد گذر جانے والے فائدوں یا ہواء نفسانی کی وجہ سے وجود میں آتے ہیں، چھوٹے موٹے موانع کی وجہ سے ختم بھی ہو جاتے ہیں.

تمام انسانوں میں اعتراض کی حالت ایک طریقے سے وجود میں نہیں آتی مثلاً بعض افراد ہر حال میں اعتراض اور مخالفت کرنے سے دوری اختیار کرتے ہیں، اگرچہ فی الحال مجھے اس بارے میں بات نہیں کرنی کہ ہر حال میں قناعت اختیار کرنا فضیلت نہیں لیکن وه افراد جو آرام مزاج ہیں اور بالکل اعتراض نہیں کرتے، ان میں انتظار کا احساس بہتر حالت حاصل ہونے کی چاہت کے ذریعے آغاز ہو، اور جب یہ چاہت شدید ہو گی تو قدرتی طور پر اعتراض کی صورت اختیار کر لے گی.

#عالمانہ_انتظار

جب اعتراض کے عنصر پر امام زمانہ (عج) کے انتظار کے حوالے سے غور کیا جائے تو کچھ نئے نکات ہمارے ہاتھ آتے ہیں:

ایک انتہائی اہم نکتہ یہ ہے کہ یہ اعتراض ایک جائز اعتراض ہے. اسی وجہ سے دعائے افتتاح میں اور اسی طرح غیبت کے حوالے سے دیگر وارد شده دعاؤں میں ہمیں سکھاتے ہیں کہ ہم ولی خدا کی غیبت کے حوالے سے خدا کی بارگاه میں شکوه کریں.

اللَّهُمَّ إِنَّا نَشْكُو إِلَيْكَ فَقْدَ نَبِيِّنَا وَ غَيْبَةَ إِمَامِنَا (دعائے افتتاح) یعنی “اے الله! ہم ہمارے پیغمبرؐ کے نہ ہونے اور ہمارے ولی کی غیبت کا تیری بارگاه میں شکوه کرتے ہیں”. اور اس اعتراض کو مزید بڑھانے کے لیے ایک دوسرے اعتراض کے برابر قرار دیا ہے: وَ كَثْرَةَ عَدُوِّنَا وَ قِلَّةَ عَدَدِنَا یعنی “(اور تیری بارگاه میں شکوه کرتے ہیں) ہمارے دشمنوں کی کثرت اور ہماری تعداد کے کم ہونے پر”.

بنیادی طور پر ممکن ہے کہ غیبت کی حکمتوں میں سے ایک حکمت اسی مقدس اعتراض کا وجود میں لایا جانا ہو تا کہ امام زمانہؑ کے ظہور اور ان کی موجودگی کو سمجھنے کے حوالے سے انسانوں میں، خاص طور پر مسلمانوں اور شیعوں میں صلاحیت پیدا ہو.

ساتھ ہی ساتھ یہ بھی کہ ایک معصوم امامؑ کے نور کے سائے میں زندگی گزارنا ہمارا ایک ایسا حق ہے جو تاریخ میں ظالموں کے ظلم کی وجہ سے سلب ہوا ہے.

یہ ایک فضیلت ہے کہ امام زمانہؑ کے ساتھ ہونے کی خواہش بھی رکھیں اور ان کی غیبت پر شکوه بھی کریں.

#عالمانہ_انتظار

“غیبت پر اعتراض” کا نتیجہ “ظہور کا انتظار” ہے. اور یہ نارضایتی جتنی شدید ہو گی انتظار بھی اتنا ہی گہرا ہو گا اور منتظر کا دل بھی اتنا ہی نرم ہو جائے گا. دعائے ندبہ ان نامطلوب حالات پر اعتراض سے بھری ہوئی ہے جن کا ہم شکار ہیں.

حتی اس جگہ جہاں امام حسینؑ کی شہادت کے حوالے سے اپنے اعتراض کو بیان کرنا چاہتے ہیں تو “شہادت” کے لفظ سے استفاده نہیں کرتے بلکہ “مقتول” کا لفظ استعمال کرتے ہیں اور مظلوموں کے خون کا انتقام لینے والے بن جاتے ہیں: أَیْنَ الطّالِبُ بِدَمِ الْمَقْتُولِ بِكَرْبَلاءَ یعنی “کہاں ہیں وه جو کربلا کے مقتول کے انتقام کے طالب ہیں؟

ضروری ہے کہ دعائے ندبہ میں موجود شکووں کی طرف رجوع کیا جائے اور ان میں سے ہر ایک شکوے کو دل میں بویا جائے. ضروری ہے کہ دل میں امام زمانہؑ کی غیبت کے مختلف آثار کو بو کر آنسؤوں سے ان کی آبیاری کی جائے تا کہ مناسب مقدار میں انتظار کے پھل حاصل ہوں.

یہ کتنی اہم بات ہے کہ انسان ایک ایسے مقام پر پہنچ جائے کہ ابھی ابھی اس مفسر قرآن اور دین کی نشانیوں کو زنده کرنے والے کی غیبت پر اعتراض کرنے والا بن جائے تا کہ اس کا انتظار با معنی ہو جائے اور وه حقیقی منتظرین میں شامل ہو جائے.

جب ہم دعائے ندبہ میں یہ پڑھتے ہیں کہ أَیْنَ مُحْیِی مَعالِمِ الدِّینِ وَأَهْلِهِ یعنی “کہاں ہے وه جو دین، ایمان اور اہل ایمان کو زنده کرے؟ تو پھر ضروری ہے کہ یہ کہا جائے: “اس طرح کی آرزو رکھنے والے ہیں کہاں؟!” یہ نہ کہیں کہ “ہم کس طرح حقیقی منتظر بن سکتے ہیں؟” بلکہ یہ کہیں کہ “ہم کس طرح حقیقی معترض بن سکتے ہیں؟”.

#عالمانہ_انتظار

فرج اور ظہور کا انتظار ایجاد کرنے کے لیے ضروری ہے کہ دل میں اعتراض کو زنده کیا جائے اور اس اعتراض کو مضبوط بنانے کے لیے ضروری ہے کہ مزید دلائل تک دسترسی حاصل کی جائے.

وه لوگ جو امام زمانہؑ کی غیر موجودگی میں بھی اپنی موجوده حالت پر راضی ہیں یا ان کے اعتراضات اپنی ذاتی معمولی ضروریات سے آگے نہیں بڑھتے وه یقینی طور پر امام زمانہؑ کے منتظرین میں شمار نہیں ہوتے. یہ وه لوگ ہیں جنہیں نہ صرف اس بات پر کوئی اعتراض نہیں کہ دوسرے انسان خدا کو نہیں پہچانتے یا طاغوتی افراد کے ظلم تلے دبے ہیں بلکہ انہیں خود اپنے بھی بہت سی نعمتوں سے محروم ہونے پر کوئی اعتراض نہیں.

پستی اور کم پر راضی ہو جانا انسان کے دنیا کے پست درجات میں سقوط کر جانے کا باعث بنتا ہے. اس دنیا میں انسان کی حرکت یا اوپر کی جانب ہے یا نیچے کی طرف اور یہ چیز دنیا میں انسان کی زندگی کی ذاتی خصوصیات میں سے ہے. یا تم زنده، تروتازه اور خوشحال ہو یا مرده، درمیانی راستہ موجود نہیں.

شاید حالات اتنے خراب ہو جائیں کہ اعتراض کرنے کے علاوه کوئی چاره ہی نہ ہو. صرف اسی حالت میں سست اور منفعل افراد بھی معترض بن سکتے ہیں. ہم خرابیوں سے غافل ہیں اور جب تک واضح طور پر ہر طرف پھیلے ظلم اور فساد کا شکار نہ ہوں، ہم انہیں نہیں دیکھتے.

اگر دنیا میں موجود برائیوں کے عروج تک پہنچنے سے پہلے، انسانی معاشرے کی تباہی کے خطرے کی وجہ سے انسان کے اعتراض کی پکار سے دنیا بھر جائے تو امام زمانہؑ کا ظہور بھی جلدی اور کم تر تکلیفوں کے ساتھ انجام پا جائے گا.

#عالمانہ_انتظار

اگر ہمارا اعتراض صرف اس بات پر ہو کہ ہماری زندگیاں کیوں تھوڑی بہت بہتر نہیں ہوتیں، وه بھی صرف تھوڑی بہتر، اور وه بھی صرف ظاہری طور پر، ہمیں کیوں مغرب کی طرح آسائشیں حاصل نہیں؟ تو یہ ہمارا حق ہے کہ ہم نابود ہو جائیں. اور اس صورتحال میں ہماری یقینی قسمت یہ ہے کہ جو کچھ ہمارے پاس ہے اسے بھی کھو دیں اور خالی ہاتھ بیٹھے رہیں کیونکہ ہمارے اعتراض کی سطح دنیاوی سعادت کی حد تک بھی نہیں، آخرت کی سعادت کی تو بات ہی چھوڑیں.

حقیقی منتظر وه ہے جو غیبت کے زمانے کی کچھ ظاہری طور پر زیب و زینت والی چیزوں سے بھی دھوکہ نہ کھائے، وه ان سے راضی نہیں ہوتا اور اعتراض کرنے سے پیچھے نہیں ہٹتا.

حقیقی منتظر ان نامطلوب حالات کے وجود میں آنے کی وجوہات کو بھی اچھی طرح جانتا ہے اور ان کے حوالے سے معترض ہوتا ہے. وه جانتا ہے کہ ظلم کی جڑ “کفر” ہے اور عدالت کی بنیاد “ولایت”.

حقیقی منتظر عوام کی طرح صرف ظلم کے خلاف کھڑا نہیں ہوتا بلکہ وه کسی بھی قسم کے کفر کو برداشت نہیں کرتا اور اسے ہی ظلم و ستم کی اصلی وجہ سمجھتا ہے.

اسی طرح حقیقی منتظر ہر ولایت سے دوری کرنے والے سے مقابلہ کرتا ہے کیونکہ وه جانتا ہے کہ “صرف اہلِ ولایت عدالت کے مطابق عمل کرنے والے ہیں”.

#عالمانہ_انتظار

شروع میں انسان موجوده حالات کے خلاف اعتراض کرتا ہے لیکن آہستہ آہستہ یہ اعتراض ان حالات کے اصلی ذمہ داروں کے خلاف تبدیل ہو جاتا ہے.

دعائے ندبہ میں اس طرح کی عبارت بہت زیاده ملتی ہے: أَیْنَ قاصِمُ شَوْکَهِ الْمُعْتَدینَ؟ اَيْنَ هادِمُ اَبْنِيَةِ الشِّرْكِ وَالنِّفاقِ؟ یعنی “کہاں ہے ظالموں کے جاه و جلال کو نابود کرنے والا؟ کہاں ہے وه شرک و نفاق کی بنیاد اور مراکز کو ویران کرنے والا؟”. اس سے پتہ چلتا ہے کہ اس اعتراض کے مخاطبین بھی موجود ہیں.

لہذا ایک منتظر اسی پہلے عنصر میں یعنی اعتراض کے حوالے سے دو طرح کا عکس العمل رکھتا ہے یعنی وه کچھ افراد کی دشمنی اختیار کر لیتا ہے.

ایک منتظر سارے لوگوں کے ساتھ ایک طرح کا رابطہ نہیں رکھتا یعنی سب سے محبت کا رابطہ نہیں رکھتا. اگرچہ وه دنیا کے تمام انسانوں کو پسند کرتا ہے اور جب وه فرج کے لیے آنسو بہاتا ہے تو دراصل وه تمام انسانوں کے لیے ہی آنسو بہاتا ہے لیکن اس کے باوجود وه کچھ لوگوں سے دشمنی بھی رکھتا ہے.

وه دنیا میں برے حالات کے وجود میں لانے والے پلید افراد کے خلاف اعتراض کرتا ہے. یعنی اسی طرح جیسے ظالمانہ کاموں پر اعتراض کرتا ہے اسی طرح ظالموں سے بھی دشمنی رکھتا ہے.

یہ نہیں ہو سکتا کہ کوئی ایک محبت اور عدالت پر مشتمل فرج تو چاہتا ہو لیکن اپنے زمانے کے ظالم اور پست افراد کا دشمن نہ ہو.

#عالمانہ_انتظار

کچھ لوگ ظلم کو پسند نہیں کرتے لیکن جب ظالم کی بات آتی ہے تو اس سے دشمنی کرنے کی ہمت نہیں رکھتے؛ یا پھر امن و امان کے حصول کی لالچ میں ظالم کے ساتھ صلح کر کے اس سے اپنی دشمنی کو بھلا دیتے ہیں.

البتہ ایک منتظر ہر برے اور فاسد انسان سے دشمنی نہیں کرتا بلکہ وه اس کی نجات اور ہدایت کا خواہاں ہوتا ہے اور اس چیز کے لیے کوشش بھی کرتا ہے لیکن وه فساد اور تباہی کا میدان فراہم کرنے والوں اور مفسدوں کے ساتھ سازباز نہیں کرتا.

“دراصل منتظر صرف ان لوگوں کے ساتھ دشمنی اختیار کرتا ہے جو انسانوں کے منحرف ہونے اور دنیا کے حالات خراب کرنے کے ذمہ دار ہیں”.

لہذا وه لوگ جو یہ چاہتے ہیں کہ تمام انسان حتی فاسد افراد بھی ان کے ساتھ اچھی طرح پیش آئیں یا کم از کم یہ چاہتے ہیں کہ فاسدوں سے لڑائی نہ ہو تو ایسے افراد منتظرین کے دائرے میں جگہ نہیں پا سکتے.

بنیادی طور پر ظالموں اور مفسدوں کے ساتھ صلح کی رغبت رکھنا ایک ایسی پلید چیز ہے کہ اگر کسی مومن کی روح میں سرایت کر جائے تو اس کے ایمان کو تباه کر کے رکھ دے گی.

یہ وه پلید خواہش ہے جو مومنین کو اس حد تک گرا سکتی ہے کہ وه انسانیت کے دشمنوں کی خوشی کے لیے یا بغیر درد سر کی زندگی گزارنے کے لیے پیغمبر خدا (ص) کے فرزند کا سر تن سے جدا کر دیں!! اور یہ سب اس لیے ہے کہ خدا ایسے افراد کا دشمن بن جاتا ہے جن کے لیے “ظالموں کا راضی ہونا اور ان کا غضب” “الله تعالی کی رضا و غضب” سے زیاده اہم بن جاتا ہے.

ایسے افراد جن کے لیے اپنی زندگی کو آسان بنانے کے لیے یہ بات اہم نہیں کہ وه ظالموں کی قدرت کے پھیلنے اور اس کے مضبوطی کی سبب بنیں!!

الله تعالی ایسے مومنین کو آسانی سے محو کر دیتا ہے جو فاسد لوگوں کی طرف جھکاؤ پیدا کر لیتے ہیں اور دوسرے گروه کو ان کی جگہ لے آتا ہے.

“ایمان والو تم میں سے جو بھی اپنے دین سے پلٹ جائے گا تو عنقریب خدا ایک قوم کو لے آئے گا جو اس کی محبوب اور اس سے محبت کرنے والی، مومنین کے سامنے خاکسار اور کفار کے سامنے صاحبِ عزت، راهِ خدا میں جہاد کرنے والی اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہ کرنے والی ہوگی. یہ فضلِ خدا ہے وہ جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے اور وہ صاحبِ وسعت اور علیم و دانا بھی ہے” (سوره مائده: 54).

#عالمانہ_انتظار

اگر ہم اس بات پر زیاده توجہ کریں تو ہمیں ایسے بہت سے نکات ملیں گے جو اسلامی تاریخ کے دردناک ترین واقعات کا سبب بنے. اہلبیت علیہم السلام کے بہت سارے مصائب انہیں دردناک نکات کی یاد دلاتے ہیں.

عمرسعد عاشوره سے کچھ دن پہلے تک کہتا تھا: “مجھے ڈر لگتا ہے کہ ابن زیاد آخرکار میرے ہاتھوں کو امام حسینؑ کے خون سے رنگین نہ کر دے”.

اور جب شمر نے عمرسعد کی ابن زیاد کو مشوروں اور خط وغیره لکھنے کے ذریعے صلح کی کوششوں کو ناکام بنا دیا تو عمرسعد نے شمر سے کہا: “وای ہو تجھ پر! خدا تجھے گھر پہنچنا نصیب نہ کرے! خدا اس پیغام کو جو تو میرے لیے لایا ہے خراب کر دے. خدا کی قسم مجھے معلوم ہے تو نے ابن زیاد کو اس مشورے سے پھرا دیا ہے جو میں نے اس کے لیے لکھا تھا اور وه کام جس کی اصلاح کی مجھے امید تھی تو نے اسے خراب کر دیا ہے”.

لیکن ابھی کچھ دیر بھی نہ گذری تھی کہ اس نے امام حسینؑ اور ان کے اصحاب کی طرف تیر پھینکا اور کہا کہ: “لوگوں امیر کے سامنے گواہی دینا کہ وه پہلا شخص جس نے ان کی طرف تیر پھینکا وه میں تھا” اور یہ وہی موقع تھا جس کے بعد بارش کی طرح تیر برسنا شروع ہو گئے.

اور پھر وه اس مقام تک گر گیا کہ وه خود اپنی طرف سے، بغیر اس بات کے کہ اس کے پست فطرت آقاؤں نے اس سے چاہا ہو، امام حسینؑ کے 6 ماه کے بچے کو بھی شہید کر دیتا ہے!!

#عالمانہ_انتظار

انتظار اور ظالموں کے ساتھ سازباز دو مختلف چیزیں ہیں. معاملہ صرف پسند نہ کرنے اور “دشمنی رکھنے” پر ہی ختم نہیں ہو جاتا بلکہ ممکن ہے عملی طور پر دشمنی کرنی بھی پڑ جائے. منتظر مظلوم ہے لیکن مُنظَلِم (۱) نہیں.

جب انتظار کی وادی میں انتقام لینے والے کا خیمہ لگایا جاتا ہے تو پھر منتظر کے لیے ممکن نہیں ہے کہ وه ایک لمحے کے لیے بھی ظالموں کے خیمے میں پایا جائے. منتظر ڈرتا نہیں اور ہمیشہ عدل کے دشمنوں کے خلاف کھڑا ہو جاتا ہے. لہذا صرف وہی لوگ منتظر قرار پا سکتے ہیں جو اعتراض کرنے کے قیمت چکانے کے لیے تیار ہوں.

کچھ لوگ ایسے ہیں کہ حتی خدا اور اس کے دشمنوں کے درمیان بھی واسطہ بننے کے لیے تیار ہیں!! مصلحت اور عاقلانہ عمل کو بہانہ بنا کر (نہ حقیقی دلیل کی بنیاد پر) اتنے زیاده عاقل ہو جاتے ہیں کہ حق اور باطل کے درمیان بھی ایک درمیانی راستے کا انتخاب کر لیتے ہیں اور اس طریقے سے بے غیرتی کی وجہ سے حاصل شده آرام و سکون حاصل کر لیتے ہیں.

ایسے افراد اپنی آرام پسندی کی توجیہ کے لیے عجیب و غریب بہانے بھی تراشتے ہیں جیسے “اس طرح ان کی ہدایت کا امکان ہے” یا “ہمیں پوری نوع انسانیت سے محبت ہے” وغیره. وه اس بات سے غافل ہیں کہ الله تعالی نے ان سے بہت پہلے ہی ظالموں کے ہدایت قبول نہ کرنے کا اعلان کر دیا ہے اور انہیں اس امید سے ناامید کر دیا ہے (مثلاً سوره مائده کی آیت نمبر 51 ملاحظہ ہو).

میں اپنے اچھے دوستوں کو مشوره دیتا ہوں کہ دشمن سے مقابلے کے آداب سیکھنے کے لیے قرآن، روایات، دعائے ندبہ جیسی دعاؤں اور امام خمینیؒ کے کلام کو پڑھیں اور کبھی بھی ظالموں سے مقابلے کی بے تابی کو نہ بھلائیں.

(۱) یعنی خود اپنی مرضی سے ڈر یا کچھ منافع کے حصول کے لیے ظلم کو قبول کر لینا، جبکہ مظلوم وه ہے جو مقابلے کی طاقت نہ ہونے کی وجہ سے ظلم کا شکار ہو جاتا ہے.

#عالمانہ_انتظار

البتہ موجوده حالت پر معترض ہونا اپنی تمام تر اچھائیوں کے باوجود دیگر معاملات کی طرح خرابیوں کا شکار بھی ہو سکتا ہے. اور ممکن ہے کہ یہ خرابیاں ظہور کے لیے مقدمہ فراہم کرنے والے معاشرے میں انتہائی خطرناک انداز میں ظاہر ہوں.

معترض ہونے کے حوالے سے ایک بیماری اعتراض کرنے میں مبالغہ آرائی کا شکار ہونا ہے. معترض ہونے میں مبالغہ آرائی سے مراد یہ ہے کہ موجوده حالات کو نامناسب انداز میں تجزیہ و تحلیل کیا جائے اور موجوده خوبیوں کو نظرانداز کر دیا جائے، یا حتی مایوسی اور ناامیدی کا شکار ہو جانا جو خود اعتراض کے حوالے سے ایک مستقل بیماری شمار ہو سکتی ہے.

اعتراض میں مبالغہ آرائی نہ صرف یہ کہ انسان میں ایک منفی جذبہ اور سخت اخلاق وجود میں لے آتی ہے اور انتظار کی حالت میں معترض ہونے کی خوبصورتی کو بھی بدصورتی میں تبدیل کر دیتی ہے بلکہ ممکن ہے کہ جلدبازی اور موجوده مثبت نکات کی تخریب کاری کا باعث بنے. ضروری ہے کہ ان بیماریوں سے ہوشیار رہا جائے.

دیگر افراد کے مقابلے میں جوان اس بیماری کا زیاده شکار ہو سکتے ہیں. عام طور پر جب موجوده حالات کے حوالے سے اعتراض کی بات کی جائے تو ایک بے صبرا جوان اور اس کی آئیڈیل پسند طبیعت بہت جلد اس خرابی یعنی “مبالغہ آرائی” کا شکار ہو سکتی ہے.

بعض اوقات اگر جوان موجوده حالت کی تجزیہ و تحلیل میں مبالغہ آرائی کا مظاہره کرے اور ان پر اعتراض کرنا چاہے تو ممکن ہے کہ وه اپنی من مانی پر اتر آئے یا مایوسی کا شکار ہو جائے.

#عالمانہ_انتظار

“البتہ ایک منتظر کس طرح اپنے اعتراض کا مظاہره کرتا ہے یہ بات مختلف حالات میں مختلف شکل اختیار کر لیتی ہے”.

منتظر کبھی اپنے اس اعتراض کے اظہار کے لیے بیان کرنے کا طریقہ اپناتا ہے تو کبھی نالہ و فریاد کے ذریعے اپنے اعتراض کا اظہار کرتا ہے، کبھی عاقلانہ انداز میں دلائل پیش کرتا ہے تو کبھی عاشقانہ گریہ و زاری کے ذریعے اپنے اعتراض کو دل میں اتار دیتا ہے. یہ وه مقام ہے جہاں ایک اعتراض کرنے والے منتظر کے عاشقانہ انداز دیکھنے اور سننے والے ہو جاتے ہیں:

عزِیزٌ عَلَیَّ أَنْ أَرَی الْخَلْقَ وَ لا تُرَی وَ لا أَسْمَعَ [أَسْمَعُ‏] لَكَ حَسِیسا وَ لا نَجْوَی عَزِیزٌ عَلَیَّ أَنْ تُحِیطَ بِكَ دُونِیَ الْبَلْوَی وَ لا یَنَالَكَ مِنِّی ضَجِیجٌ وَ لا شَكْوَی…

یعنی “میرے لیے کتنا سخت ہے کہ ساری مخلوقات کو دیکھوں لیکن آپؑ کو نہ دیکھوں؛ اور آپؑ کی کوئی بھی آواز حتی آرام سے بھی میرے کانوں تک نہ پہنچے. میرے لیے کتنا سخت ہے کہ رنج و بلا نے صرف آپؑ کو گھیرا ہوا ہے اور میں آپؑ کے رنج و بلا میں شریک نہیں ہوں اور میرے رونے اور شکوه کرنے کی آواز آپؑ تک نہ پہنچے…” (دعائے ندبہ). کس طرح ممکن ہے کہ اس طرح کے عاشقانہ اعتراض کی توضیح دی جائے؟

ضروری ہے کہ تمہاری روح اتنی لطیف ہو جائے کہ ان کی غیبت کو اپنے پورے اور اچھے وجود کے ساتھ احساس کر سکو اور تمہاری روح کے خلیے ان سے دوری کے درد کی فریاد بلند کریں. یہ فریاد روحانی نیکی اور دل کی رقت کا عروج ہے جو صرف اعتراض کرنے والے منتظرین کے دل میں وجود میں آتی ہے. کل بھی شاید صرف یہی افراد ان کے ظہور کے شکرگذار بھی ہوں.

البتہ منتظر کا اعتراض صرف اس کی فریادوں کی حد تک باقی نہیں رہتا بلکہ اس کے اعتراض کو اس کی سیاسی روش میں اور دیگر میدانوں میں کی جانے والی مجاہدت میں بھی دیکھا جا سکتا ہے. اسی وجہ سے ایک منتظر زنده دل ہوتا ہے.

وه انسان جو دشمن رکھتا ہو اور اپنے دشمن کے موجود ہونے کو جانتا ہو تو وه چوکس اور فعال ہو جاتا ہے. لیکن اگر کوئی شخص اپنے دشمنوں سے دشمنی نہ رکھے تو یہ پیش بینی کی جا سکتی ہے کہ وه کتنا ذلیل، معمولی اور اثر قبول کرنے والا ہو گا.

#عالمانہ_انتظار

معترض ہونے کے حوالے سے دوسری بیماری مطلوبہ حالت تک پہنچنے کے حوالے سے ناامیدی کا شکار ہو جانا ہے جو موجوده حالت میں موجود صلاحیتوں کو نظرانداز کرنے کی وجہ سے پیش آتی ہے.

بعض اوقات انسان اتنی زیاده مشکلات کا شکار ہو جاتا ہے کہ اس کی سانس اکھڑنے لگتی ہے اور وه مایوسی اور ناامیدی کی وادی میں چلا جاتا ہے.

ہمیں یہ جاننا چاہیے کہ الله تعالی بدترین حالات میں بھی نجات کے راستے فراہم کرتا ہے جنہیں ڈھونڈنا ضروری ہے اور لازمی ہے کہ ہم ان کی قدر جانیں.

#عالمانہ_انتظار

معترض ہونے کے حوالے سے ایک اور بیماری مکمل طور پر منفی سوچ کا شکار ہو جانا ہے جس کا نتیجہ خواه مخواه کے بے معنی افکار ہیں. ہمیں چاہیے کہ کسی بھی صورت میں موجوده حالت کو مکمل طور پر خراب خیال نہ کریں. اسی طرح تمام انسانوں کو برا سمجھنا یا تمام برے انسانوں کو ہدایت نہ پانے کے قابل سمجھنا بھی غلط ہے.

موجوده حالت کے حوالے سے آسان ترین اور ساتھ ہی نامعقول ترین نگاه موجوده حالت کے بارے میں مکمل طور پر منفی سوچ کا حامل ہو جانا ہے جس کے لیے کسی غوروفکر اور عقلانیت کی ضرورت نہیں اور یہ ابتدائی سطح کے احساسات کے انسان کی سوچ پر غلبے کی نشانی ہے.

وه شخص جو تجزیہ و تحلیل کرنے کے حوالے سے کمزوری کا شکار ہے وه ہر چیز کو ایک ہی طرح دیکھتا ہے اور اسے ہر چیز خراب نظر آتی ہے.

اگر اعتراض کی بنیادیں صحیح نہ ہوں تو انتظار کا انجام بھی اچھا نہیں ہو گا اور وه راستے کے درمیان ہی نابود ہو جائے گا، یا ممکن ہے کہ مطلوبہ حالت تک پہنچنے کے بعد بھی غلطی سے جاری رہے اور یہ تیسری صورت پہلی دو صورتوں سے زیاده بدتر ہے. جیسے کہ بہت سے منتظرین اور موجوده حالت پر معترضین امام زمانہ (عج) کے ظہور کے بعد بھی اپنے خیالی اعتراضات کو جاری رکھیں گے اور آپؑ کو تکلیف پہنچائیں گے.

بہت سے لوگوں کے اعتراض کی وجہ ان کی منفی طبیعت ہے نہ عقل اور ان کا حق پرست ہونا. ایسے لوگ اگرچہ آسانی سے حقیقی معترض لوگوں اور منتظرین میں شامل ہو جاتے ہیں لیکن انتہائی معمولی امتحان یا انتہائی چھوٹی سی پیچیدگی کے پیش آنے پر ان سے جدا ہو جاتے ہیں؛ اور اس سے زیاده کہ وه اپنے محکم ایمان کا مظاہره کریں، اپنے برے اخلاق کا مظاہره کرتے ہیں.

#عالمانہ_انتظار

مطلوبہ حالت کے حوالے سے معلومات جتنی زیاده شفاف، عقلانی، اسلامی تعلیمات کے مطابق اور تفصیلی ہونگی اتنا ہی ظہور کا انتظار عالمانہ اور عاشقانہ ہو گا.

یہ “امام زمانہ (عج) کی حکومت کی خصوصیات کو واضح کرنا” ایک ایسا کام ہے جو علمی گروہوں اور علمی مراکز میں انجام پانا چاہیے، اب چاہے یہ کام حوزه علمیہ میں ہو چاہے یونیورسٹیز میں.

یہ بات کہ مہدوی معاشرے کی حقیقیت اور ولی خدا کی حاکمیت انسانی زندگی کے حوالے سے پیش کی گئی غلط تھیوریز کے باطل ہونے کو ثابت کر سکتی ہے، ہمارے مقدس نظام اور انقلاب اسلامی میں کسی حد تک تجربہ ہو چکی ہے.

جب تجرباتی علوم میں موجود ڈهیر سارے “یہ نہیں ہو سکتا” اور “اس بات کا کوئی امکان نہیں” جیسی تھیوریز ایران میں آنے والے انقلاب اسلامی میں اپنا اثر کھو دیتی ہیں اور اس ولایی قوم کی ایک کے بعد دوسری کامیابی ان غیر الہی تفکرات کے خیالی پلاؤ ہونے کو ثابت کرتی ہیں تو قدرتی طور پر یہی داستان بڑی سطح پر بھی انہیں اثرات کی حامل ہو گی اور دانشمندوں کو اپنی پیش کرده تھیوریز میں نظرثانی کرنے پر مجبور کر دے گی؛

البتہ اگر “استکبار کی پروپیگنڈا مشینری” اور “بیمار انسانوں کی نفسیات” اس بات کی اجازت دے تو!!

#عالمانہ_انتظار

اعتراض کے بارے میں پیش آنے والی بیماریوں میں سے ایک بیماری یہ بھی ہے کہ کچھ لوگ اس مقدس نظام اور نورانی انقلاب کے ذریعے ہاتھ آنے والے اس عظیم موقع کے حوالے سے ناقدری کا مظاہره کرتے ہیں، اور موجوده حالت پر اعتراض کرنے کے بہانے اسلامی معاشرے میں موجود مثبت چیزوں کو نظرانداز کرتے ہوئے ظہور امام زمانہ (عج) کے لیے فراہم ہونے والے مقدمات کو نظرانداز کر دیتے ہیں.

ایسے لوگ مطلوبہ چیزوں کے فراہم نہ ہونے پر اعتراض کو انحرافات کے حوالے سے اعتراض سے مکس کر دیتے ہیں اور اپنی شدید غلط سوچ کے نتیجے میں دنیا کے ظالموں اور ستمگروں کے دامن میں غوطہ ور ہو جاتے ہیں.

اعتراض سے متعلق بیماریوں سے بچنے کے بارے میں اہم نکتہ یہ ہے کہ معترض لازمی طور پر مطلوبہ حالت تک پہنچنے کے لیے فراہم شده راستے پر توجہ کرے اور محبوب کی طرف کھلنے والے ہر دریچے کو کھلے دل سے قبول کرے.

ایک اعتراض کرنے والا منتظر جمہوری اسلامی کے مقدس نظام کی خدمت کو امام زمانہؑ کے خیمے میں خدمت کی طرح واجب اور انقلاب اسلامی کو نجات کے ساحل تک پہنچنے کا راستہ سمجھتا ہے اگرچہ یہ نظام امام زمانہؑ کی حکومت کے معیارات سے جتنے بھی فاصلے پر ہے.

جیسے کہ رسول اکرمؐ سے نقل شده روایت میں یہ بات صراحت سے موجود ہے کہ يَخْرُجُ ناسٌ مِنَ الْمَشْرِقِ فَيُوَطِّؤُون لِلْمَهْدي سُلطانَهُ یعنی مشرق کی جانب سے لوگ قیام کریں گے اور امام مہدیؑ کی حکومت کا میدان تیار کریں گے. امام خمینیؒ اور رہبر معظم نے بھی بارہا اس بات کی طرف اشاره کیا ہے.

محبوب کی دوری پر عاشقانہ اعتراض کرنا اس وقت حقیقی بات ہے جب محبوب کی طرف سے آنے والی ہر ٹھنڈی ہوا منتظر کے لیے زندگی بخشنے والی ثابت ہو.

#عالمانہ_انتظار

مطلوبہ حالت کے بارے میں شفاف انداز سے جاننے کا ایک اور فائده یہ ہے کہ ہمارے لیے آج کے راستے اور معاشرے میں موجوده مشکلات سے عبور کرنے کے حوالے سے رہنمائی ملے گی.

ہمارے لیے ضروری ہے کہ مہدوی معاشرے کی خصوصیات کو اپنے سامنے واضح کریں اور پھر اپنی موجوده حالت اور اس مطلوبہ حالت میں فاصلے کو پہچانیں اور پھر مطلوبہ حالت کی سمت میں حرکت شروع کر دیں،

کیونکہ ضروری ہے کہ اس وعده دی گئی حالت کی کچھ خصوصیات، جہاں تک ہمارے لیے ممکن ہو، خود ہمارے ہاتھوں حاصل کی جانی چاہیے، اور یہ ظہور کے لیے مقدمات فراہم کرنے کا لازمہ ہے جو ہم شیعوں کی تاریخی ذمہ داری ہے.

جس طرح ہمارے معاشرے کے لیے مدینة النبی (ص) سے بہت زیاده درس لینا ضروری ہے اسی طرح ضروری ہے کہ مہدوی معاشرے سے بھی بہت سارے درس سیکھے.

ہمارے معاشرے کو چاہیے کہ مہدوی معاشرے سے درس حاصل کر کے ایسی بہت سی مشکلات سے نجات حاصل کرے جو اسلام کے ابتدائی زمانے میں موجود تھیں اور ممکن ہے کہ ہمارے معاشرے میں بھی موجود ہوں.

اگرچہ ہم معصومین (ع) کی نورانی زندگی کی تاریخ پر فخر کرتے ہیں اور اس سے بہت زیاده درس حاصل کرتے ہیں لیکن زیاده تر چیزیں جو اس تاریخ میں ہمیں ملتی ہیں وه اولیاء خدا کی مظلومیت ہے. تو پھر مہدوی معاشرے میں غوروفکر کر کے ہم اپنی معلومات کی تکمیل کر سکتے ہیں جو ولایت کے اقتدار کے عروج کا زمانہ ہے.

#عالمانہ_انتظار

انتظار کا دوسرا عنصر مطلوبہ حالت سے آگاہی حاصل کرنا ہے یعنی اس حالت کے بارے میں جاننا کہ جہاں تک ہم پہنچ سکتے ہیں لیکن فی الحال وه حالت ہمیں حاصل نہیں.

مطلوبہ حالت کے حوالے سے نہ جاننا اس بات کا سبب بنتا ہے کہ ہم موجوده حالت کو بھی صحیح طریقے سے نہ سمجھ پائیں اور اس کی صحیح تجزیہ و تحلیل نہ کر سکیں کیونکہ موجوده زمانے کے حالات جاننے اور اس میں بچاؤ کے اقدامات کے بارے میں ہماری سمجھ کا ایک حصہ مطلوبہ حالت کے جاننے پر منحصر ہے.

اور اگر ہم مطلوبہ حالت کو نہ جانیں تو پھر ہم مجبوراً مغرب اور مشرق کے تعلیمی اداروں کے فرسوده ماڈلز سے اپنا دل خوش کریں گے اور اپنی موجوده حالت کو کفر کی سرزمین کے ناقص اور غیرانسانی معیاروں سے جانچیں گے!

ہم صرف مہدوی معاشرے کی خصوصیات کو جاننے کی صورت میں ہی غیبت کے زمانے کی حالت (موجوده حالت) پر گریہ کناں بن سکتے ہیں اور اس معاشرے کے لیے بےتابی دکھا سکتے ہیں؛

ورنہ جو ان تلخ حالات میں زندگی گزارنے کی عادت کر لے اور ایک بہترین زندگی کے حصول کے ممکن ہونے سے غافل ہو جائے تو پھر وه ایک بہتر حالت کا منتظر نہیں بن سکتا. ایسا انسان اپنی زندگی کی تمام انفرادی اور اجتماعی کمیوں کو قبول کر لیتا ہے اور انہیں ناگزیر تصوّر کرتا ہے.

موجوده حالت پر اعتراض اور مطلوبہ حالت کا تصوّر ایک دوسرے کے لیے ضروری ہیں. بنیادی طور مطلوبہ حالت کے بارے میں جاننا انتظار کے احساس کے لیے انتہائی ضروری ہے، یہاں تک کہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ انتظار کے احساس کی تقویت کی ایک راه اسی معرفت کا بڑهنا ہے.

خود مطلوبہ حالت کے بارے میں جاننا بھی بہت سارے فوائد کا حامل ہے کہ وه کیسی حالت ہے؟ حتی اگر اس کے نتیجے میں انتظار کی کیفیت پیدا نہ بھی ہو. اس کا ایک فائده ماضی کی صحیح تجزیہ و تحلیل اور انسانی زندگی کے حوالے سے بہت سے بنیادی سوالات کے جوابات کا حصول ہے.

#عالمانہ_انتظار

مطلوبہ حالت کا حصول صرف اسی صورت میں ممکن ہے کہ سارے لوگ امام زمانہ (عج) کے مقاصد کے حصول میں ان کی ہمراہی کریں.

لیکن انسانی تاریخ کا تلخ تجربہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ انسانوں کی اکثریت الله تعالی کے احکامات کو قبول کرنے سے انکار کرتی ہے.

لہذا یہ کس طرح ممکن ہے کہ ظہور کے بعد لوگ بڑے پیمانے پر اور محکم طریقے سے حق کی پیروی کریں گے اور امام زمانہؑ کی حکومت کے آخر تک قائم رہنے کا سبب بنیں گے؟! کیا حق کے خلاف سوچنے کی صلاحیت ختم ہو جائے گی یا باطل افکار کے بارے میں بات ہی نہیں کی جا سکے گی؟!

اس سوال کے جواب کو حق کی حاکمیت کے ایک اہم راز میں تلاش کیا جانا چاہیے.

شاید مکمل الہی ولایت کی حاکمیت کا اہم ترین راز یہ ہو کہ اس طرح کی حکومت میں، خاص طور پر جب وه اپنے اقتدار کے عروج پر ہو، دھوکہ دہی اور زورزبردستی ختم ہو جائے گی اور اسی طرح طاغوت کے دور کے خاتمے اور طاغوتوں کی مختلف قسم کی قیدوں سے انسانی آزادی کی صورت میں ان کی ہدایت بہت اچھی طرح سے ممکن ہو سکے گی.

اس صورتحال میں انتہائی قدرتی انداز میں انسانوں کی واضح اکثریت عقلی اور قلبی طور پر حق کو قبول کر لیں گے اور خود بخود دین کے حوالے سے صحیح مؤقف کو اپنائیں گے؛ وہی مؤقف جو ان کی فطرت کا تقاضا ہے اور انبیاء الہی نے اس پر بہت زیاده زور دیا ہے.

#عالمانہ_انتظار

مطلوبہ حالت کی پہچان ایک ایسی روشنی کے طور پر ثابت ہو سکتی ہے کہ جس کے نور کے سائے میں بدبختی کا شکار انسانیت کا مشاہده کیا جا سکے. یہ آگاہی انسان کی توقعات کو بڑهاتی ہے اور دنیا میں قائم موجوده نظام کے خلاف ایک ہر طرف پھیلے اعتراض کا مقدمہ فراہم کرتی ہے.

ولی الله الاعظم امام زمانہ (عج) کی حکومت کی روحانی فضا میں ایک بہتر زندگی کے ممکن ہونے کی خبر انسانی زندگی کے مستقبل کے حوالے سے پیش کیے گئے تمام باطل افکار اور تھیوریز کے باطل ہونے اور بہت سے علوم میں چھپی جہالتوں کو آشکارا کر دے گی.

حتی اگر لوگ ظہور اور دنیا کے انجام کے بارے میں دینی اعتقادات پر اعتقاد نہ بھی رکھتے ہوں تب بھی کم از کم ان دینی عقائد کا نتیجہ یہ ہو گا کہ لوگ اب تک مختلف علوم کے عنوان سے مشکلات کے حل کے لیے پیش کیے جانے والے راستوں میں شک و تردید کا شکار ہو جائیں گے.

#مہدوی_معاشرے کی خبر دانشمندوں کے لیے غوروفکر کی نئی راہیں کھول دے گی اور انسانیت کے سامنے زندگی کے حوالے سے سوچ و فکر کے نئے افق کھول دے گی.

اگر ہماری روایات غیبت کے زمانے میں امام زمانہؑ کے دلربا وجود کی برکت کو اس سورج سے تشبیہ کرتی ہیں جو بادلوں کے پیچھے ہو تو شاید اس کی ایک حد تک وجہ یہی آپؑ کی حکومت کے بارے میں آگاہی کا حصول ہو.

ابھی جب کہ ہم غیبت کے زمانے میں ہیں تو یہ ممکن ہے کہ ہم اس زمانے کے حوالے سے آگاہی کے حصول اور اس زمانے کی خصوصیات میں غوروفکر کے ذریعے اپنے راستے کو روشن کریں، ویسے ہی جیسے ہم بادلوں کے پیچھے سے ظاہر ہونے والے سورج کی روشنی سے فائده اٹھاتے ہیں.

اگر دنیا کے منصف مزاج اور بے غرض دانشمند صرف مہدوی معاشرے کے حوالے سے غوروفکر کریں تو وه اس کی تصدیق کریں گے اور اس کے نتیجے میں اس کے اعتقادی مقدمات کو بھی قبول کر لیں گے.

#عالمانہ_انتظار

انتظار کا آخری عنصر “عمل” ہے. مطلوبہ حالت تک پہنچنے کے لیے اقدام کرنا یا کم از کم اقدام کرنے کے جذبے کا ہونا، انتظار کی حالت کو انسان کے وجود میں مستحکم کر دیتا ہے.

جہاں تک ممکن ہو ظہور کے لیے میدان فراہم کرنے اور مقدمات فراہم کرنے کے لیے اقدام اور عمل، انتظار کے دعوے کے صحیح ہونے کی دلیل بھی ہے اور انتظار کے جذبے کی مضبوطی کا سبب بھی ہے.

اہل عمل ہونا منتظرین کی تہذیب میں ثابت شده چیز ہے کیونکہ منتظر جب تک مطلوبہ حالت کی طرف حرکت نہ کرے تو درحقیقت وه منتظر نہیں ہے.

اگر امام مہدی (عج) ایک پسندیده شخصیت ہیں، اور آپؑ کا ظہور اور دین کی مکمل حاکمیت کی تمام خوبصورتیوں کا اجراء پسندیده چیزیں ہیں تو یہ پسندیدگی کب تک پرده میں چھپی رہ سکتی ہے؟! کوئی چاہے نہ چاہے یقینی طور پر یہ پسندیدگی معاشرے کے کردار میں حیرت انگیز تبدیلیاں لائے گی.

اس حصے میں ہمارا مقصد ان آثار کو مضبوط کرنا ہے.

فرج کے انتظار کے لوازمات پر عمل کر کے اپنے انتظار کو طاقت عطا کریں اور غیبت کی مدت میں کمی لائیں.

ہمیں اس بات کے انتظار میں نہیں رہنا چاہیے کہ ہماری آگاہی اور قلبی عقیدت لبریز ہو جائیں تو پھر خود بہ خود عمل کرنے لگیں گے، بلکہ عمل کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے ضروری ہے کہ انتظار کے اپنے باطنی احساس کو رونق بخشیں.

#عالمانہ_انتظار

آپ ہمارے آج کے معاشرے پر غور کریں اور دیکھیں کہ ایسی کون سی مشکل ہے جو امام زمانہ (عج) کی حکومت اور اس معاشرے کی خصوصیات سے درس حاصل کر کے حل نہیں کی جا سکتی؟ خاص طور پر آج کا ہمارا معاشره جو اس معاشرے سے قریب ترین معاشره ہے جو امام زمانہؑ آ کر تشکیل دیں گے.

ہمارے معاشرے کی کچھ مشکلات ایسی ہیں کہ اگر وه حل ہو جائیں تو ہم مطلوبہ حالت کے بہت زیاده قریب ہو جائیں گے اور یہ ہمارے مولا امام زمانہؑ کی دی ہوئی خوشخبری ہے جو انہوں نے اپنی توقیع میں شیخ مفید سے فرمائی:

اگر ہمارے شیعہ، کہ الله انہیں اپنی اطاعت میں کامیاب کرے، قلبی طور پر اپنے وعدے کی انجام دہی پر ایک ہو جاتے تو ہماری ملاقات کی سعادت ان سے دور نہ ہوتی اور ہمارے مشاہدے کی سعادت بہت تیزی سے انہیں حاصل ہو جاتی (احتجاج طبرسی، ج 2، ص 499).

1) ہمارے معاشرے کو امام زمانہؑ سے نزدیک کرنے والی اہم ترین خصوصیت اس کا صحیح طور پر ولائی ہونا ہے. یقینی طور پر اس حوالے سے کمالات تک پہنچنا ہمیں ظہور سے نزدیک کرتا ہے کیونکہ ہمارے معاشرے کا ولائی تر ہونا اس عہد کو پورا کرنا ہے جو ہماری گردنوں پر ہے. ویسے ہی جیسے ہماری مشکلات بھی اس حوالے سے ہمارے کم کام کرنے اور ناتجربہ کار ہونے کی وجہ سے ہیں.

جب ہم امام زمانہؑ کے معاشرے کو دیکھتے ہیں تو نظر یہ آتا ہے کہ صرف اور صرف سارے لوگوں کے ولائی بن جانے کے بعد ہی ساری نعمتیں، امن و امان سے لے کر عدل اور آسائشوں کی فراہمی تک، سب کی سب حاصل ہو جائیں گی.

2) اگر امام زمانہؑ کی حکومت اس زمانے میں موجود نمایاں افراد کے تقوی اور صلاحیتوں پر استوار ہو گی تو پھر آج ہمارے معاشرے میں ایسے افراد کی تربیت اور انہیں میدان فراہم کرنا کس حد تک ہمارے مسائل کو حل کر سکتا ہے؟!

3) اگر اس زمانے میں لوگوں کی عقل آپؑ کی عنایت سے بڑھ جائے گی اور یہی عقلانیت آپؑ کی حکومت کے استحکام کا باعث بنے گی تو پر آج معاشرے میں عقلانیت کے پھیلاؤ کے حوالے سے ہماری کیا ذمہ داری بنتی ہے؟!

4) اگر امام زمانہؑ کے زمانے میں لوگوں کی آپؑ سے شدید محبت، ایک طرف سے لوگوں کے دلوں کو آپس میں متحد اور دوسری طرف سے دشمنوں کے دلوں میں رعب ایجاد ہونے کا باعث ہو گی تو پھر آج کے حالات میں ولی خدا اور معاشرے میں اس کے نمائندے (ولی فقیہ) کی محبت کی گہرائی کتنی اہمیت پیدا کر لیتی ہے؟!

#عالمانہ_انتظار

اس طرح کی صورتحال میں ایک منتظر کے لیے کوئی بھی کام ظہور کے لیے میدان فراہم کرنے والی اس باعظمت تحریک میں اپنا کردار ادا کرنے سے بڑھ کر نہیں ہے.

سالہا سال سے ہماری اس نورانی سرزمین پر ظہور کے لیے میدان فراہم کرنے کی ابتدا ہو چکی ہے. اور اس وقت ہم انقلاب اسلامی کا دفاع کرنے کے لیے عالمی سطح کی مزاحمت میں انسانیت کی نجات کے لیے میدان فراہم کر رہے ہیں.

اس معاملے میں امام خمینیؒ کے بیانات پر غور کریں:

جمہوری اسلامی سے اپنی جان کی قربانی دینے کی حد تک وفادار رہیں. اور اپنی آمادگی، انقلاب کو برآمد کرنے اور شہیدوں کے پیغام کی تبلیغ کر کے دنیا کے نجات دہنده اور امام زمانہ (عج)کے قیام کے لیے میدان فراہم کریں”.

اسی طرح رہبر معظم بھی انقلاب کو ہمیشہ ایک عالمی ذمہ داری اور ظہور کے لیے مقدمہ فراہم کرنے کے عنوان سے دیکھتے ہیں.

#عالمانہ_انتظار

انتظار کا تیسرا عنصر مطلوبہ حالات کے حصول پر “اعتقاد” رکھنا ہے. اس اعتقاد کے نہ ہونے کی وجوہات کو اگرچہ عقلوں کے صحیح نہ ہونے اور دلوں کی سنگدلی جیسی چیزوں میں تلاش کرنا چاہیے لیکن پھر بھی ہم اپنی گفتگو کو آگے بڑھاتے ہیں تا کہ شاید اس بات کے اہل افراد کے لیے راستہ واضح ہو جائے.

تنگ نظری اور مطلوبہ حالات کے محقق ہونے پر اعتقاد نہ ہونے کی ایک دلیل انسانی تجربوں میں غرق ہو جانا ہے جو مغربی دانشوروں کے مکاتب میں تھیوریٹائز ہو چکے ہیں. اس کی دوسری دلیل منفی افکار اور انسانی زندگی کے لیے ایک محکم فلسفہ کا نہ ہونا ہے.

بنیادی طور پر پیغمبروں کے دیے گئے وعدوں میں سے کسی بھی ایک وعدے پر ایمان لانے اور اس کے پورے ہونے پر اعتقاد رکھنے کے لیے ایک طرح کی باطنی پاکیزگی اور خلوص کی ضرورت ہوتی ہے.

ممکن ہے کبھی انسانی روح میں موجود انتہائی چھوٹی سی مشکل الہی وعدوں کو قبول کرنے اور اس کے بارے میں غوروفکر کرنے کی راه کو بند کر دے.

بنیادی طور پر روحانی معاملات پر اعتقاد رکھنا انسانی روح کے سالم ہونے کی نشانی ہے اور الہی وعدوں پر جلد ہی اعتقاد کا حاصل ہو جانا انسان کے باطن کے پاکیزه اور خالص ہونے کی وجہ سے ہے. اگرچہ بعض اوقات جلد اعتقاد پیدا کر لینا انسان کے ساده لوح ہونے کی وجہ سے بھی ممکن ہے جو قابل مذمت ہے لیکن کبھی کبھار یہ چیز انسان کی ہوشیاری اور حکمت کی وجہ سے ہوتی ہے جو انتہائی مطلوبہ چیز ہے.

البتہ اگر ہوشیار اور سمجھدار انسان کا باطن پاکیزه نہ ہو تو پھر وه اپنی تمام ہوشیاری کو باطل کی راه میں استعمال کرے گا.

اسی طرح اگر انسان باطنی پاکیزگی رکھتا ہو لیکن زیاده سمجھدار نہ ہو تو بعض اوقات صحیح راستے کا انتخاب نہیں کر سکتا. اسی لیے آسانی سے اور ذرا سا ماحول بنانے سے دھوکے اور انحراف کا شکار ہو جاتا ہے. اور اگر ایسا شخص دھوکے بازوں سے بچ بھی جائے تب بھی شاید ایک چھوٹے سے امتحان کی وجہ سے یا الہی وعدوں کو غیر منطقی سمجھنے کی وجہ سے بے ایمانی کا شکار ہو جائے.

اگر کوئی اپنے ایمان کو بہت کم معلومات اور اعتقادات کو صرف اپنے پاکیزه باطن پر قرار دے تو اگر سخت امتحانات میں ناکام نہ بھی ہو تب بھی ان سے مرعوب تو ہو ہی جائے گا اور اپنی پوری شجاعت کے ساتھ حق کا دفاع نہیں کرے گا جو محکم اعتقاد اور مستحکم معرفت کی وجہ سے حاصل ہوتی ہے.

#عالمانہ_انتظار

یہاں تک ہم نے انتظار کے انسانی اور عرفانی مطلب کے بارے میں بات کی. لیکن انتظار اپنے عرفانی معنی میں مختلف پہلوؤں سے امام زمانہ (عج) کے انتظار سے ارتباط رکھتا ہے.

شاید اس کا اہم ترین مطلب وہی ہو کہ جو بھی امام زمانہؑ کا حقیقی منتظر بننا چاہے اس کے لیے ضروری ہے کہ موت اور خدا سے ملاقات کے معاملے کو اپنے لیے واضح کرے. کیونکہ امام زمانہؑ “شہادت طلب منتظرین” چاہتے ہیں.

ایسے ہی شہادت طلب پاکیزه افراد ہیں جو آپؑ کی رکاب میں ہر طرح کی قربانی دینے اور شجاعانہ خدمت انجام دینے کے لیے تیار ہیں.

ہم (آٹھ سالہ) مقدس دفاعی جنگ میں ایسے شہادت طلب افراد سے روشناس ہوئے جنہوں نے اپنی اپنی ظرفیت کے مطابق اپنے اخلاص، پاک ضمیر اور روحانی طاقت کے عروج کی حالت میں امام زمانہؑ کے اصحاب کی تصویر اور خصوصیات ہمارے سامنے پیش کیں.

اگرچہ امام زمانہؑ کی حکومت کا زمانہ انسانیت کی خوشحالی اور امن و امان کا زمانہ ہے لیکن اس آرام و سکون کو انسانیت کے لیے وه لوگ فراہم کر سکتے ہیں جو اپنے آرام و سکون اور خوشیوں کی قربانی دینے کے لیے تیار ہوں، اور ان کے لیے الله تعالی سے ملاقات کی “تیاری”، اس سے ملاقات کے “شوق” میں تبدیل ہو چکی ہو.

اگر ہم اپنے آپ پر تھوڑی سختی کریں اور اپنے ظہور کے انتظار کو الله تعالی سے ملاقات کے انتظار کے نزدیک لے آئیں تو ہمیں بہتر نتائج حاصل ہوں گے.

#عارفانہ_انتظار

مہدویت پر اعتقاد ہمارے دین کی حقانیت کی آخری اور محکم ترین سند ہے. اگر ہمارا اس بات پر اعتقاد نہ ہو کہ ہمارا پورا دین عملی ہو سکتا ہے اور ایک دن وه مکمل طور پر عملی ہو گا اور وه بھی پائدار اور ہر طرف پھیلا ہوا تو ہمارے دین کی حقانیت پوری طرح زیر سوال آ جائے گی.

اگر ہم پانچوں اصول دین کو ثابت کر دیں اور پھر اسلامی احکام کو بیان کریں لیکن اگر مہدوی معاشرے پر اعتقاد نہ رکھیں تو ہم دین کی حقانیت کا اچھی طرح دفاع نہیں کر سکتے.

آخر کیوں؟ کیونکہ ہمیں جواب ملے گا کہ یہ دین جس کے بارے میں تمہارا دعوی یہ ہے کہ یہ کامل ترین دین ہے، یہ پیغمبر اکرمؐ کے زمانے میں تو پوری طرح نافذ نہیں ہوا تھا کیونکہ منافقین نے شدید نقصانات پہنچائے اور انہوں نے پیغمبر اکرمؐ کے تمام ارمانوں کو عملی نہیں ہونے دیا تھا. جو کچھ عملی ہو بھی گیا تھا وه پورے طریقے سے تسلسل نہ رکھ سکا. اگر دین مکمل طور پر عملی ہو چکا ہوتا تو لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ (سوره توبہ: 33) کا وعده پورا ہو جاتا اور اسلام پوری دنیا میں پھیل جاتا. دین کے پوری طرح سے عدم نفاذ کی سب سے اہم نشانی پیغمبر اکرمؐ کے بعد پیش آنے والے واقعات ہیں. اس حد تک کہ یزید جیسا فاسق پیغمبرؐ کے جانشین کے عنوان سے حاکم بنا اور امام حسینؑ کو شہید کرنے کے بعد کہتا ہے “لَعِبَتْ هاشِمُ بِالْمُلْکِ فَلاَ *** خَبَرٌ جاءَ وَ لاَ وَحْىٌ نَزَلْ” یعنی بنی ہاشم نے بادشاہت کے ساتھ کھیل کھیلا ورنہ نہ کوئی خبر آئی تھی اور نہ ہی کوئی وحی نازل ہوئی تھی!!

امیرالمؤمنینؑ بھی جس طرح سے آپؑ چاہتے تھے اس طرح کامیاب نہیں ہوئے اور ان کی نورانی حکومت بھی صرف 5 سال کی تھی اور بقیہ آئمہؑ نے بھی زیاده تر پردیس اور مظلومیت میں زندگی بسر کی. جب یہ آئمہؑ اپنے بنیادی حقوق سے بھی محروم رہے تو کہاں یہ بات کہ وه معاشرے میں دین کو نافذ کر پائیں.

اس لیے اگر مہدوی معاشرے پر اعتقاد نہ ہو تو ایک اعتراض جو ہمارے دین بلکہ تمام الہی ادیان پر کیا جا سکتا ہے وه یہ ہے کہ آپ کی باتیں بہت اچھی ہیں لیکن اس سے حکومت نہیں کی جاسکتی جیسے کہ اولیاء خدا بھی یہ کام نہ کر سکے!!

اسی لیے ہمارے دینی متون میں مہدویت کے حوالے سے اتنی تاکید موجود ہے اور پیغمبر اکرمؐ کے غدیر کے خطبوں کا ایک قابل توجہ حصہ امام مہدیؑ کے حوالے سے ہے.

#عالمانہ_انتظار

.2121 یہاں تک ہم نے انتظار کے انسانی اور عرفانی مطلب کے بارے میں بات کی. لیکن انتظار اپنے عرفانی معنی میں مختلف پہلوؤں سے امام زمانہ (عج) کے انتظار سے ارتباط رکھتا ہے.
.2122 شاید اس کا اہم ترین مطلب وہی ہو کہ جو بھی امام زمانہؑ کا حقیقی منتظر بننا چاہے اس کے لیے ضروری ہے کہ موت اور خدا سے ملاقات کے معاملے کو اپنے لیے واضح کرے. کیونکہ امام زمانہؑ “شہادت طلب منتظرین” چاہتے ہیں.
.2123 ایسے ہی شہادت طلب پاکیزه افراد ہیں جو آپؑ کی رکاب میں ہر طرح کی قربانی دینے اور شجاعانہ خدمت انجام دینے کے لیے تیار ہیں.
.2124 ہم (آٹھ سالہ) مقدس دفاعی جنگ میں ایسے شہادت طلب افراد سے روشناس ہوئے جنہوں نے اپنی اپنی ظرفیت کے مطابق اپنے اخلاص، پاک ضمیر اور روحانی طاقت کے عروج کی حالت میں امام زمانہؑ کے اصحاب کی تصویر اور خصوصیات ہمارے سامنے پیش کیں.
.2125 اگرچہ امام زمانہؑ کی حکومت کا زمانہ انسانیت کی خوشحالی اور امن و امان کا زمانہ ہے لیکن اس آرام و سکون کو انسانیت کے لیے وه لوگ فراہم کر سکتے ہیں جو اپنے آرام و سکون اور خوشیوں کی قربانی دینے کے لیے تیار ہوں، اور ان کے لیے الله تعالی سے ملاقات کی “تیاری”، اس سے ملاقات کے “شوق” میں تبدیل ہو چکی ہو.
.2126 اگر ہم اپنے آپ پر تھوڑی سختی کریں اور اپنے ظہور کے انتظار کو الله تعالی سے ملاقات کے انتظار کے نزدیک لے آئیں تو ہمیں بہتر نتائج حاصل ہوں گے.
.2127 #عارفانہ_انتظار

دوسری طرف سے وعده دیے گئے مطلوبہ معاشرے کے قائم ہونے پر اعتقاد دین پر ایمان لانے کی راہوں میں سے ایک راه ہے. خاص طور پر اس زمانے میں جب #مغربی_تمدن کا دھوکہ دینے والا ظاہر مبالغہ آرائی کرتے ہوئے یہ ثابت کرنے کی کوشش میں ہے کہ یہی معاشره وہی وعده دیا گیا معاشره ہے!

ان حالات میں ضروری ہے کہ #مہدوی_معاشرے کی خصوصیات بیان کی جائیں جو کہ ہماری مطلوبہ حالت ہے، اور مغربی تمدن کی خامیوں کو برملا کیا جائے تا کہ انسانی افکار کو اس معمولی تمدن سے نجات دینے کے علاوه عظیم اسلامی تمدن سے دلوں کو قریب کر دے.

اگر شکست خورده مغربی تمدن کے عاشقوں اور اس کا دم بھرنے والوں کے سامنے (جو مغربی تمدن کے نعروں میں پائے جانے والے انسانی آئیڈیلز کے دلداده بھی ہیں اور ساتھ ہی ان کے جھوٹ ہونے کا تلخ تجربہ بھی کر چکے ہیں) #مہدوی_تمدن کی خصوصیات بیان کی جائیں تو یقینی طور پر وه سب سے زیاده اس کی زیبائیوں کو سمجھ سکیں گے اور اسلام میں اس طرح کے حسین اختتام کی بدولت آسانی سے اور تیزی کے ساتھ اس پر ایمان لے آئیں گے.

اگر ہم مغربی معاشرے کے متوسط طبقے کو امام زمانہؑ اور ان کے تشکیل دیے جانے والے معاشرے کی طرف متوجہ کر سکیں جو مغربی تمدن کے نعروں سے اپنا دل خوش کرنے کے ساتھ ساتھ عمل کے میدان میں ان کے جھوٹ ہونے کو پہچان چکے ہیں اور اس بات کے لیے تیار ہیں کہ مغربی تمدن کی متبادل فکر کو پہچانیں، تو دراصل ہم نے افکار عمومی میں مغربی تمدن کی بنیادوں کو ڈھا دیا ہے.

اس کام کے لیے ہمیں اس بات کا منتظر نہیں رہنا چاہیے کہ پہلے کچھ مغربی روشن فکر افراد ہماری فکر کو قبول کریں تا کہ پھر ہم پوری دنیا میں اس پیغام کو پھیلائیں، کیونکہ جب کسی کے پاس نور ہو لیکن پھر بھی وه تاریکی میں سرگرداں ہو تو شاید وه کبھی بھی روشنی تک نہیں پہنچ سکے گا.

#عالمانہ_انتظار

.2131 انتظار کے موضوع کو شہادت کے شوق کی گفتگو سے شروع کرنا چاہیے جو کہ الله تعالی سے ملاقات کا بہترین راستہ ہے.
.2132 اگر آپ یہ کہیں کہ امام زمانہ (عج) کے زیرسایہ زندگی گزارنے کی زیبائیوں کو کس طرح نظرانداز کیا جا سکتا ہے؟! یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی شخص امام زمانہؑ کی موجودگی میں بھی شہادت کی آرزو رکھتا ہو؟! تو میں جواباً کہوں گا کہ:
.2133 وه لوگ جو عارفانہ طور پر امام زمانہؑ کے منتظر ہیں ان کے لیے الله تعالی کے حضور میں موجود ہونا اس گذر جانے والی دنیاوی زندگی سے زیاده شیرین ہے، اگرچہ یہ زندگی امام زمانہؑ کے حضور میں حیات طیبہ کا ایک مصداق ہی کیوں نہ ہو. کیا مولا علیؑ کو پیغمبر اکرمؐ کے زمانے میں شہادت کی آرزو نہیں تھی؟!
.2134 میں نہیں چاہتا کہ شہادت طلبی اور اپنے پروردگار سے ملاقات کے شوق کے حوالے سے سخت اور مبالغہ آرائی پر مبنی گفتگو کروں.
.2135 خاص طور پر جب کہ میں خود اس طرح کا انسان نہیں ہوں اور دوسری طرف سے مجھے اپنے جیسے کمزور افراد کو ناامید بھی نہیں کرنا لیکن ان مطالب کی طرف توجہ کرنا اور ان مراتب کا خیال رکھنا ان لوگوں کے لیے انتہائی مناسب ہے جو اس راستے کو طے کرنا چاہتے ہیں.
.2136 کم از کم غرور سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم یہ دیکھ لیں کہ ابھی کتنا راستہ باقی ہے!
.2137 #عارفانہ_انتظار

اگر وه وعده دیا گیا معاشره قائم ہو سکتا ہے تو کیا وه معاشره ان تمام اصولوں کی پابندی کے ساتھ قائم ہو گا جن پر پیغمبر اکرمؐ اور ان کے جانشینؑ پابند تھے؟

ایسے اصول جن میں زور زبردستی کا استعمال کم سے کم ہوتا تھا اور زیاده سے زیاده حد تک لچک دکھائی جاتی تھی؛ ایسے اصول جن کا لازمہ انسانی کرامت کا خیال رکھنا تھا کہ جس کا نتیجہ منافقین کا غلط فائده اٹھانا اور کافروں کی دشمنی کا اثرانداز ہونا تھا؟ (البتہ ہم جانتے ہیں کہ انہیں اصولوں کی پابندی کی وجہ سے معصومین (ع) کو مظلومیت کا سامنا کرنا پڑا لیکن آخر میں یہی چیز ان کی حقانیت کے واضح ہونے کا سبب بنی اور یہ بھی پتہ چل گیا کہ انہیں اصولوں کی پیروی ہے جو مہدوی معاشرے کو اتنی عظمت عطا کرتی ہے اور اس کے انتظار کو اتنا قیمتی بنا دیتی ہے)

لہذا اگر یہ طے ہے کہ مہدوی معاشره اس اصول کی پابندی سے قائم ہو گا تو کیا حق دوباره مظلومیت کا شکار ہو جائے گا؟ یا وه جو ہم سنتے ہیں کہ امام زمانہ (عج) شمشیر کے ذریعے دین کے مخالفین کا قلع قمع کریں گے، کیا یہ اس اصول کے خلاف نہیں ہو گا؟!

اور یہ جو ہم دعائے ندبہ میں پڑھتے ہیں: اَيْنَ هادِمُ اَبْنِيَةِ الشِّرْكِ وَالنِّفاقِ یعنی کہاں ہے وه جو شرک و نفاق کی جڑوں کو ویران کرے گا؟؛ اور ماه رمضان کی راتوں میں بھی ہم پڑھتے ہیں کہ اللَّهُمَّ إِنَّا نَرْغَبُ إِلَيْكَ فِي دَوْلَةٍ كَرِيمَةٍ تُعِزُّ بِهَا الْإِسْلامَ وَ أَهْلَهُ وَ تُذِلُّ بِهَا النِّفَاقَ وَ أَهْلَهُ یعنی خدایا ہم تجھ سے اس محترم حکومت کے آرزومند ہیں جس کے ذریعے تو اسلام اور مسلمانوں کو عزت دے اور نفاق و منافقین کو ذلیل و خوار کرے.

شاید پہلے پہل یہ اعتراض اور اس کا جواب اتنا اہم نہ لگے لیکن امام معصومؑ کے فرمان کے مطابق کچھ لوگ صحیح سمجھ بوجھ نہ رکھنے کی وجہ سے امام زمانہؑ کے منافقین کے ساتھ فیصلہ کن برتاؤ کو دیکھ کر منحرف ہو جائیں گے اور ان پر ظالم اور بے رحم ہونے کا الزام لگائیں گے!!

خلاصہ یہ کہ اسلام میں انسانی عظمت کا خیال رکھنے کی وجہ سے ممکن ہے کہ اسلامی معاشرے میں منافق موجود ہوں اور اپنی فعالیت بھی کر سکیں اور اولیاء خدا کے بعض اقدامات کو بے اثر بھی کر دیں.

اولیاء خدا بھی ان کے مقابلے میں کلی طور پر بصیرت افزائی کرتے ہیں (جیسے کہ رسول اکرمؐ نے جنگ تبوک سے واپسی پر ان کے قتل کا منصوبہ بنانے والوں کو سزا نہیں دی اور ان کے نام فاش کرنے کی اجازت بھی نہیں دی) مگر یہ کہ وه اسلامی معاشرے کے لیے شدید خطره بن جائیں یا وه خود ہی اپنے آپ کو رسوا کریں تو پھر براه راست واضح کیا جاتا ہے.

اور اسی میں الله تعالی کا لوگوں کو مہلت دینا بھی نظر آتا ہے تا کہ وه خود اپنے اختیار، سوچ اور پاک احساس سے راه حق کو باطل سے جدا کریں.

#عالمانہ_انتظار

اس اعتراض کا جواب (کہ اسلام میں انسانی کرامت کا خاص خیال رکھا جاتا ہے جس سے بہت زیاده نقصان کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے) یہ ہے کہ “انسانی کرامت کا خیال رکھنے کی پابندی” کا اصول ہمارے آئمہؑ کی ایک خاص خصوصیت تھی اور رہے گی.

البتہ نفاق کے ذلیل و خوار ہونے کے اسباب کچھ اور ہیں. ایک طرف سے لوگوں کی بصیرت، دوسری طرف سے اچھے نمایاں افراد کی کثرت اور تیسری طرف سے امام زمانہ (عج) کا ان اچھے نمایاں افراد کے ساتھ سختی سے پیش آنا جو آپؑ کے گرد جمع ہوں گے اور آپؑ کی طرف سے مختلف پوسٹوں پر کاموں کو انجام دے رہے ہوں گے، یہ سب منافقین کی رسوائی کا سبب بنیں گے.

جب خود اپنے نصب کیے ہوئے افراد کے ساتھ سختی سے پیش آیا جائے تو پھر کوئی بھی نفاق کے ذریعے ان مقامات تک پہنچنے کی کوشش نہیں کرے گا. جب اچھے نمایاں افراد کی تعداد زیاده ہو تو برے نمایاں افراد ولایت کو دباؤ میں لا کر اپنے مقاصد تک نہیں پہنچ سکتے. جب لوگ بصیرت رکھتے ہوں تو چھوٹے سے منافقانہ عمل سے بھی اسے انجام دینے والا رسوا ہو جائے گا اور اس بات کی ضرورت نہیں رہے گی کہ امامؑ اس کا نام لیں تو پہچانا جائے.

اس زمانے میں منافقین کے ساتھ رحم نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے پاس اچھی خاصی فرصت تھی کہ وه صحیح راستے کا انتخاب کر لیتے اور دوسری طرف سے بابصیرت لوگ جو منافق کو پہچان چکے ہیں ان کا یہ حق ہے کہ منافقین کو راستے سے ہٹا کر امن و امان اور آسائش کے ساتھ زندگی گزاریں.

لہذا اگر ہم نے یہ دیکھا کہ امام زمانہؑ ظاہری طور پر اپنے اجداد کی سیرت کے برخلاف عمل کر رہے ہیں تو یہ اس وجہ سے نہیں ہے کہ انہوں نے اس اصول پر عمل نہیں کیا بلکہ یہ اس وجہ سے ہے کہ ان حالات میں دیگر اصولوں کے جاری ہونے کا موقع فراہم ہو گیا ہے جن میں سے ایک اہم ترین اصول منافقین کے بارے میں حکم خدا کو نافذ کرنا ہے: يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَالْمُنَافِقِينَ وَاغْلُظْ عَلَيْهِمْ (سوره توبہ: 73) یعنی “پیغمبر! کفار اور منافقین سے جہاد کیجئے اور ان پر سختی کیجئے”.

اگر اسلام کے ابتدائی دور میں منافقین سے جہاد اور سختی کم تر دکھائی دیتی ہے تو اس کی وجہ لوگوں میں بصیرت کی کمی اور بامعرفت نمایاں افراد کی کمی تھی. انہیں دو اسباب کو اولیاء خدا کی مظلومیت کے کچھ رازوں میں سے جاننا چاہیے.

#عالمانہ_انتظار

.2141 اس حوالے سے ایک اور پہلو پر بھی غور کی ضرورت ہے کہ #مہدوی_معاشرے کی نورانی فضا میں سانس لینے کا ایک اہم اثر یہی الله تعالی سے ملاقات کے شوق کا پیدا ہونا ہے. اور یہ بات فرج کے لیے ہماری دعا کرنے کی اہم دلیلوں میں سے ایک دلیل ہے.
.2142 ہم الله تعالی سے دعا کرتے ہیں کہ وه ہمیں مہدوی معاشرے میں زندگی گزرانا نصیب فرمائے تا کہ اس مقدس ماحول میں ہم بہتر طریقے سے کمال تک پہنچیں. اور کمال تک پہنچنے کا صحیح معیار خدا کی ملاقات کے شوق سے بڑھ کر اور کیا ہو سکتا ہے؟!
.2143 بنیادی طور پر ہر مخلص انسان جب حیات طیبہ کا مزه چکھے گا تو وه آخرت کی زندگی کا مشتاق ہو جائے گا. حیات طیبہ کی عجیب بات یہ ہے کہ وه اس طرح سے بنائی گئی ہے کہ آخرت کے حوالے سے انسان کی پسندیدگی کو بڑھاتی ہے. حیات طیبہ زندگی گزارنے کا وه واحد شیرین اور دلنشین ماڈل ہے جو انسان سے پرواز کے شوق کو نہیں چھینتا بلکہ اسے اور بڑھاتا ہے.
.2144 البتہ یہ بات واضح ہے کہ آخرت سے وه محبت جو امام زمانہ (عج) کی حکومت کے سائے میں انسان کے لیے حاصل ہو وه موت سے پیدا ہونے والی اس محبت سے بہت زیاده مختلف ہے جو بہت زیاده اور ناقابل برداشت مشکلات کی وجہ سے انسان کو حاصل ہوتی ہے.
.2145 اور ایسے انسان کی موت کی آرزو جو مشکلات کی وجہ سے اس حالت تک پہنچا ہے کسی بھی صورت میں وه قدروقیمت نہیں رکھتی جو شاکر اور صابر عارفوں کے الله تعالی سے ملاقات کے شوق کو حاصل ہے.

#عارفانہ_انتظار

اس تجزیہ و تحلیل کی بنیاد پر اس زمانے میں پائے جانے والے اکثر انحرافات اور غلط افکار کی وجہ حق کی حاکمیت کا نہ ہونا اور اگر زیاده دقیق بات کی جائے تو یہ کہ طاغوت کی حاکمیت ہے. قرآن نے اس بات پر واضح طور پر اشاره کیا ہے اور وه کفر کو تاریکی کا اتنا بڑا سبب قرار نہیں دیتا جتنا طاغوت کو انسان کی بدبختی کا سبب جانتا ہے: وَالَّذِينَ كَفَرُوا أَوْلِيَاؤُهُمُ الطَّاغُوتُ يُخْرِجُونَهُم مِّنَ النُّورِ إِلَى الظُّلُمَاتِ (سوره بقره: 255) یعنی “اور کفارکے ولی طاغوت ہیں جو انہیں روشنی سے نکال کر اندھیروں میں لے جاتے ہیں”.

آج بھی اگر ہم #علم_اور_افکار کے میدان میں غور کریں تو پتہ چلے گا کہ علم نے اپنا قدرتی راستہ طے نہیں کیا ہے جس کا نتیجہ یہ اتنے سارے باطل افکار ہوں بلکہ اگر اچھی طرح جانچیں تو واضح ہو جائے گا کہ “خدا مخالف” اور “انسان مخالف” یہ افکار طاقتور مفسدوں کے نفوذ کا نتیجہ ہیں یا بالواسطہ طور پر ان تباہیوں اور بدبختیوں کے علمی نتائج ہیں جو ان مفسدوں نے انسانی معاشرے پر جاری کی ہیں.

طول تاریخ میں بھی علم اور افکار زیاده تر طاقتوروں اور دولتمندوں کے زیر اثر رہے ہیں اور جہاں بھی انہیں ضرورت پڑتی وه علم کو اپنے مقاصد کے لیے وسیلے کے طور پر استعمال کرتے تھے.

جب ولایت کی حاکمیت میں انسان مکمل آزادی حاصل کر لیں اور انہیں مکمل فکری آزادی حاصل ہو تو وه “صحیح طرح سوچیں گے”، “صحیح بات کریں گے”، “حقیقت کے نزدیک ہو جائیں گے” اور “ہر جگہ نور پھیل جائے گا”.

صرف وه چمگادڑیں بچ جائیں گی جن کی غلط سوچ ان کے بیمار دلوں کی وجہ سے ہیں. اور جب انہیں کوئی سننے والا نہیں ملے گا تو خود اپنا منہ سی لیں گے اور پھر معاشرے میں ان کی بیہوده باتوں پر بحث کرنے کی جگہ میسر نہیں ہو گی.

یہ بات ان تمام آرام پسند اہل ادب کے مدنظر رہے کہ حکومتِ حقہ کے قیام کی کوشش کیے بغیر یہ نہیں ہو سکتا کہ انسانوں کے ہدایت یافتہ ہو جانے کی امید رکھی جائے. یہ ممکن نہیں کہ طاقت کے حصول کے بغیر روحانیت اور معرفت کو پھیلایا جائے. طاغوت کی حکومت کے زمانے میں لوگوں کی ہدایت کی ہر طرح کی کوشش بہت ہی محدود ہوتی ہے.

#عالمانہ_انتظار

انسان کا برے اخلاق اور پست خصوصیات و صفات سے پاک ہونا اور اس کی وجہ سے بلند انسانی، اخلاقی و الہی فطرت کے درجات اور فطری کمالات تک پہنچنا

وه فرج جو امام زمانہؑ سے منسوب ہے. اور اس قسم کے فرج کی خود دو قسمیں ہیں:
امام زمانہؑ کے نورانی مقام کو پہچاننا جو ولایت الہی کے مقام کے علاوه کوئی اور چیز نہیں. اور یہ معرفت صرف اس شخص کو حاصل ہو سکتی ہے جو شخصی فرج تک پہنچ گیا ہو یعنی وہی کہ وه شخص اندرونی فطری کمالات تک پہنچ گیا ہو.
امام زمانہؑ کی خدمت میں پہنچنا اور ان کے ظہور کے زمانے کو پا لینا.
اور یہ بات واضح ہے کہ اگر یہ فرج حاصل ہو جائے تو فرج کا پہلا معنی یعنی انسان کا کمالات تک پہنچنا بھی حاصل ہو جاتا ہے. کیونکہ اسی طرح جیسے کچھ روایات سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ ظہور کے زمانے میں امام مہدیؑ کی خدمت میں پہنچنا تمام انسانوں کے لیے (جو ان پر ایمان رکھتے ہوں) یا کم از کم باطل سے آزاد انسانوں کے لیے انسانی کمالات اور عالی درجات کے حصول میں انتہائی مؤثر اور سنجیده اثر رکھے گا.
لیکن عمومی فرج سے مراد معاشرے کا ظلم و ستم اور شر سے آزاد ہونا، عدل و انصاف کا قیام اور اس شخص کی حکومت کا قائم ہونا ہے جو سراپا عدل ہے، جن کی حکومت میں “حق” صاحبِ عزت و احترام اور “باطل” ذلیل اور پامال ہو جائے گا.

#عارفانہ_انتظار

قرآن کی مشہور آیت جو مومنین کو اپنی تربیت کرنے کی نصیحت کرتی ہے: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنفُسَكُمْ ۖ لَا يَضُرُّكُم مَّن ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ یعنی “ایمان والو! اپنے نفس کی (اپنے ایمان اور روحانی صفات کی) فکر کرو – اگر تم ہدایت یافتہ رہے تو گمراہوں کی گمراہی تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچاسکتی”.

پیغمبرؐ سے پوچھا گیا اس کا کیا مطلب ہے؟ اس آیت اور پیغمبرؐ کے جواب کو دیکھتے ہوئے یہ اندازه لگایا جا سکتا ہے کہ کچھ لوگوں کے لیے یہ سوال پیش آیا کہ کیا ہم معاشرے کو چھوڑ دیں اور اپنے نفس کی اصلاح کی فکر میں لگ جائیں؟

پیغمبر اکرمؐ نے فرمایا امر بالمعروف اور نهی عن المنکر کرو اور جو ناگوار چیزیں پیش آئیں اس پر صبر کرو اور جہاں تک تمہارے لیے ممکن ہو اس ذمہ داری کی بجا آوری میں پائداری کا مظاہره کرو، لیکن جب لوگوں کو دنیا کا حریص اور اپنے نفس امّاره کا مطیع، اپنی رائے پر اعتقاد، استقلال اور اصرار کرتے دیکھو اور یہ کہ وه علماء و دیگر افراد کی بات نہ سنیں اور ان پر نصیحت اثر نہ کرے تو اس صورت میں تم امر به معروف اور نہی عن المنکر کو چھوڑ کر اپنے نفس کی اصلاح کی فکر میں رہو.

تاریخ اسلام میں بھی ہم مشاہده کرتے ہیں کہ ہمارے پہلے تین اماموں نے اپنی پوری کوشش #اجتماعی_ولایت کے مسئلے پر مرکوز رکھی لیکن ان کے بعد دیگر اماموں نے پیش آنے والے حالات کی وجہ سے تعلیم و تربیت اور درس و بحث کو انجام دیا اور پیغمبر اکرمؐ کی تعلیمات کو آئنده نسلوں کے لیے لکھوایا اور انہیں محفوظ کیا.

رہبر معظم نے جو خود اسٹریٹیجک مسائل میں گہری نظر رکھتے ہیں، پہلے تین اماموں کی انتخاب کرده اسٹریٹیجی یعنی حکومت کے قیام، اور تعلیم و تربیت میں نسبت بندی کو کچھ اس طرح بیان کیا ہے:

“موجوده حالت یعنی ایک اسلامی قدرت کا وجود (ایران میں انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد) شاید اس بہترین انفرادی حالت سے ہزار بار بہتر ہو جو طاغوتی حکومت میں ایک انسان کو الہی مقاصد کی ترویج، اس کے بارے میں پریشان ہونے اور ان کے نفاذ کے حوالے سے حاصل ہو. لہذا ضروری ہے کہ ہم اس کے قدردان ہوں”.

#عالمانہ_انتظار

اس موضوع پر ابھی تک کی گئی گفتگو کا خلاصہ یہ ہے کہ نجات دہنده کے آنے کا انتظار اگر انتظار کے عرفانی معنی کے بغیر یعنی وہی دنیا سے جانے اور الله تعالی سے ملاقات کے انتظار کے بغیر ہو تو یہ ایک گہرا اور مضبوط روحانی پس منظر رکھنے والا انتظار نہیں ہو گا.
اس کے علاوه انتظار اپنے عرفانی معنی میں نجات دہنده کے انتظار کے “مقدمات” میں سے بھی ہے اور اسی کے “نتائج” میں سے بھی.
دوسرے الفاظ میں یہ کہ اگر کوئی امام زمانہ (عج) کا منتظر بننا چاہتا ہے اور وه یہ چاہتا ہے کہ وه ظہور کی آرزو رکھتا ہو تو اس سے پہلے ضروری ہے کہ وه موت کی تمنا اور خدا سے ملاقات کے معاملے کو اپنے لیے حل کر چکا ہو.
کیونکہ اس طرح وه ایک شجاعت سے بھرپور اور شہادت کے لیے آماده مجاہد کے عنوان سے امام مہدیؑ کی خدمت میں حاضر ہو گا. اور یقینی طور پر اسی صورت میں منتظر خود اپنے زمانے کے لیے بھی فائده مند ثابت ہو گا.
اس زمانے میں بھی ہمیں جس چیز کی سب سے زیاده ضرورت ہے، وه ایسے ہی بلند و بالا انسان کا میسر ہونا ہے.

#عارفانہ_انتظار

اگر مہدویت پر اعتقاد مطلوبہ حالت کے صحیح تصوّر کے بعد حاصل ہو تو یہ ایک انتہائی جوش و خروش ایجاد کرنے والا احساس ہو گا. یہی اعتقاد ہے جو ہمیشہ اسلام کو ایک ایسے دین کے طور پر پیش کرتا ہے جو انتظار کی حالت میں ہے اور ابھی اس کی ساری خوبصورتیاں اور نہ کہی گئی بہت ساری چھپی باتیں ظاہر نہیں ہوئی ہیں.

اگرچہ دین میں خالص ترین جذابیت سے بھرپور تعلیمات موجود ہیں جن میں سے ہر کسی کی اپنی خصوصیات ہیں لیکن کسی بھی اعتقاد میں اس اعتقاد کے برابر کشش اور اثراندازی موجود نہیں.

اگر مطلوبہ حالت کے تصوّر کرنے کے بعد اس پر اعتقاد پیدا ہو جائے تو اعتقاد کی شدت اور معرفت کے اندازے کے مطابق یہ اعتقاد انسان کے لیے خیالات کے پیدا ہونے اور اسے خوشحال کر دینے والا ثابت ہو گا. اس جوش و خروش کی وجہ “الله تعالی کے تمام وعدوں کا نافذ ہونا” اور “تمام آیات الہی کا نمایاں ہونا” ہے.

دوسری طرف سے امام زمانہ (عج) پر اعتقاد ایمان کی کمزوری کو دور کرنے والا بھی ہے. اس اعتقاد کے اخلاقی اور روحانی اثرات اتنے زیاده ہیں کہ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ “امام زمانہؑ کے آنے کی خبر خود ان کے لشکر کی تربیت کر سکتی ہے”.

اسی طرح اس وعده دیے گئے معاشرے کے عملی ہونے کی طرف توجہ چاہے جتنی بھی ہو، کفر و نفاق کے اثر کو کمزور کرتی ہے، ویسے ہی جیسے ظہور کے بعد دشمنوں کے دلوں پر امام زمانہؑ اور ان کے ساتھیوں کا رعب طاری ہو جائے گا اور ان کے لشکر کے آگے بڑھنے کا راستہ کھل جائے گا.

آپؑ پر اعتقاد حتی ان کے آنے کی خبر اور ان کے ظہور کے بارے میں غوروفکر کرنا دشمنوں کو پریشان کر دیتا ہے اور رمضان کی طرح ابلیس کو روحانی معاملات میں مداخلت سے روک دیتا ہے.

#عالمانہ_انتظار

اس بحث کے اختتام پر اور ان نکات کی بنیاد پر جو اب تک بیان ہوئے ہیں، انتظار کے حوالے سے عوامانہ و غیر دقیق نگاه کے مقابلے میں عارفانہ نگاه کو اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے:
عارفانہ انتظار یعنی:
1) اس دنیا سے رہائی کا منتظر رہنا اور الله تعالی سے ملاقات کا مشتاق ہونا؛
2) اور ابھی جب ہم اس دنیا کے زندان میں پھنسے ہوئے ہیں اور الله تعالی سے دوری کی وجہ سے تڑپ رہے ہیں تو ہم منتظر ہیں کہ وجہ الله اور ولی الله آ جائے تا کہ:

ایک طرف تو ہم ان کے دیدار سے اس دوری کی تڑپ میں تھوڑی تسکین حاصل کر سکیں،

اور دوسری طرف سے ان کی ولایت کے سائے میں زیاده آسانی اور تیزی کے ساتھ خدا کی طرف سفر کریں، اس سے ملاقات کے لیے زیاده بہتر طریقے سے تیار ہو جائیں اور انسانیت کو بھی آسانی کے ساتھ الله تعالی کی طرف رہنمائی کر سکیں.
#عارفانہ_انتظار

اعتقاد امید ایجاد کرتا ہے اور اگر امید ایک عارفانہ اعتقاد کی وجہ سے وجود میں آئی ہو تو بہت زیاده طاقت بخشنے والی اور محکم ہو گی. امید ایمان کی ایک اہم خصوصیت ہے.

روزمره کی زندگی میں ہم امید سے دو طرح کی مراد لیتے ہیں: ایک ایسی امید ہے جو مستحکم ہے اور دوسری ایسی امید جو صرف ایک احتمال کی حد تک ہے اور اس چیز سے محبت کی وجہ سے امید بڑھتی جاتی ہے.

امام زمانہ (عج) کا انتظار پہلی قسم کی امید ہے اور اسی لیے یہ امید انسان کو طاقت عطا کرتی ہے. امید انسانی روح کو مستقبل سے جوڑ دیتی ہے اور حرکت کے لیے انرجی فراہم کرتی ہے، اس سے بھی بڑھ کر رکاوٹوں اور مشکلات کو عبور کرنے کے لیے توانائی عطا کرتی ہے.

جب فتح پر اعتقاد اور اس کی امید ایک مقابلہ کرنے والے انسان کے دل میں بھری ہوئی ہو تو وه سختیوں اور ناکامیوں کے عروج میں بھی اپنے آپ کو کامیاب اور غالب انسان کے روپ میں دیکھے گا. ایسا انسان ہرگز مایوسی کا شکار نہیں ہو گا جو ہمیشہ سے ابلیس کی مکاریوں میں سے ایک مکاری رہی ہے.

اسی طرح اسے سکون حاصل ہو گا جو اس کے لیے بصیرت اور دقیق سوچ سمجھ کے حصول کا سبب بنے گا. وه انسان جو ایسے طاقت و قوت عطا کرنے والے سکون کا حامل ہو وه ہر مقابلے میں اچھی طرح سے منصوبہ بندی کرتا ہےاور زیاده کامیابیاں حاصل کرتا ہے.

اگر کوئی اندرونی پاکیزگی کا حامل ہو تو وه تھوڑی سی معلومات سے بھی اعتقاد حاصل کر لے گا اور پھر یہی اعتقاد اسے بہترین سکون اور بصیرت عطا کرے گا. ایسے شخص میں یہ صلاحیت موجود ہوتی ہے کہ بعد میں وه سمجھ بوجھ کے عالی ترین مقامات تک بھی پہنچ جائے.

#عالمانہ_انتظار

غیبت کے زمانے میں “الله سے ملاقات” اور “اس کے ولی سے ملاقات” کے منتظرین کے لیے قابل توجہ بات یہ ہے کہ اولیاء خدا نے انہیں اس جدائی کے درد میں تسکین کے لیے علماء دین سے ملاقات کرنے کی ترغیب دلائی ہے.
الہی علماء کا دیدار اور ان کی محفل میں بیٹھنا ایک ایسا اہم مسئلہ ہے کہ اسے ترک کرنا اس بات کا سبب بنتا ہے کہ خدا ایسے بندے کو سزا دے اور اسے اپنے سے دور کر دے.
اس بات کو امام زین العابدینؑ نے دعائے ابو حمزه ثمالی میں اس طرح بیان کیا ہے: اَوْ لَعَلَّكَ فَقَدْتَني مِنْ مَجالِسِ الْعُلَمآءِ فَخَذَلْتَني یعنی “یا شاید تو نے مجھے اہلِ علم کی محافل میں نہیں پایا اس لیے مجھے ذلت و خواری میں مبتلا کر دیا ہے”.
اس بات کی طرف توجہ دینا ضروری ہے کہ باعمل علماء(امام خمینیؒ، آیت الله بہاءالدینیؒ اور آیت الله بہجتؒ وغیره) سے انس رکھنا اور ان کی محافل میں شرکت کرنا انسان کو پہلے سے زیاده امام زمانہ (عج) کے دیدار کا مشتاق بنا دیتا ہے.
ایسی محفلیں پہلے تو امام زمانہؑ کے فضائل کے بارے میں انسان کی معلومات کو بڑهاتی ہیں اور پھر ایسے افراد کی صحبت کی شیرینی محسوس کرنے کے بعد جن میں آپؑ کے فضائل کی معمولی سی جھلک پائی جاتی ہے، امام زمانہؑ کو پانے کا شوق اور بھی بڑھ جاتا ہے جو ان تمام فضائل کے عروج پر ہیں.
#عارفانہ_انتظار

مطلوبہ حالت پر مکمل یقین کا ایک نتیجہ یہ ہے کہ انسان ظہور اور فرج کو نزدیک سمجھتا ہے. ظہور کے نزدیک ہونے کا احساس منتظرین کی ایک خصوصیت ہے.

یہ بات روایات میں مختلف بیانات کے ذریعے بیان ہوئی ہے مثلاً امام جعفر صادقؑ دعائے عہد میں فرماتے ہیں کہ: اللَّهُمَّ اكْشِفْ هٰذِهِ الْغُمَّةَ عَنْ هٰذِهِ الْأُمَّةِ بِحُضُورِهِ ، وَعَجِّلْ لَنا ظُهُورَهُ ، إِنَّهُمْ يَرَوْنَهُ بَعِيداً وَنَرَاهُ قَرِيباً یعنی خدایا! اس محترم هستی کی دوری کے غم و اندوه کو ان کے آ جانے سے اس امت کے دل سے برطرف فرما اور ان کے ظہور میں تعجیل فرما کہ فرج کے مخالفین ان کے ظہور کو دور سمجھتے ہیں جبکہ ہم اسے قریب سمجھتے ہیں.

یا کچھ روایات میں ہمیں ظہور کو قریب جاننے کی نصیحت کی گئی ہے اور اسے نجات کا وسیلہ قرار دیا گیا ہے. روایت کے مطابق اگر آپ ظہور کو نزدیک نہ جانیں تو آپ سنگدل ہو جائیں گے.

اگر آپ کسی خاص طریقے سے ظہور کے قریب ہونے پر اطمینان حاصل کر لیں تو آپ میں کس طرح کی روحانی کیفیت ایجاد ہو گی؟ کیا آپ کا کردار بہتر نہیں ہو جائے گا؟ کیا وجہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو ایسی برکات سے محروم کرے؟ جب ہمارے پاس اپنی روحانی حالت کو بہتر بنانے کے لیے ایک صحیح و سالم سبب موجود ہے تو پھر کیوں اسے چھوڑ دیں؟

اگرچہ آج کے زمانے میں ظہور کے قریب ہونے پر اعتقاد رکھنا کوئی مشکل کام نہیں کیونکہ ہمارے اطراف میں پیش آنے والے واقعات سے آگاہی اور آخرالزمان کے خاص حالات جس میں ہم زندگی گزار رہے ہیں، ہمارے اس اعتقاد میں ہماری مدد کرتے ہیں.

البتہ اس دور میں بھی ایسے افراد موجود ہیں جو عجیب و غریب احتمالات کے ذریعے یہ کوشش کرتے ہیں کہ ظہور کو نزدیک نہ جانیں لیکن ضروری ہے کہ ہم یہ جان لیں کہ ایک منتظر ظہور کی نشانیوں کے پوری ہونے یا نہ ہونے کو نظرانداز کرتے ہوئے بنیادی طور پر ظہور کو قریب سمجھتا ہے. اسی لیے وه ہر احتمالی نشانی کو ظہور کے نزدیک ہونے کی خوشخبری سمجھتا ہے اور اس سے اپنی امید کو مضبوط کرتا ہے لیکن اگر وه کوئی بھی نشانی نہ دیکھے تب بھی اپنے گہرے ایمان کی وجہ سے ہمیشہ ظہور کو قریب ہی احساس کرتا ہے.

لیکن جلدی نہیں کرنی چاہیے اور نامناسب تجزیہ و تحلیل کے ذریعے بے اساس دلیلوں کی بنیاد پر ظہور کے نزدیک ہونے کا احساس پیدا نہیں کرنا چاہیے.

ظہور کے معاملے میں جلد بازی مہدوی تعلیمات کے حوالے سے لوگوں کے ایمان کے کمزور ہونے اور نمایاں افراد کے روگرداں ہونے کا سبب بن سکتی ہے.

آئمہ معصومینؑ نے ایک طرف سے شیعوں کو ظہور کو قریب سمجھنے کی نصیحت فرمائی ہے تو دوسری طرف سے جلدبازی سے بھی منع فرمایا ہے. امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں: محاضیر ہلاک ہو گئے. روای نے سوال کیا محاضیر کون ہیں؟ آپؑ نے فرمایا: جلد بازی کرنے والے. اور نزدیک سمجھنے والے نجات پا گئے.

#عالمانہ_انتظار

انتظار کا چوتھا عنصر مطلوبہ حالت کا شوق رکھنا ہے. #مہدوی_معاشرے کے وجود میں آنے کا شوق اس اعتقاد کے علاوه ایک اور چیز ہے جو دلیل اور پاکیزه باطن کے ذریعے حاصل ہوتا ہے. اگرچہ یہ شوق اسی اعتقاد کا اثر تو ہو سکتا ہے، اور ہے بھی، لیکن خود یہ شوق ایک الگ حقیقت ہے جو انسان کے عقیدے کو لذت بخش اور سرمست بنا دیتا ہے.

اب چاہے ہم اعتقاد کو اس شوق و عشق کا مقدمہ سمجھیں کہ اس صورت میں اعتقاد ایک فرعی اور ضمنی چیز ہو گی اور محبت اصلی چیز، یا چاہے ہم عقیدے کو اصلی چیز سمجھیں اور عشق و محبت کو اس کا پھل اور فرعی چیز کہ اس صورت میں جب تک منتظر اس عقیدے کو منزلِ عشق و شوق تک نہ پہنچائے، یہ عقیده مستحکم نہیں ہو گا.

شوق بھی محبت کا پھل ہے اور یہ دونوں ایمان کے اثرات شمار ہوتے ہیں. امام علی رضاؑ فرماتے ہیں: “جو خدا کو یاد کرے لیکن اس کی ملاقات کا شوق نہ رکھتا ہو تو اس نے اپنے آپ کا مذاق اڑایا ہے”.

صاحبان ایمان کے پاس عام طور پر اور امام زمانہؑ کے منتظرین کے پاس خاص طور پر دنیا اور اس کی رنگینیوں پر غلبہ پانے کے لیے اہم ترین اسلحہ اپنے اعتقادات کے حوالے سے پایا جانے والا عشق اور محبت ہے ورنہ دنیا والے اس کی رنگینیوں کے سامنے چھوٹے پڑ جاتے ہیں اور تحقیر کا شکار ہو جاتے ہیں.

مومنین عام طور پر روحانی لذتوں کو مادی لذتوں کا نعم البدل قرار دیتے ہیں کہ جس کے نتیجے میں وه اس دنیا اور اس کی آلوده لذتوں سے دل موڑ لیتے ہیں.

دعائے ندبہ ایسی عاشقانہ فریادوں سے بھرپور ہے جس کی مثال کسی دوسرے عاشقانہ کلام میں نہیں ملتی.

دعائے ندبہ میں منتظر کی پوری دنیا کی نجات کی عاشقانہ فریاد کو دیکھا جائے. حالانکہ عشق ایک انفرادی چیز ہے لیکن امام زمانہ (عج) کے ظہور کا شوق تمہیں جہانی بنا دیتا ہے.

اس سے پہلے بھی امام زمانہؑ کے عشق کے حوالے سے بات کی تھی لیکن ظہور کے شوق کی اس جہت کو بھی پہلے سے زیاده دیکھے جانے اور اس کی اہمیت کو سمجھنے کی ضرورت ہے.

انتظار، “دیدار کے شوق” اور “یار سے عشق” کو دو افراد کی حد سے نکال کر بین الاقوامی حد تک بڑا کر دیتا ہے اور اس کے نتیجے میں منتظر میں اتنی زیاده شرح صدر پیدا ہو جاتی ہے کہ وه پوری دنیا کے لیے آنسو بہا سکتا ہے.

#عالمانہ_انتظار

جوانی کا زمانہ اگرچہ کم تجربہ ہونے کا زمانہ ہے لیکن ناپختگی کا زمانہ نہیں.
جوان روحانی فیوضات اور الله تعالی سے اتصال کے لیے روحانی تر و تازگی اور آمادگی کے عروج پر ہوتے ہیں اگرچہ ان کی خالص فطری پسندیدگیاں ابھی نہ بھی پھوٹی ہوں اور وه ابھی تک اپنے آپ کو نہ پہچان سکے ہوں.
جوان برائیوں سے تعلق نہیں رکھتے مگر یہ کہ حالات انہیں غلطی کا شکار کر دیں یا کچھ چیزیں انہیں دھوکہ دے دیں.
امام جعفر صادقؑ نے ایک شخص سے جو اپنے شہر کے لوگوں کی دین داری کی حالت کے حوالے سے پریشان تھا، فرمایا: عَلَيْكَ بِالْأَحْدَاثِ فَإِنَّهُمْ أَسْرَعُ إِلَى كُلِّ خَيْرٍ (الکافی، ج 8، ص 93) یعنی تم جوانوں پر زیاده توجہ دو کیونکہ ان کی کسی بھی اچھائی کی طرف آنے کی رفتار دیگر تمام گروہوں سے زیاده ہے.
یہ نہیں ہو سکتا کہ خدا نے دینداری کی ابتداء جوانی سے قرار دی ہو لیکن یہ دونوں ایک دوسرے کے لیے مناسب نہ ہوں! جوانی کے دور میں اسلام کے اہم ترین مطالب نہ صرف قابل قبول ہیں بلکہ یہ چیزیں جوانوں کی پسندیده بھی واقع ہوتی ہیں.
دین کی نورانی تعلیمات میں سے ایک “انتظار” بھی ہے جو جوانی کے زمانے کے ساتھ اتنا زیاده مناسب ہے کہ حتی یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ انتظار جوانی کے زمانے کی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت ہے. انتظار جوانوں کے لیے ایک زیاده جوش و خروش اور معرفت بڑھانے والی چیز ہے.
اب ہم انتظار اور جوان کے باہمی رابطے کے چند نمونوں پر نظر دوڑاتے ہیں:
جوانیاورانتظار

امام زمانہ (عج) کے ظہور کے شوق کی علمی بنیادوں کے علاوه اس کے احساساتی پہلوؤں پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے تا کہ اس شوق تک پہنچنے کا راستہ بھی آسان ہو اور اس کی اہمیت بھی ہماری نظروں میں روشن ہو.

امام جعفر صادقؑ کا ایک صحابی آپؑ کے پاس آیا اور اس نے سوال کیا کہ: ہم جو آپؑ کے ساتھی ہیں ان کا ثواب زیاده ہے یا آخری امامؑ کے ساتھیوں کا؟ امامؑ نے جواب دیا: تمہارے کاموں کا ثواب آخری امامؑ کے ساتھیوں سے زیاده ہے. اس نے پوچھا: کیوں؟

امامؑ نے فرمایا: جس طرح چھپا کر صدقہ دینے کا اجر آشکارا صدقہ دینے سے زیاده ہے، اسی طرح پردیس میں موجود امامؑ کے ساتھ اور باطل حکومت کے خوف کی حالت میں تمہاری پردیس میں انجام دی جانے والی عبادات کا ثواب، حق کے ظہور کی حالت میں امام ظاہر کے ساتھ عبادت سے جنہوں نے حکومت تشکیل دے دی ہو گی، زیاده ہے.

باطل حکومت کے دور میں ڈر اور خوف کی حالت میں عبادت کی اہمیت، امن و امان کے ساتھ حق کی حکومت میں عبادت کے برابر نہیں. پہلی حالت کی ایک نماز دوسری حالت کی 25 نمازوں سے بہتر ہے.

اس صحابی نے ایک اور اہم سوال کیا: اگر داستان یہ ہے تو پھر ہم ظہور میں تعجیل کے لیے دعا کیوں کریں؟ اور کیونکر یہ دعا کریں کہ ہم حق کی حکومت کے قیام کے زمانے میں قائمؑ کے اصحاب میں سے قرار پائیں؟ جبکہ ابھی جب ہم آپؑ کی امامت کے زمانے میں ہیں تو ہمارے اعمال کا ثواب زیاده ہے؟

اس سے پہلے کہ ہم امام جعفر صادقؑ کا جواب سنیں، اس سوال کی حساسیت کو خود اپنے لیے واضح کریں تا کہ امامؑ کے جواب کی قدروقیمت کو بہتر طور پر سمجھ سکیں. (جاری ہے…)

#عالمانہ_انتظار

جوان کی نگاه مستقبل پر ہوتی ہے اور وه مستقبل کے حوالے سے بہت زیاده پرامید ہوتا ہے. اسی لیے وه مہدویت سے آسانی کے ساتھ رابطہ برقرار کر لیتا ہے کیونکہ یہ بھی مستقبل سے مربوط ہے. لیکن ضروری چیز یہ ہے کہ ہم اس مستقبل کو اسے واضح طور پر سمجھائیں.
اگر ہم مہدویت کو ایک روشن اور اس کے پسندیده مستقبل کے طور پر بیان نہیں کر پائے تو وه اپنے اور اس جہان کے مستقبل کے حوالے سے اپنے ذہن میں ایک خیالی محل بنا لے گا یا یہ کہ دوسرے افراد اس کے لیے یہ محل بنا دیں گے.
خوبصورت ترین خیالات کو یہی خیالی مستقبل تشکیل دے سکتا ہے اور کیا آپ کو اس بات کا نتیجہ معلوم ہے؟! اس صورت میں وه جس طرح کی بھی زندگی گزارے اور جیسی بھی زندگی کا انتخاب کرے، وه ہر حال میں شکست کا احساس کرے گا!
کیا آپ کو معلوم ہے کہ انتظار نے سلمان فارسی کے ساتھ کیا کیا؟ جب پیغمبر اکرمؐ نے انہیں امام مہدی (عج) کی حکومت میں پلٹنے کا وعده دیا تو وه شوق کی شدت سے گریہ کرنے لگے اور کہا: “اس کے بعد جب میں رسول خداؐ کے محفل سے کھڑا ہوا تو اس دن کے بعد سے میرے لیے اس بات میں کوئی فرق ہی نہیں تھا کہ میں کب اس دنیا سے جاتا ہوں”.
جوان بھی مستقبل سے امید لگاتا ہے اور اس کی یہ خصوصیت ایسے ہی روشن مستقبل سے پُر ہونی چاہیے.
یہ مستقبل اگرچہ اس دنیاوی زندگی سے مربوط ہے لیکن پھر بھی اسے آخرت سے جدا نہیں کرتی اور اس کا انتہائی نورانی اور روحانی اثر ہے. انتظار جوان کی روح کو مستقبل سے ملا دیتا ہے اور اسے موجوده زمانے میں محدود ہونے سے نجات عطا کرتا ہے.
#جوانیاورانتظار

اس سے پہلے کہ ہم امام جعفر صادقؑ کا جواب سنیں، اس سوال کی حساسیت کو خود اپنے لیے واضح کر لیں تا کہ امامؑ کے جواب کی قدروقیمت کو بہتر طریقے سے سمجھ سکیں. امام جعفر صادقؑ کے فرمان کے مطابق اب ایک ساده سا سوال پوچھتے ہیں کہ: وه شیعہ جو آج غیبت کے دور میں نماز پڑھتے ہیں، ان کا ثواب زیاده ہے یا امام جعفر صادقؑ کے اصحاب کا؟ یقینی طور پر غیبت کے زمانے کے شیعوں کا کیونکہ غیبت کے زمانے کے شیعوں نے حتی امام جعفر صادقؑ کو بھی نہیں دیکھا. لہذا اگر امام زمانہ (عج) تشریف لے آئیں تو ہمارا ثواب دو درجے کم ہو جائے گا. ان تفسیروں کے بعد ہم ظہور میں تعجیل کے لیے کیوں دعا کریں؟! ابھی جب ہم برے حالات کا شکار ہیں تو اصولی طور پر ہمارے اچھے کاموں کا کئی گنا ثواب دیا جاتا ہے، ہمارے….. Read More »

اگر کوئی شخص الله تعالی اور حق سے محبت کرتا ہو تو قدرتی طور پر ضروری ہے کہ وه یہ چاہتا ہو کہ سب لوگ الله کو پہچانیں؛ ضروری ہے کہ وه یہ چاہتا ہو کہ سب بی بی فاطمہ (س) کے فرزند امام مہدی (عج) کو پہچانیں.

مثلاً اسے لازمی طور پر یہ فکر ہونی چاہیے کہ: “جاپانی کیونکر امام زمانہؑ کو نہ پہچانیں؟ میرے لیے یہ بات قابل برداشت نہیں کہ میرے آقا پہچانے نہ جائیں”. کیا ہمیں صرف خود اپنے لیے ثواب جمع کرنے کی فکر میں لگا رہنا چاہیے؟ اس طرح سے انسان روحانی خود پسندی کے دائرے سے بھی خارج ہو جاتا ہے.

جب حق سے محبت شدید ہو جاتی ہے تو یہ ظہور کی محبت کی ایک بنیاد بن جاتی ہے اور یہ بنیاد ظہور کی چاہت کی دیگر بنیادوں جیسے بلاؤں اور مشکلات کی وجہ سے سخت پریشان ہو جانے سے زیاده اہمیت رکھتی ہے.

کبھی کبھار حق سے یہ محبت ایک اور طرح سے اپنا اثر دکھاتی ہے اور وه ہے ظالموں سے انتقام لینا اور باطل کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا. اس صورتحال میں بھی انسان کے پورے وجود کو حق پرستی پر کر دیتی ہے اور اس میں خودپرستی کی جگہ باقی نہیں بچتی.

ویسے ہی جیسے ہم دعائے ندبہ میں پڑھتے ہیں کہ: أَیْنَ الطّالِبُ بِدَمِ الْمَقْتُولِ بِكَرْبَلاءَ؟ یعنی “کہاں ہے وه کربلا کے مقتول کا خونخواه؟”؛ دعائے ندبہ کے دیگر فقروں میں بھی یہی حق کا عشق موجزن نظر آتا ہے مثلاً: “میرے لیے یہ بات انتہائی سخت ہے کہ میں تمام مخلوقات کو تو دیکھوں لیکن آپؑ نہ دکھیں اور آپؑ کی جانب سے کوئی بھی صدا حتی آہستہ سے بھی میرے کانوں تک نہ پہنچے… میرے لیے انتہائی مشکل ہے کہ آپؑ کے لیے روؤں لیکن لوگ آپؑ کو چھوڑ دیں. میرے لیے یہ بات انتہائی سخت ہے کہ یہ صورتحال آپؑ کے لیے پیش آئی ہے (اور آپؑ غیبت میں ہیں) نہ کسی اور کے لیے…”

ان فریادوں میں جو چیز انسان کے لیے مشکل ہے وه یہ ہے کہ “وه” غائب ہیں. صرف وه لوگ عاشق نہیں بنے ہیں جن کے پورے وجود کو خودغرضی نے پر کر دیا ہے. منتظر حق کا عاشق ہے.

وه حق کو صرف اپنی سعادت کے لیے لازمی اور تنہا وسیلہ نہیں سمجھتا کہ وه اس حوالے سے کوئی احساسات نہ رکھتا ہو بلکہ وه یقینی طور پر اس کی خوبصورتیوں کو دیکھتا ہے اور اس کی اچھائیوں کو سمجھتا ہے، اسی لیے اس سے عشق کر سکتا ہے.

حق سے عشق اس میں ڈوب جانے کی لذت چکھنے کے بعد حاصل ہوتا ہے اور وه بھی اس حد تک کہ ایسا عاشق خود کو حق کے لیے چاہتا ہے، نہ یہ کہ حق کو اپنے لیے چاہتا ہو.

#عالمانہ_انتظار

جوان آئڈیلسٹ بھی ہوتا ہے. اس حد تک کہ اگر اس کے پاس اچھے آئیڈیلز نہ ہوں تو وه جھوٹے آئیڈلیز کے پیچھے چلا جائے گا.
لہذا اگر #مہدوی_معاشرے کے آئیڈیلز کو اس کے لیے اچھی طرح بیان کیا جائے تو وه ان کی طرف اپنی رغبت کی وجہ سے تیزی سے ان کی طرف کھنچا چلا جائے گا.
جوان اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کے سامنے ایک ایسا مقصد ہو جس سے وه عشق کر سکے اور اس کے لیے قربانی دے سکے.
اگر اس کی یہ آرزو عقلی طور پر بھی صحیح ہو تو پھر اس مثالی چیز کی گرمی اس جوان کی زندگی کو تر و تازگی عنایت کر دے گی ورنہ ایک عرصے تک ایک وہمی خواہش کے پیچھے دوڑنے کے بعد وه مایوسی کا شکار ہو جائے گا اور پھر آئیڈیلز بنانے کے مخالف ہو جائے گا اور موجوده پست حقیقتوں کے سامنے تسلیم ہو جائے گا.
مثالی مقاصد کی طرف توجہ کرنا ایک جوان کو اس دنیا کی پست اور تباه کن حقیقتوں کے اس پر زبردستی نفاذ سے محفوظ رکھتی ہے اور اسے خود غرضی سے نجات دلا کر نور کی طرف فرار کرنے کا راستہ عطا کرتی ہے.
جوان اپنے مثالی مقاصد کے لیے آواز بلند کر سکتا ہے، ان مقاصد کے لیے نغمہ بنا سکتا ہے اور نعرے لگا سکتا ہے. ایک جوان کے لیے اس کے آئیڈیل مقاصد آسانی کے ساتھ اس کے زندگی گزارنے کی دلیل قرار پا سکتے ہیں.
(اب ذرا غور کریں کہ) مہدوی معاشرے کے برپا ہونے کے مثالی مقصد سے بڑھ کر کون سی ایسی چیز ہے جو ایک جوان میں موجود اس کی آئیڈلسٹ روح کو سیراب کر سکے؟! ایک ایسا مقصد جس میں ایک بہترین مثالی مقصد قرار پانے کی تمام خصوصیات موجود ہیں اور یہ انسان کی پوری زندگی پر مشتمل ہو سکتا ہے حتی یہ جوانی اور اس کی مثبت خصوصیات کو اپنے ساتھ تسلسل بھی عطا کر سکتا ہے.
جیسے پرامید ہونا، تروتازه ہونا، شجاعت، قبول کرنے کی صلاحیت، ہمت والا ہونا، بلند نگاه رکھنا، خلاقیت اور جدیت، پاکیزگی، اخلاص، قربت، غیرت اور مردانگی وغیره.

منتظر صرف اپنی نجات کا راستہ ہی نہیں چاہتا. جیسے وه اپنے آپ سے کہہ رہا ہو: چلو اگر مجھے راستہ مل بھی گیا تو باقی لوگوں کا کیا ہو گا؟ ظہور کے عشق کی ایک اہم بنیاد دیگر انسانوں کی ہدایت کا عشق رکھنا ہے. مخلوق سے محبت ایک ایسی چیز ہے جو کبھی کبھار حق کے چاہنے والوں کے درمیان غفلت کا شکار ہو جاتی ہے.

البتہ مخلوق سے محبت کی بنیاد کو اسی حق سے محبت کے ذیل میں تلاش کیا جانا چاہیے. اگر انسان کی خدا سے محبت بڑھے تو انسان میں آہستہ آہستہ یہ جذبہ پیدا ہوتا جاتا ہے کہ وه لوگوں کے حوالے سے بہت زیاده حساس اور مہربان بن جاتا ہے. لہذا انسانوں کا سرانجام جو خدا کے بندے ہیں اور وه اسے پسند ہیں، اس کے لیے اہم ہو جاتا ہے.

شہید چمران اپنی مناجات میں لکھتے ہیں کہ: “میں مکمل طور پر اس بات کا ذمہ دار ہوں کہ مشکلوں اور بلاؤں کے سامنے اٹھ کھڑا ہوں، تمام ناپسندیده چیزوں کو برداشت کروں، غموں کو قبول کروں، شمع کی طرح جلوں اور دوسروں کے لیے راستے کو روشن کروں، مُردوں میں روح پھونکوں، حق و حقیت کے پیاسوں کو سیراب کروں”. اس مناجات میں حق اور مخلوق دونوں کی محبت کا ملاپ کتنا شیرین ہے!

ایک عارف کے بارے میں نقل کرتے ہیں کہ وه مرنے کے قریب حالت احتضار کی حالت میں بہت زیاده رو رہے تھے کہ میں خدا کو کیا جواب دوں گا؟ ان سے پوچھا گیا کہ آپ اس طرح کی بات کیوں کر رہے ہیں؟ جواب دیا: اگر میں اس دنیا میں چلا جاؤں اور خدا مجھ سے کہے کہ تو تو میرا دوست تھا لیکن دنیا کے کسی گوشے میں کوئی ایک گمراه باقی ره گیا تھا تو تم نے اسے میرا دوست کیوں نہیں بنایا؟ پھر میں الله کو کیا جواب دوں گا؟!

فرج کی محبت یعنی لوگوں سے محبت، یعنی سعہ صدر کا حامل ہونا، بڑی نظر رکھنا. منتظر پوری دنیا کو اپنے سینے کے ایک کونے میں دیکھتا ہے اور وه دنیا کے تمام لوگوں سے ارتباط رکھتا ہے.

جب دعائے عہد میں امام زمانہ (عج) پر درود بھیجنا چاہتا ہی تو اس طرح پکارتا ہے:

خدایا ان تمام مومنین کی جانب سے جو زمین کے مشرق اور مغرب میں زندگی گزارتے ہیں، دشت و صحرا اور کوہستانوں میں زندگی گزارتے ہیں، خشکیوں میں یا سمندروں میں زندگی گزارتے ہیں، اور میرے ماں باپ کی طرف سے ہمارے مولا امام مہدی (عج) پر صلوات بھیج.

یہ کیسی وسیع نگاه ہے کہ جب امام زمانہؑ پر سلام بھیجنا چاہتا ہے تو صرف اپنی طرف سے سلام نہیں بھیجتا اور بس، بلکہ پورے عالم اسلام کی طرف سے سلام بھیجتا ہے؟ یہ سب ایک منتظر کے سعہ صدر کی وجہ سے ہے.

#عالمانہ_انتظار

انتظار کا مسئلہ مکمل طور پر ایک #اجتماعی مسئلہ ہے اور وه بھی #پوریانسانیت کی حد تک پھیلا اجتماعی مسئلہ. جوان بھی معاشرے سے گہرا لگاؤ رکھتا ہے. اس کے لیے دوسرے افراد انتہائی اہم ہیں. اگر وه دوسروں پر ظلم ہوتے دیکھے تو وه برداشت نہیں کر سکتا. جوان ابھی تک خودغرضی کے خول میں دبا نہیں ہوتا. لوگ عمر کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ خودغرضی کا شکار ہوتے جاتے ہیں. ضروری ہے کہ جوان پر خودغرضی کے غلبہ پانے سے پہلے اس کے دل میں “پوری انسانیت کے ظلم سے نجات حاصل کرنے کا انتظار” مضبوط کر دیا جائے. معاشره ایک جوان کی نظر میں اس کی ترقی کے لیے ایک معمولی وسیلہ شمار نہیں ہوتا بلکہ بعض اوقات خود یہ جوان اس معاشرے کی ترقی کو اپنا مقصد بنا لیتا ہے اور خود کو اس مقصد کے لیے قربان کر دیتا ہے. جوان جب اپنے گھر والوں سے ہٹ کر مستقل ہونا چاہتا ہے تو اس کی معاشرے کی طرف رغبت اپنے هم عمر دوستوں کی طرف رغبت سے شروع ہوتی ہے. لیکن پھر وه اسی گروه میں ہی باقی نہیں رہتا بلکہ تیزی سے معاشرے کی طرف رغبت پیدا کر لیتا ہے، اور اگر اس کے پھلنے پھولنے کا راستہ سلامتی کے ساتھ طے ہو تو وه ایک #عالمیانسان بن جائے گا.
فرج کے انتظار سے مراد پوری دنیا کو خوش قسمت بنانا ہے. اب اس انتظار سے بڑھ کر اور کونسی ایسی چیز ہے جو ایک جوان میں پائی جانے والی “معاشرے کی رغبت” کی پیاس کو سیراب کر سکے؟!

بہت سے لوگ یہ پوچھتے ہیں کہ ظہور سے متعلق عشق میں کس طرح اضافہ کریں؟ اور ظہور کے حوالے سے اشتیاق کے عروج کی حالت میں کس طرح زندگی گزاریں؟ تا کہ ہم امام زمانہ (عج) کے حقیقی منتظرین میں سے شمار ہوں؟

اس کا جواب یہ ہے کہ اس شوق میں اضافے کا راستہ “تقوی کے حصول”، “عبادات کے صحیح اور مخلصانہ طور پر انجام دینے” اور “الہی احکامات پر عمل خاص طور پر #اجتماعی_ذمہ_داریوں پر عمل” کے علاوه کچھ نہیں.

اور ان تمام کاموں کی انجام دہی اور ضروری معلومات اور گہری اور دقیق آگاہی کے حصول کے بعد اگر ہم یہ چاہیں کہ کوئی خاص کام انجام دیں تو ضروری ہے کہ “ذکر” پر توجہ کریں. یہ وه جگہ ہے جہاں “ذکر” کی اہمیت واضح ہوتی ہے. یہ وه مقام ہے جہاں “دعائے ندبہ”، “دعائے عہد”، “دعائے سلامتی امام زمانہؑ” اور دیگر دعائیں ضروری ہو جاتی ہیں.

اگر کوئی امام زمانہؑ سے محبت کرتا ہے اور ان کا منتظر ہے تو کیا اسے کم از کم دن میں ایک بار ان کی یاد کو تازه نہیں کرنا چاہیے؟ کیا اسے اپنی نمازوں کے قنوت اور دعاؤں کی قبولیت کے دیگر موقعوں پر ان کے فرج کے لیے دعا نہیں کرنی چاہیے؟

چونکہ دعائے عہد ایک مستقل پڑھی جانے والی دعا ہے اور اس میں بہت سے بنیادی اور قیمتی مفاہیم کی طرف اشاره کیا گیا ہے اور وه ایک شجاعت سے بھرپور دعا شمار ہوتی ہے، اس لیے اسے ان اذکار میں ایک خاص اہمیت حاصل ہے. امام خمینیؒ فرماتے تھے: دعائے عہد انسان کی تقدیر کے لیے مؤثر ہے.

ایک اہم نکتہ جس پر توجہ ضروری ہے وه یہ کہ جب تک “ذکر” نہ ہو “چاہت” میں بھی اضافہ نہیں ہوتا. حتی دنیا کے معاملے میں بھی ایسا ہی ہے.

یہ نہ کہو کہ جب بھی میرا دل تنگ ہونے لگتا ہے تو امام زمانہؑ کو یاد کر لیتا ہوں. نہیں اپنے لیے یاددہانی کا ایک شیڈول بناؤ. البتہ اسے مختصر ہونا چاہیے لیکن وه مسلسل جاری رہے. اس سے آہستہ آہستہ امام زمانہؑ کی چاہت بڑهتی چلی جائے گی.

اس کے علاوه اگر ہمارا دعوی ہے کہ ہم امام زمانہؑ کے ظہور کے مشتاق ہیں تو پھر ہمیں امیرالمؤمنینؑ کے اس کلام کی نورانیت کو اپنے اندر محسوس کرنا چاہیے: مَن أحَبَّ شيئاً لَهِجَ بِذِكرِهِ یعنی جو بھی کسی چیز کو پسند کرتا ہو تو اس کی یاد اور اس کے ذکر کا مشتاق ہو جاتا ہے.

#عالمانہ_انتظار

عدل و انصاف ایسے بنیادی مطالب میں سے ایک ہے جو حتی جوانی سے پہلے بھی سمجھ آ جاتا ہے اور اس کا فطری ہونا ایک واضح سی بات ہے. جوان انصاف پسندی کے عروج پر ہوتا ہے. اور اگر وه شدید قسم کی خودغرضی کا شکار نہ ہوا ہو تو وه پوری دنیا کے لیے عدل و انصاف کا خواہاں ہوتا ہے.
ظلمسےمقابلہ اور #تعصبسےدوری دو ایسی صفات ہیں جو جوان میں آسانی سے دیکھی جا سکتی ہیں اور یہ دو جوان کی مسلمہ خصوصیات میں سے ہیں.
اب اگر یہ جوان اپنی انصاف پسندی کو کسی جگہ پر پامال ہوتے ہوئے دیکھے تو مایوسی کا شکار ہو جائے گا اور کیا پتہ کہ شاید وه ظالموں کے گروه میں شامل ہو جائے یا کم از کم بے غیرتی کا شکار بے حس لوگوں میں شامل ہو جائے!
انتظار ایک ایسی چیز ہے جو جوان کی انصاف پسندی کی صفت کو جہت اور اسے ایک عدل و انصاف سے بھرپور معاشرے کی طرف حرکت دے سکتا ہے، اور ایسے معاشرے کی تشکیل کے لیے اس کی کوششوں کو مزید بڑھا سکتا ہے.
ایک ایسا معاشره جس میں بے عدالتی کا دور دور تک کوئی نشان نہ ہو وه عدل و انصاف کے متلاشی جوانوں کو اپنا گرویده بنا سکتا ہے. ایک ایسا معاشره جہاں سب کو اپنے حقوق حاصل ہوں گے اور وه اپنے اندر موجود صلاحیتوں کو عملی ہوتا دیکھیں گے، حتی ایسے معاشرے کا تصوّر بھی ایک جوان کے لیے لذت بخش ہے.
انتظار ایک جوان کی انصاف پسندی کی صفت کی پرورش کر سکتا ہے اور اجتماعی سطح کی انصاف پسندی اس جوان کی باطنی عدل و انصاف کی پختہ عادت کو تقویت عطا کر سکتی ہے.

البتہ جس طرح پہلے بھی اشاره ہوا کہ ذکر کی بنیاد غوروفکر کرنا ہے. اگر انسان غوروفکر کو احساسات اور پسندیدگی کے ساتھ انجام دے تو اس کا نام “ذکر” ہے. یہ وه نکتہ ہے جہاں سے “ذکر” اور “زبانی ورد” کا فرق واضح ہو جاتا ہے. اگرچہ زبانی ورد اور وظائف کی اپنی جگہ ایک اہمیت ہے لیکن غوروفکر کے بغیر ورد کرنا کبھی بھی اولیاء الہی کا طریقہ نہیں رہا ہے.

ایک انتہائی اہم چیز جس کی طرف توجہ انسان کو اہلِ ذکر بنا دیتی ہے اور خاص طور پر ظہور کے حوالے سے ہمیں دعا کرنے پر مجبور کر دیتی ہے، وه یہ حقیقت ہے کہ فرج کے حوالے سے ہماری دعا قبول ہوتی ہے اور الله تعالی اس حوالے سے اپنے بندوں کی نگاه کو اہمیت دیتا ہے.

یہ اس کا ایک عمومی ارشاد ہے کہ: ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ (سوره غافر: 60) یعنی مجھے پکارو تا کہ تمہاری (دعا) قبول کروں. اور یہ ایک خاص ارشاد ہے جو امام زمانہ (عج) نے اپنے دوسرے نائب خاص کے جواب میں فرمایا: تعجیل فرج کے لیے زیاده دعا کرو، یقینی طور پر اس عمل میں تمہارے لیے فرج ہے.

ہمیں اس بات پر اعتقاد رکھنا چاہیے کہ ظہور کے حوالے سے ہمارا اشتیاق اور ہمارے احساسات اس عالم میں تاثیر رکھتے ہیں.

اس شوق کے خود ہماری ذات میں، ہماری دنیا اور ہماری کائنات میں اثرانداز ہونے کے علاوه ایک اہم ترین اثر الله تعالی کی تقدیر میں اثرانداز ہونا ہے. خدا جو ظہور کے لیے فیصلہ کرنے والی اصلی ذات ہے، اس فیصلے کے لیے ہمارے دلوں پر نگاه کرتا ہے.

امام حسن عسکریؑ ظہور کے لیے دعا کرنے کے انسانی نجات پر پڑنے والے اثر کے بارے میں فرماتے ہیں: خدا کی قسم! (امام زمانہؑ) کے لیے ایک ایسی غیبت پیش آئے گی کہ اس میں صرف وہی ہلاکت سے نجات حاصل کرے گا جسے خدا ان کی امامت کے اعتقاد پر ثابت قدم رکھے گا اور اسے تعجیل کی دعا کرنے میں کامیاب کرے گا.

#عالمانہ_انتظار

پہلے ہم نے انتظار کے پانچ عناصر کو بیان کیا یعنی:
1) موجوده حالت پر معترض ہونا
2) مطلوبہ حالت سے آگاہی
3) مطلوبہ حالت کے حصول پر اعتقاد
4) مطلوبہ حالت کا شوق
5) مطلوبہ حالت کے حصول کے لیے اقدام
خلاصہ یہ کہ منتظر وه انسان ہے جس میں یہ پانچ عناصر پائے جاتے ہوں. اب ہم ان پانچ عناصر کو جوان کی نسبت سے اشارتاً بیان کریں گے:
جوان رسم و رواج سے مقابلہ کرتا ہے اور یہ خصوصیت خدا نے جوان کے وجود میں قرار دی ہے تا کہ وه ماضی سے جدا ہو سکے اور اس کے لیے انتخاب کا موقع فراہم ہو.
اور اگر ایسا نہ ہوتا تو وه چیز جو اسے اس کے گھرانے اور معاشرے نے بتا دی وه انہیں بغیر سوچے سمجھے قبول کر لیتا اور اس طرح روحانی استقلال و آزادی اور انتخاب کی نوبت ہی نہ آتی.
البتہ دیگر قدرتی صفات کی طرح اس صفت کے لیے بھی ضروری ہے کہ اسے صحیح جہت دی جائے اور دھوکے اور غلط جہت سے دور رکھا جائے تا کہ جوان اس فطری خصوصیت کی وجہ سے نافرمانی اور بے قید و بند زندگی کا شکار نہ ہو جائے.
یہ جو کپڑوں کے جدید ڈیزائن جوانوں کے ذریعے پھیلائے جاتے ہیں یہ ان کے رسم و رواج سے منہ موڑنے کا ایک چھوٹا سا نمونہ ہے. اور اگر جوان کو اس صفت کی وجہ سے سرزنش کی جائے اور وه برا مان لے تو پھر وه رسم و رواج کو توڑ دینے والا بن جاتا ہے.
جوان اپنی اسی رسم و رواج مخالف صفت کی وجہ سے پسند کرتا ہے کہ وه موجوده حالات پر اعتراض کرے اور ایک جوان میں موجوده حالات میں موجود ہر برائی کے حوالے سے اعتراض کرنے کا جذبہ بہت زیاده حد تک پایا جاتا ہے.
اب اگر یہ جذبہ انتظار کے پہلے عنصر یعنی موجوده حالت پر معترض ہونا، مہدوی معاشره پر اعتقاد کے ذیل میں ہو تو پھر اس جوان کی انرجی ایک بڑے مقصد کے حصول کی راه میں خرچ ہو گی.

امام جعفر صادقؑ معاشرے کی نجات کے لیے فرج کی دعا کی تاثیر کے بارے میں فرماتے ہیں کہ: جب بنی اسرائیل پر فرعون کی سختیاں اور دباؤ طولانی ہوا تو بنی اسرائیل نے 40 دن تک الله کی بارگاه میں گریہ و زاری کی اور زوردار فریادیں کیں. اس دوران خدا نے حضرت موسیؑ اور حضرت هارونؑ کی طرف وحی فرمائی کہ انہیں فرعون سے نجات دلائیں. اور اس طرح الله نے ان کے لیے مقدر کی گئی انتظار کی مدت کو 170 سال کم کر دیا اور حضرت موسیؑ اور حضرت هارونؑ کو بھیج کر بنی اسرائیل کے لیے فرج واقع ہوا.

پھر امامؑ نے فرمایا: اگر تم بھی اسی طرح عمل کرو تو الله تعالی ہمارے فرج کو بھی پہنچا دے گا. لیکن اگر اس طرح شدت سے گریہ و زاری نہ کرو گے اور دعا نہ کرو گے تو انتظار کی مدت اسی معین شده وقت کے پہنچنے تک طولانی ہو جائے گا.

آیت الله بہجتؒ بھی ظہور کی دعا کی یقینی تاثیر کے بارے میں فرماتے ہیں: ہمیں کتنا زیاده امام زمانہ (عج) کی یاد میں رہنا چاہیے اور ان کے ظہور میں تعجیل کے لیے دعا کرنی چاہیے؟! یقینی طور پر ان کے ظہور میں تعجیل کے لیے دعا اثرانداز ہوتی ہے لیکن صرف زبان سے خالی خولی “عجّل فرجه” کہنا اور اسے مجلس کے آخر میں صرف اس لیے کہنا کہ لوگ کھڑے ہو جائیں!

امام زمانہؑ کے ظہور کی دعا نافلہ نماز کی طرح ایک مستحب عمل ہے، یعنی ہم سچائی، سنجیدگی اور پورے دھیان کے ساتھ اس سے متأثر ہوں اور خدا سے دعا کریں تا کہ ایک ہزار اور چند سالوں کا وه فاصلہ جو لوگوں اور خداوند عالم کے فیض کے وسیلے کے درمیان حائل ہو گیا ہے، برطرف ہو اور اس مدت کا اختتام ہو. لوگوں سے غم و اندوه اور رقت قلبی کے ساتھ دعا نہیں کی جاتی کیونکہ اگر ایسا ہوا ہوتا تو یقینی طور پر ابھی ایسے حالات نہیں ہوتے.

#عالمانہ_انتظار

جوان کی سوچنے کی طاقت کو معمولی نہیں سمجھنا چاہیے. جوان اپنی تصوّر کرنے کی صلاحیت کی بدولت دیگر تمام افراد سے زیاده بہتر انداز میں مطلوبہ حالت کی تصویر اپنے ذہن میں بنا سکتے ہیں.
ذہن میں مطلوبہ حالت کی تصویر بنانے کی صلاحیت جوانوں کو موجوده حقیقتوں کی محدودیت سے اور مطلوبہ حالت کے حاصل ہونے کے حوالے سے غیریقینی صورتحال کا شکار ہونے سے نجات دے سکتی ہے.
ایسا کیونکر ہے کہ الله تعالی نے دینداری کے آغاز اور بالغ ہونے کی عمر انسان کی زندگی کے اس مرحلے کو قرار دیا ہے جب اس میں خیالات ایجاد کرنے کی صلاحیت انتہائی مضبوط ہے؟!
شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ ایک جوان ہر چیز سے پہلے “مطلوبہ حالت” کو اپنے ذہن میں “تصوّر” کر سکے. وہی مطلوبہ حالت جس تک وه اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں دینداری اور صالح کردار کے ذریعے پہنچے گا، جو اس کے لیے دنیا میں حیات طیبہ اور آخرت میں ہمیشہ کی سعادت کے حصول کا سبب بنے گی.
اگر جوان آخرت کو تصّور نہ کر سکے تو اس سے بالکل نہیں ڈرے گا یا اس کی طرف رغبت نہیں کر پائے گا.
اس صفت کا ایک اور کام اسی دنیا میں مطلوبہ حالت کا تصوّر کرنا ہے. اگر جوان اسی دنیا میں مطلوبہ حالت کو تصوّر نہ کر سکے تو اس کی طرف رغبت بھی پیدا نہیں کرے گا اور اس تک پہنچنے کے لیے کوئی اقدام بھی نہیں کرے گا.
انسان کی دینداری کے آغاز کے دور یعنی جوانی کے زمانے میں سوچنے کی صلاحیت، غوروفکر اور تدبر کے لیے ایک انتہائی کارآمد چیز ہے.

ایک اور طرح سے بھی ایک منتظر کے اہلِ عمل ہونے پر نگاه کی جائے: انتظار کی آفات میں سے ایک اپنے لیے خیالی دنیا بنا لینا ہے جو اہلِ عمل ہونے کے خلاف ہے.

یہ آفت زیاده تر جوانوں کے دامن گیر ہوتی ہے. اور اگر یہ مشکل جوانی سے شروع ہو تو پھر بڑهاپے میں بھی انسان اس میں مبتلا رہتا ہے.

منتظِر جس کا انتظار کرتا ہے اسے پانے کی آرزو اپنے دل میں لیے رہتا ہے لیکن اگر یہی عاشقانہ خیال اور عمل کی طرف بلانے والے جذبے سے عملی کام نہ لیا جائے تو یہی چیز منتظر کو شدید نقصان پہنچائے گی. اور یہی پسندیده مشکل یعنی محبوب کے دیدار کے صرف خیالات اگر کنٹرول نہ ہوں تو یہ عمل سے دوری کا سبب بنیں گے!

امیرالمؤمنینؑ نہج البلاغہ کے سب سے طولانی کلمہ قصار میں فرماتے ہیں کہ: ان لوگوں کی طرح مت بنو جو عمل کے بغیر آخرت کی امید رکھتے ہیں اور توبہ کو لمبی امیدوں کی وجہ سے تاخیر میں ڈالتے ہیں.

ایک منتظر اگر حقیقت میں بھی منتظر ہو تب بھی ممکن ہے کہ اس مشکل سے دوچار ہونے کی وجہ سے عمل سے دوری اختیار کرے اور اپنی خوش خیالی کی دنیا میں غرق ہو جائے.

کبھی کبھار ابلیس بھی انسان کو ان عاشقانہ اور عارفانہ آرزوؤں کے ذریعے حرکت کرنے سے روک دیتا ہے. ضروری ہے کہ اس کی ہمیشہ کی خیانتوں سے ڈرا جائے اور اس کے پلید ہاتھوں سے ہوشیار رہا جائے جو انسان کو خیالات کے ذریعے خمار کا شکار کر دیتا ہے.

ہمیں ہمیشہ یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ: عمل، آرزو سے تلخ تر ہے. آپ اچانک دیکھیں گے کہ ایک آرزوئیں رکھنے والا منتظر اپنی آرزوؤں کی مٹھاس میں غرق ہو گیا ہے اور وه عمل اور کام کے ذریعے اپنے پسندیده اہداف تک پہنچنے سے ہاتھ اٹھا چکا ہے کیونکہ عمل کرنا تلخ ہے!!

#عالمانہ_انتظار

جوان کا روشن ضمیر اور اس کی پاک روح ایسی چیزوں کی تصدیق کرتی ہے جو دیگر افراد کے لیے میسر نہیں ہوتی.
البتہ اگر یہ پاک فطرت منحرف افراد کے ہاتھوں استعمال ہو جائے تو اس کا نتیجہ واضح ہے لیکن اگر یہ پاک ضمیر حق کے سچے پیغامات کے راستے میں آ جائے تو اس کا نتیجہ اچھائیوں کی طرف تیزی سے بڑھنے اور اسلام کے نورانی عقائد پر یقین کی صورت میں نکلے گا.
انقلاب کی تحریک میں بہت سے لوگ اس بات پر یقین نہیں رکھتے تھے کہ امام خمینیؒ کامیاب ہو جائیں گے لیکن جوانوں نے ان کے وعدوں پر اعتماد کیا اور پھر انہیں نتیجہ بھی حاصل ہوا اور وه پوری دنیا کے لیے تعجب کرنے کا سبب بھی بنے.
جوان فطرت نے عالم غیب پر ایمان کے لیے راه کو ہموار کر دیا ہے اور ایک جوان ان الہی وعدوں کو قبول کر لے گا جو بظاہر دنیاوی حوالے سے انہونی چیزیں نظر آتی ہیں.
ممکن ہے بہت سے لوگ ظہور سے متعلق وعدوں اور اس کے بعد پیش آنے والے واقعات کے حوالے سے مشکلات کا شکار ہوں اور وه کافی دلیلوں کے لائے جانے کے بعد بھی انہیں آسانی سے قبول نہ کر سکتے ہوں لیکن ایک جوان میں قبول کرنے کی صلاحیت زیاده ہے.
جوان کی حق کو قبول کرنے کی صلاحیت اتنی زیاده ہے کہ ممکن ہے وه ان چیزوں کو بھی فوراً قبول کر لے جو حق سے ملتی جلتی ہوں یا اس چیز کے ساتھ تھوڑا بہت حق بھی ہو.
لیکن یہ بات جوان میں موجود باطنی پاکیزگی اور حق قبول کرنے کی آمادگی کو کم نہیں کرتی.

ممکن ہے کبھی یہ سوال بھی ہمارے لیے پیش آ جائے کہ کیا حقیقتاً ہمارا عمل ظہور کے لیے مؤثر ہو سکتا ہے؟!

کبھی کبھار کچھ چیزیں ہماری نظر میں اتنی زیاده مقدس اور انسان کی دسترس سے باہر نظر آتی ہیں کہ ہم ان کے بارے میں ہر طرح کے کام کو اپنے علم و عمل کے دائرے سے خارج سمجھتے ہیں.

وه لوگ جو کسی بھی دلیل کی وجہ سے ظہور کے لیے میدان فراہم کرنے کے حوالے سے دلچسپی نہیں رکھتے وه فرج کو ایک غیر معمولی اور انسانی دسترس سے باہر کی چیز سمجھتے ہیں جبکہ ظہور نہ صرف منتظرین کی “معرفت” اور “احساس” سے وابستہ ہے بلکہ ان کے “عمل” سے بھی وابستہ ہے.

البتہ کونسا اقدام کس زمانے میں کیا نتیجہ رکھتا ہے اور ظہور کے لیے کس حد تک معرفت، محبت اور عمل کی ضرورت ہے، یہ بات بہت واضح نہیں ہے. لیکن مختصر طور پر ہم یہ جانتے ہیں کہ ہمارا عمل ظہور کے حوالے سے انتہائی مؤثر ہے. اور اس بات کی دلیل کہ ہمارے اقدامات ہماری تقدیر پر اثرانداز ہوتے ہیں وه الہی اصول ہے جو اس آیت میں واضح طور پر بیان ہوا ہے: إِنَّ اللَّـهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنفُسِهِمْ (سوره رعد: 11) یعنی “خدا کسی قوم کے حالات کو اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے کو تبدیل نہ کر لے”.

ہمارے پاس کیا دلیل ہے کہ ظہور کی شرائط اس الہی اصول سے خارج ہوں؟ ہمیشہ سے ایسا ہی رہا ہے کہ جب تک ہم خود اپنے آپ میں، اپنے معاشرے کے حالات میں اور اپنی دنیا میں تبدیلی نہ لائیں تو الله تعالی کی جانب سے بھی ہمارے حالات میں تبدیلی پیش نہیں آتی.

دوسری طرف سے ہمیں چاہیے کہ ہم خلقت کے فلسفے، دیگر الہی قوانین اور پیغمبروں کی بعثت کی طرف بھی توجہ کریں. اس صورتحال میں ہمارے لیے یہ بات واضح ہو جائے گی کہ فتح، کامیابی اور الہی نصرت، بندوں کی جانب سے کی جانے والی نصرت سے مشروط ہے: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن تَنصُرُوا اللَّـهَ يَنصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ (سوره محمدؐ: 7) یعنی “ایمان والو! اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو اللہ بھی تمہاری مدد کرے گا اور تمہیں ثابت قدم بنادے گا”.

اگر یہ طے ہے کہ دین کا ایک ایسا منصوبہ ہونا چاہیے جو انسان کو دنیا میں پیش آنے والی مشکلات سے عبور کروا کر خدا کی طرف لے جائے تو پھر اصولی طور پر کسی بھی موقع پر یہ عبور کروانے کا منصوبہ انسانوں کی صلاحیت اور ان کے اقدامات کو چھوڑ کر 100% خدا کے اراده سے مربوط نہیں ہونا چاہیے.

#عالمانہ_انتظار

“تمنائیں اور آرزو رکھنا” بھی ایک ایسی صفت ہے جو جوانی کے دور سے سب سے زیاده نسبت رکھتی ہے.
جوانی کے ایام میں ایک عالم مجھ سے فرماتے تھے کہ: “اپنی جوانی کی قدر کرو. ابھی میری پوری کوشش یہ ہے کہ اپنے آپ کو قبر کی منزل سے سلامتی کے ساتھ گزار سکوں اور الله تعالی کے حضور میں پہنچوں. بڑی تمنائیں، بڑی چاہتیں، معاشرے کو دیکھنا اور آئیڈیل مقاصد کی طرف توجہ، یہ سب جوانی کے دور کی باتیں ہیں. اس کی قدر کرو.
البتہ یہ نہ سمجھنا کہ یہ تمہارے لیے کوئی فضیلت کی بات ہے بلکہ یہ صفات ہر جوان میں پائی جاتی ہیں. نہ ہی غرور کا شکار ہونا اور نہ ہی ان صلاحیتوں کو استعمال کیے بغیر چھوڑ دینا”.
یہ جوان ہے جو اس کی ہاتھ نہ آنے والی آرزوؤں کے لیے گھنٹوں گریہ کر سکتا ہے، شعر کہہ سکتا ہے اور اپنے خدا سے اس بارے میں راز و نیاز کر سکتا ہے.
اس کے علاوه ہر انسان جو بڑی عمر میں بھی چاہتا ہے کہ ان خصوصیات کا حامل ہو تو اسے چاہیے کہ وه اپنی جوانی کی حفاظت کرے.
عرفاء اور اچھے انسان ہمیشہ جوان رہتے ہیں. اور شاید ان کے جوانوں کے ساتھ آسان اور گہرے ارتباط کا راز بھی ان کے جوان باقی رہنے میں ہی ہو.
ظہور کی تمنا ایک بہت بڑی آرزو ہے اور جوان اس آرزو رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں.
جتنی آسانی کے ساتھ جوان اس بڑی آرزو کرنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں اتنا ہی جوانوں کے علاوه دیگر عمر کے افراد کے لیے اتنی بڑی آرزو رکھنا مشکل ہے.

ساتھ ہی ساتھ یہ نکتہ بھی اہم ہے کہ ہمیں کبھی بھی اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے سے منع نہیں کیا گیا ہے اور اس بہانے سے کہ حق صرف ظہور کے زمانے میں نافذ ہو گا ہماری طاقت کے مطابق حق کے نفاذ سے منع نہیں کیا گیا ہے، اور اپنی طاقت و قدرت کے مطابق حق کے اجراء، مظلوموں کی مدد اور ظالموں سے مقابلے کی ذمہ داری ہمارے کاندھوں سے اٹھائی نہیں گئی ہے.

قدرتی طور پر جب ہم اپنی طاقت کے مطابق اقدام کریں گے تو دنیا میں نئے قسم کے حالات پیدا ہو جائیں گے، ایسے حالات جو الہی اصولوں کے مطابق الله کی نصرت کو پکاریں گے اور پھر آج کی دنیا کی حدود کو دیکھتے ہوئے الله تعالی کی نصرت امام زمانہ (عج) کے ظہور کے علاوه کوئی اور چیز نہیں ہو سکتی.

آج اسلامی معاشروں کو خاطر میں لائے بغیر، حتی انسانی معاشروں کو خاطر میں لائے بغیر مومنین کی ایک تعداد کو ظلم کے پنجے سے نجات دلانا معنی نہیں رکھتا.

اگر آج ہم دنیا کے حالات پر نظر دوڑاتے ہیں تو نظر یہ آتا ہے کہ اگر کوئی ظلم کے خلاف کھڑا ہو جائے اور پائیداری کا مظاہره کرے تو ظلم کی پوری دنیا اس سے مقابلے کے لیے اٹھ کھڑی ہوتی ہے؛ اور اگر وه کسی بھی مرحلے میں کامیابی حاصل کرے تو ظلم کی پوری سلطنت نابودی کے قریب پہنچ جاتی ہے.

اب حق و باطل کے درمیان کوئی بھی معرکہ دنیا کے کسی ایک کونے تک محدود نہیں ره سکتا. لہذا ان حالات میں الله تعالی کی مظلوموں کے لیے نصرت، ظہور کا ہونا اور مکمل طور پر حق و عدل کی حکومت کے علاوه کوئی چیز نہیں ہو سکتی.

اس حوالے سے امام خمینیؒ کا قول: “آغا ہماری ذمہ داری ہے! ایسا نہیں کہ چلیں اب تو ہم ظہور امام زمانہؑ کے منتظر ہیں تو پھر گھر میں بیٹھ جائیں اور تسبیح ہاتھ میں لے کر کہیں “عَجّلْ عَلیٰ فَرَجِه”.

عجّل! ضروری ہے کہ آپ کے عمل کے نتیجے میں تعجیل ہو، ضروری ہے کہ آپ امام زمانہؑ کے آنے کے لیے میدان فراہم کریں. اور میدان فراہم کرنا اس طرح سے ہے کہ مسلمانوں کو آپس میں جمع کریں. سب ایک ساتھ ہو جائیں. ان شاءالله وه ظہور فرمائیں گے”.

رہبرمعظم کا قول: “یقیناً الہی وعده حق ہے اور عالمی سطح پر عدل کا قائم ہونا صرف امام زمانہ (اروحنا له الفداء) کے ظہور کے دوران انجام پائے گا لیکن ایک مومن اور مقابلہ کرنے والی قوم اس حکومت کی تشکیل کے لیے میدان فراہم کر سکتی ہے؛ جیسے کہ ایرانی قوم اب تک یہ کام کر سکی ہے اور اس نے بہت سے مشکلات پر قابو پا لیا ہے”.

#عالمانہ_انتظار

اس موضوع کے حصول کے لیے ایک بہت بڑی شرط پائی جاتی ہے اور وه ہے جرأت. کیونکہ بہت سی دفعہ دنیا کے حالات کو تبدیل کرنا پانی کے مخالف سمت میں تیراکیکرنے کا مصداق ہے.
اس کے لیے ضروری ہے کہ آپ سرزنش ہونے سے نہ ڈریں اور قربانی دینے کا جذبہ رکھتے ہوں. یہ جہاد کے لوازم میں سے ہے کہ آپ دوسروں کے سرزنش کرنے سے پریشاننہ ہوں:
يجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ وَلَا يَخَافُونَ لَوْمَةَ لَائِمٍ (سوره مائده: 54) یعنی “تو عنقریب خدا ایک قوم کو لے آئے گا جو … راهِ خدا میں جہاد کرنے والی اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہ کرنے والی ہوگی”.
جوان کے لیے اس جرأت کا حصول ایک آسان چیز ہے.
امام محمد باقرؑ جابر سے فرماتے ہیں کہ: اگر تمہارے شہر کے سارے لوگ جمع ہوں اور کہیں إنَّکَ رَجُلٌ سَوْءٍ یعنی تم برے انسان ہو، اور اگر یہ بات تمہیں ناگوار گزرے، یا یہ کہ وه کہیں: إنّکَ رَجُلٌ صَالِحٌ یعنی تم ایک اچھے انسان ہو، اور تم اس بات سے خوشی کا احساس کرو تو تم ہمارے دوستوں میں سے نہیں (تحف العقول، ص 284).
ضروری ہے کہ انسان روحانی حوالے سے اتنا مضبوط ہو.

منتظر، ظہور کے لیے ذمہ داری کا احساس کرتا ہے. منتظر اپنے اوپر عائد ہونے والی بھاری ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لیے خود کو تیار کرنے کی کوشش کرتا ہے.

اس تیاری کے لیے دقیق منصوبہ بندی اور مسلسل کوشش کی ضرورت ہے اور اسی وجہ سے منتظر کی زندگی دوسروں سے مختلف ہو جاتی ہے. گویا منتظر اپنی زندگی کے سارے پہلوؤں کے لیے منصوبہ بندی کرتا ہے. اس کی زندگی ایک گوریلا انقلابی اور مکمل طور پر ایک مقابلہ کرنے والے کی سی زندگی ہو جاتی ہے. یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک انسان انقلابی جذبہ نہ رکھتا ہو پھر بھی ایک منتظر کے عنوان سے اپنی تربیت کرنا چاہے.

“خودسازی” یعنی “خود اپنی تربیت” کرنے کا شیڈول بنانے کے لیے ضروری ہے کہ مختلف پہلوؤں پر غور کیا جائے. اگرچہ خودسازی کا بنیادی نکتہ “آرام” اور “غفلت” سے دوری اختیار کرنا ہے لیکن کبھی یہ سفر روحانیت اور روح میں پائی جانے والی صفات کی اصلاح پر توجہ دینا ہے اور کبھی زندگی گزارنے کے رائج کاموں کو منظم کرنے کی طرف توجہ دینا.

منتظر کے پاس اپنے کھانے پینے کے لیے شیڈول ہوتا ہے. منتظر حتی اپنے سونے اور جاگنے کے لیے بھی شیڈول بناتا ہے. روایات میں نقل ہوا ہے کہ بین الطلوعین (یعنی اذان صبح سے طلوع آفتاب تک) کے وقت کا سونا بدترین سونا ہے.

دن میں ظہر کے وقت کے قریب سونا مستحب ہے. طبیبوں کے کہنے کے مطابق اس وقت 20 منٹ کی نیند رات میں کئی گھنٹوں تک سونے کے برابر ہے. منتظر اپنی زندگی کو منظم بنا دیتا ہے. اپنی ورزش کے لیے بھی شیڈول بناتا ہے.

اچھے مومنین کی زندگی ہمیشہ اس طرح کی سختیوں کے ساتھ ہے جو وه خود اپنے آپ پر مسلط کرتے ہیں.

وه انسان اہلِ عمل ہو سکتا ہے جو نہ صرف روحانی طور پر بلکہ جسمانی طور پر بھی کافی مقدار میں طاقت و قدرت رکھتا ہو.
بدنی طاقت کا زیاده تر دارومدار بھی انسان کے ارادے پر ہے. اور ایسا انسان صرف جوان ہی ہے جس میں آسانی کے ساتھ جسمانی طاقت بھی میسر ہوتی ہے اور اس کا اراده بھی انتہائی مضبوط ہوتا ہے.
آخر میں ایک ایسے کام کی مثال دینا چاہوں گا جو تبدیلی لا سکتا ہے اور منتظر جوانوں کی روحانی طاقت اور ان کے فولادی ارادوں سے حاصل ہو سکتا ہے:
کیا آپ کو قرآن پڑھنے میں مزه آتا ہے؟ کیا آپ کو اہلبیتؑ کی مدح کرنے اور ان کے فضائل کے ذکر سے مزه آتا ہے؟ اگر آپ کا جواب ہاں میں ہے تو پھر شادی کا پروگرام جو خوشی اور خوشحالی کا مقام ہے اسے کیوں قرآن اور اہلبیتؑ کی تعریف کے بغیر منعقد کرتے ہیں؟
اگر آپ قرآن و عترتؑ سے عشق کرتے ہیں تو اپنی شادی کی تقریب کو تبدیل کریں اور اگر کوئی مخالفت کرے تو ادب اور بہت اچھے اخلاق کے ساتھ ان کے مقابل کھڑے ہو جائیں اور کہیں:
“ہر کسی کو کسی نہ کسی چیز سے مزه آتا ہے اور ہمیں قرآن اور اہلبیتؑ کی مدح کرنے میں مزه آتا ہے اور ہم اس سے خوشحال ہوتے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ اپنی شادی کو روحانی ذکر کے ساتھ منعقد کریں اور ان خوشیوں اور لذتوں سے شادی کی رات بے نصیب نہ رہیں”.
پھر اس قسم کی شادی کی دعوت کا ایک کارڈ امام زمانہ (عج) کے نام لکھیں اور کہیں:
“اے آقاؑ! ہمارے پاس آپ کا ایڈریس نہیں ہے کہ آپ کے لیے کارڈ ارسال کر سکیں لیکن ہم چاہتے ہیں کہ آپ بھی تشریف لائیں”.
اس کے بعد اس کارڈ کو اپنے پاس یادگار کے طور پر سنبھال کر رکھیں.
آپ مطمئن رہیں کہ امام زمانہؑ کی بارگاه میں آپ کا یہ اظہارِ احترام بے جواب نہیں رہے گا.

ہمیں عملی طور پر زندگی گزارنے کے طریقے کو تبدیل کرنا ہو گا. بغیر منصوبہ بندی اور آرام و سکون کے ساتھ کسی بھی جگہ نہیں پہنچا جا سکتا. ایک منتظر عملی طور پر ایک آماده سپاہی کی طرح ہے جو خدمت کے لیے تیار ہے.

منتظر حتی اپنی ہینڈ رائٹنگ پر بھی توجہ دیتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ اس کی رائٹنگ خوبصورت ہو. رہبر معظم نے 42 سال کی عمر کے بعد (جب ان کا سیدھا ہاتھ مسجد ابوذر میں بم دھماکے میں زخمی ہوا) الٹے ہاتھ سے لکھنا شروع کیا. بے شک اس عمر میں الٹے ہاتھ سے لکھنا شروع کرنا ایک مشکل کام ہے. لیکن اب ان کی رائٹنگ ہم میں سے بہت سوں سے بہتر ہے.

کیوں؟! کیونکہ ہم اپنی ہینڈ رائٹنگ کو اہمیت نہیں دیتے، ہم میں اتنا حوصلہ نہیں، ہم ہر چیز کو ساده لیتے ہیں، اور ہمیں اس بات پر کوئی اصرار نہیں کہ ہم کاموں کو زیبائی کے ساتھ انجام دیں. ہم اپنی اسی دنیاوی زندگی کی جزوی چیزوں میں بھی دقت نہیں کرتے ہیں!!

ایک طالبعلم جو نجف میں امام خمینیؒ کے شاگرد تھے، انہوں نے آپ سے کہا کہ: “میں اپنی بیماری کے سلسلے میں ڈاکٹر کے پاس گیا تھا، ڈاکٹر نے کہا کہ آپ علمی کام کرتے ہیں لہذا ضروری ہے کہ آپ روزانہ 20 منٹ پیدل چلیں ورنہ آپ اس طرح کی بیماری کا شکار ہو جائیں گے. کیا آپ بھی یہ چاہتے ہیں کہ 20 منٹ پیدل چلا کریں؟

امام خمینیؒ نے جواب دیا: “اچھا کام ہے، ڈاکٹر نے صحیح کہا ہے، میں بھی ورزش کروں گا”. اس کے بعد انہوں نے اپنی زندگی کے آخر تک ایک دن بھی پیدل چلنے کو ترک نہیں کیا.

ایسا کیا تھا جو شیخ مفید میں یہ اہلیت پیدا ہو گئی تھی کہ وه غیبت کے زمانے میں امام زمانہ (عج) کا خط وصول کر لیں؟! امام زمانہؑ نے مرحوم مفید کے لیے اپنے پہلے خط میں لکھا: “ہم تمہاری زندگی کو جانتے ہیں، ہم نے تمہاری آدھی رات کی عبادتوں کو دیکھا، تمہیں پسند کیا، ہم چاہتے ہیں کہ کبھی کبھار تم سے درد دل بیان کریں، تم سے بات چیت کریں”.

خدا کی قسم! امام زمانہؑ بھی احساسات رکھتے ہیں!! الله کی قسم! امام زمانہؑ ہمارے باپ ہیں!! والله! امام زمانہؑ ہم سے محبت کرتے ہیں!! والله! امام زمانہؑ ہمارے لیے پریشان ہوتے ہیں!! والله! امام زمانہؑ ہمارے اعمال کی اطلاع رکھتے ہیں اور وه اس بات سے خوش ہوتے ہیں کہ ہم فعال ہوں، تر و تازه ہوں اور بالکل بھی سستی کا شکار نہ ہوں. یہ ہمارے عملی میدان کی مطلوبہ چیزیں ہیں.

امام علی رضاؑ کا فرمان ہے: امام ساتھی، دوست، مہربان باپ، سگا بھائی اور بچے کے لیے ایک مہربان ماں کی طرح ہے (الکافی، ج 1، ص 200).

#عالمانہ_انتظار

کیونکر ایک منتظر کی زندگی مختلف ہونی چاہیے؟ کیونکہ منتظر اپنی روحانی اصلاح کے لیے خود اپنے نفس کو اپنا دشمن قرار دیتا ہے اور وه جانتا ہے کہ جب تک وه اپنی خودغرضیوں سے مقابلہ نہ کرے کہیں نہیں پہنچ سکتا.

“منظم ہونا” اور “پڑھائی لکھائی اور کام کاج” کے حوالے سے زندگی کے آداب کا مکمل لحاظ کرنا اس تقوی کی وجہ سے ہے جو ایک منتظر کو حاصل ہوتا ہے. وه صرف اس مادی دنیا کی کامیابی کے لیے اتنا اچھا انسان نہیں بنا!!

امیرالمؤمنینؑ فرماتے ہیں کہ: میں آپؑ دونوں (امام حسنؑ و امام حسینؑ) کو، میرے سارے بچوں کو، میرے خاندان کو اور ہر اس شخص کو وصیت کرتا ہوں جس تک میری یہ وصیت پہنچے کہ “الله کا تقوی اختیار کریں” اور “اپنی زندگی کو منظم بنائیں”.

آپؑ نے اپنے اس فرمان میں نظم و ضبط کی بنیاد تقوی کو قرار دیا ہے اور تقوی کے زیرسایہ نظم و ضبط اختیار کرنے کی دعوت دی ہے. ضروری ہے کہ ایک منتظر کی زندگی میں یہ فرق نظر آئے.

بنیادی طور پر منتظر کا دوسرا نام متقی ہے اور آپ کچھ بھی کر لیں منتظر کے لیے اتنا مناسب نام نہیں ڈھونڈ سکیں گے.

امام زمانہ (عج) کے اس فرمان کا اس کے علاوه کوئی مطلب نہیں جس میں آپؑ فرماتے ہیں: … ہمیں ان سے کوئی چیز جدا نہیں کرتی مگر وه خبریں جو ان کے حوالے سے ہم تک پہنچتی ہیں اور ہمیں ناراض کرتی ہیں اور جن کی ہمیں ان سے توقع نہیں.

تقوی کی دو پہلو ہیں: ایک الله کے لیے گناہوں کو چھوڑ دینا اور دوسرا اسی کے لیے عبادات اور اطاعت انجام دینا. متقی شخص جب اپنے معشوق کے لیے دوسروں سے کٹنا چاہتا ہے تو گناہوں کو چھوڑ دیتا ہے اور جب چاہتا ہے کہ اپنے محبوب سے مل جائے تو اس کی عبادت اور اطاعت کرتا ہے؛ ان میں سے ہر ایک دوسرے سے زیاده شیرین ہے.

اپنے نفس کو تلقین کرنا ایک ہنر ہے اور تفکر کرنے کے لیے فرصت چاہیے!! ورنہ ہم میں سے ہر کوئی یہ بات جانتا ہے کہ اگر منتظر بننا چاہتے ہو تو پھر متقی بنو.

ہمیں کس چیز کا انتظار ہے؟ کیا امام زمانہؑ کی حکومت لوگوں کے لیے تقوی اختیار کرنے میں آسانی فراہم کرنے کے علاوه کوئی اور چیز ہے؟! کیا امام زمانہؑ کا ظہور استکبار سے مقابلے کے لیے نہیں جو ہمارے روزمره گناہوں کی بڑھی ہوئی شکل ہے؟! کیا ایسا ممکن ہے کہ ہم امام زمانہؑ کے منتظر ہوں لیکن ہمیں گناہ پسند ہوں اور روح کی پاکیزگی اور تزکیہ نفس سے ہمیں کوئی دلچسپی نہ ہو؟!

#عالمانہ_انتظار

ضروری ہے کہ ہم “تقوی” اور “انتظار” کے درمیان رابطے کو صحیح طریقے سے سمجھیں، اس کے بارے میں گھنٹوں غوروفکر کریں اور حساس موقعوں پر مختلف بہانوں سے اپنے آپ کو ان باتوں کی تلقین کریں؛ کیونکہ نفس وعظ و نصیحت سے فرار کرتا ہے اور نہیں چاہتا کہ کڑوی بات سنے اور سخت کاموں پر مجبور ہو. اسی لیے کہہ رہا ہوں کہ خود اپنے آپ کو بھی اور دوسروں کو بھی ہنرمندانہ طریقے سے اس حقیقت کی تلقین کریں.

ہم کیا دلیل لائیں تا کہ اس حقیقت کو تسلیم کر لیں کہ ایک منتظر کو متقی بھی ہونا چاہیے؟ کیا اتنا جاننا کافی ہے کہ ہمارے گناه ظہور میں تاخیر کا باعث بنتے ہیں؟ شاید اس بات کو ماننا ہمارے لیے سخت ہو!

ایک منتظر کے لیے جتنا ممکن ہوتا ہے وه خود سفر طے کرتا ہے. لیکن جب اس کی سانسیں اکھڑ جائیں اور مزید مقابلہ کرنے کی طاقت نہ ہو تو پھر وه امام زمانہ (عج) سے مدد طلب کرتا ہے جو اس کے اعمال کو دیکھ رہے ہیں اور وه یقینی طور پر اس کی مدد کریں گے.

آپ ایک ایسے شخص کو تصوّر کریں جس نے خدا سے قربت کی اتنی زیاده اچھائیوں اور زیبائیوں کو محسوس کیا ہو اور تقوی اس کے لیے اتنا پسندیده بن گیا ہو کہ وه چاہتا ہے کہ اس تقوی اور الله کے تقرب کو اصرار کر کے اہلِ زمین کو بھی حاصل کروائے. یہ ہوتا ہے ایک منتظر.

صحیح ہے کہ بعض افراد انتظار کی حالت تک پہنچنے کے لیے تقوی سے شروع نہیں کرتے لیکن انہوں نے اپنے سفر کا آغاز امام زمانہؑ سے محبت سے کیا ہے اور وه بہت دعوی بھی نہیں کرتے. قدرتی بات ہے کہ ایسے افراد اس راه سے تقوی تک پہنچ جائیں گے.

یہ بات صحیح ہے کہ امام زمانہؑ کی محبت کا حصول تقوی سے محبت کے حصول سے آسان ہے لیکن جب یہ محبت تھوڑی بڑھے گی تو اس کے مبارک اثرات بھی نمایاں ہو جائیں گے. آپ کے لیے اتنا کافی ہے کہ آپ جان لیں اگر کوئی شخص باتقوی نہیں تو وه امام زمانہؑ کے لطف و کرم کو نہیں پا سکتا. اور پھر اس صورتحال میں آپ تقوی سے دوری اختیار نہیں کر سکتے.

#عالمانہ_انتظار

اس طرح سے نہیں ہے کہ امام زمانہ (عج) کا ایک خاص مزاج ہے کہ وه صرف باتقوی افراد کو پسند کرتے ہیں اور یہ ان کا ذاتی مزاج ہے! اور اگر اس طرح بھی ہوتا تو پھر بھی ان کے ایک سچے عاشق کے لیے معیار یہی قرار پاتا، البتہ سچا عاشق تو ڈھونڈے نہیں ملتا.

بنیادی طور پر ہمیں یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ جو انسان باتقوی نہ ہو وه ذاتی طور پر امام زمانہؑ سے قریب نہیں ہو سکتا اور وه امامؑ کے کسی کام کا نہیں. جس طرح اگر کوئی انسان کافر ہو جائے تو ایسا شخص ذاتی طور پر اپنے پروردگار کی شیریں ملاقات کی صلاحیت کو اپنے ہاتھوں سے کھو دیتا ہے اور اس کفر کی وجہ سے اس کی ذات کا تقاضا یہ ہو جاتا ہے کہ وه دوزخ میں جائے.

لہذا وه انسان جس نے گناه کی وجہ سے اپنی عقل سے ہاتھ دھو لیا ہے وه امام زمانہؑ کے وجود کی زیبائیوں کو درک نہیں کر سکتا، وه امام زمانہؑ کو نہیں سمجھ سکتا، وه امام زمانہؑ کی مدد نہیں کر سکتا، اور حتی شاید وه ان کو برداشت بھی نہ کر سکے!! کیونکہ وه اپنی ہوا و ہوس کو زیاده چاہتا ہے.

ایسا شخص صرف دور سے امام زمانہؑ سے عشق کر سکتا ہے لیکن شاید نزدیک سے ان سے بددلی کا شکار بھی ہو جائے!! لہذا یہ ایک خطرناک بات ہے کہ انسان بے تقوی ہو اور امام زمانہؑ کے دیدار کا طالب ہو!

اگرچہ ہم اس بات کے امیدوار ہیں کہ امام زمانہؑ کا دیدار ان سے محبت و احترام اور اطاعت میں اضافے کا سبب بنے گا لیکن یہ کوئی کلی قانون نہیں، اور بہت سی دفعہ اس طرح نہیں بھی ہوتا. اس بات کو خداوند عالم نے قرآن کی ابتدا میں واضح طور پر بیان کیا ہے ذَٰلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ (سوره بقره: 2) یعنی “یہ وہ کتاب ہے جس میں کسی طرح کے شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے. یہ صاحبانِ تقویٰ اور پرہیزگار لوگوں کے لئے مجسم ہدایت ہے”.

#عالمانہ_انتظار

اپنی شخصیت سازی کے بعد منتظرین کے عمل کی ایک قسم “اجتماعی ذمہ داریاں” ادا کرنا ہے جس سے وه غفلت نہیں کرتے.

جس طرح پہلے بھی ذکر ہوا کہ منتظر بنیادی طور پر ایک اجتماعی بلکہ ایک عالمی انسان ہے. “اجتماعیات” کے بغیر “انتظار” کا تصوّر ممکن نہیں.

البتہ اس بات کی طرف توجہ رہے کہ اجتماعی ذمہ داریوں کی ادائیگی صرف اور صرف اپنی شخصیت کی تعمیر کے اعلی مراحل کی تکمیل کے بعد کا ہی مرحلہ نہیں کیونکہ پہلی بات تو یہ ہے کہ بہت سی اجتماعی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لیے شخصیت سازی اور روحانی تربیت کے اعلی مراحل طے کرنے کی ضرورت نہیں مثلاً جب انفاق اور بہت سی مالی مجاہدتوں کے حوالے سے بات ہو.

اور دوسری بات یہ کہ خود اجتماعی عمل بھی انسان کو بناتا ہے اور بنیادی طور پر شخصیت سازی کی اہم ترین راہوں میں سے ایک اجتماعی ذمہ داریوں کی ادائیگی ہے.

البتہ اگر کوئی معاشرے کی تربیت یا کسی گروه کے معلم کے طور پر کام کرنا چاہے اور دوسرے اسے اپنے لیے نمونہ عمل قرار دیں تو پھر ضروری ہے کہ انسان اس طرح کی ذمہ داریوں کی ادائیگی سے پہلے خود اپنی شخصیت کی تعمیر پر خاص توجہ دے.

امام محمد باقرؑ سے منقول روایت میں نقل ہوا ہے کہ آپؑ نے کچھ ایسے شیعوں کے جواب میں جو یہ دعوی کرتے تھے کہ وه منتظر ہیں اور ظلم کے خلاف قیام کے لیے آماده ہیں، فرمایا: امام زمانہ (عج) کے ساتھی آپس میں اتنے زیاده نزدیک ہیں اور ان میں اتنا زیاده بھائی چاره پایا جاتا ہے کہ جب ان میں سے کسی کو مالی ضرورت ہوتی ہے تو وه اجازت لیے بغیر خود ہی اپنے دوست کی جیب سے اپنی ضرورت کے مطابق پیسے لے لیتا ہے.

ایک اور روایت میں ملتا ہے کہ اگر دو مومن آپس میں اس طرح سے نہ ہوں تو وه ابھی تک بھائی چارے کی حد تک نہیں پہنچے. اگر ہم چاہتے ہیں کہ منتظر کے مقام تک پہنچ جائیں تو ضروری ہے کہ اپنی دوستیوں میں عملی طور پر اس طرح کی فضا کی طرف حرکت کریں.

#عالمانہ_انتظار

زیارت عاشوره میں ہے کہ إِنِّی سِلْمٌ لِمَنْ سَالَمَكُمْ یعنی اے امام حسینؑ میں صرف آپؑ کا دوست نہیں ہوں بلکہ ہر اس شخص کا دوست ہوں جو آپ کا چاہنے والا ہو.

امام زمانہ (عج) کا مددگار خود بھی لوگوں سے محبت کرتا ہے اور عمل کے میدان میں بھی وه دوسروں کے لیے دوست بننے کے قابل ہے. منتظر کا اگر کسی کے ساتھ ذاتی اختلاف ہو، حتی اگر وه حق پر بھی ہو، تب بھی وه اپنے حق کو نظرانداز کرتا ہے. وه اپنی مظلومیت کو برداشت کر لیتا ہے لیکن مومنین کے ساتھ دوستی کرتا ہے.

ایک منتظر دوسروں کے ساتھ اپنے اجتماعی روابط میں ایک بے نظیر شخصیت کا حامل ہوتا ہے.

جس شخص کا دل چھوٹا ہوتا ہے تو اس کا دل چند دوستوں سے ہی بھر جاتا ہے. وه 100 دوست نہیں رکھ سکتا. ایک عام آدمی کے لیے اپنا درد دل اور راز بیان کرنے کے لیے تین چار دوست کافی ہوتے ہیں. لیکن ایک منتظر کا حلقہ احباب بہت بڑا ہوتا ہے. اس کی دوستیاں ضرورتوں کی وجہ سے نہیں ہوتیں بلکہ اس کے انسانوں سے محبت کرنے کی وجہ سے ہوتی ہیں.

منتظر عمل کے میدان میں دوسروں کی خدمت کرنے والا انسان ہے. وه اپنی خودسازی کرتا ہے، اپنے ہی نفس کے خلاف قیام کرتا ہے اور مجاہدانہ کام کرتا ہے. منتظر محنتی اور ہمت نہ ہارنے والا انسان ہے. واضح ہے کہ ایک منتظر پڑھائی میں سب سے بہتر ہوتا ہے اور اسی کے ساتھ اس کے پاس کام کرنے کے لیے بھی وقت ہوتا ہے. وه ان دونوں کو آپس میں جمع کر سکتا ہے کیونکہ اس کی روح سالم ہے.

شہید چمران اپنی مناجات میں لکھتے ہیں کہ: “ہمارے پاس اس کے علاوه کوئی چاره نہیں کہ ہم یہ ثابت کریں کہ اس آزاد اور مقابلے کی دنیا میں مہدویون سب سے بہتر ہیں.

ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم ایسے مقام پر فائز ہوں کہ اگر سوال کیا جائے: منتظر کون ہے؟! تو سب یہ کہیں کہ: یہ تو واضح سی بات ہے، وه شخص جو سب سے زیاده تروتازه ہے، سب سے زیاده خدمت کرتا ہے، سب سے زیاده پڑهاکو ہے، وه جو تھکن کا شکار نہیں ہوتا اور خلاصہ کلام یہ کہ منتظر وه انسان ہے جسے زندگی گزارنے کا صحیح طریقہ معلوم ہے”.

#عالمانہ_انتظار

منتظر نہ صرف تمام لوگوں کے لیے ایک اچھا انسان ہوتا ہے بلکہ لوگوں کے دشمن سے مقابلہ بھی کرتا ہے. منتظر ظالم سے مقابلہ کرنے والا شخص ہے.

ہم خلاء میں تو زندگی نہیں گزار رہے. ہماری یہ دنیا ظلم و جور سے بھری ہوئی ہے. لہذا منتظر صرف اہلِ محبت ہی نہیں بلکہ اہلِ دشمنی بھی ہے. منتظر صرف اہلِ عدالت ہی نہیں بلکہ ظلم کے خلاف حساسیت بھی دکھاتا ہے.

کچھ لوگ چاہتے ہیں کہ اجتماعی ہونے کو ایک خاص حد تک محدود رکھیں. مثلاً ضرورتمندوں کی مدد کو صرف ایک خاص علاقے، ایک خاص شہر یا حتی ایک خاص ملک کی حد تک محدود رکھتے ہیں. وه اس بات کی طرف رغبت نہیں رکھتے کہ فقر کی جڑوں اور اس کے اصلی اسباب کی طرف توجہ کریں اور ان سے مقابلہ کریں.

ایسے لوگ اس بات پر تیار ہیں کہ وه خدمت خلق کے ادارے بنائیں لیکن وه اس بات پر تیار نہیں ہیں کہ اس محرومیت کی جڑ اور بنیاد سے مقابلہ کریں یعنی ان لوگوں سے جن کی وجہ سے درحقیقت یہ فقر اور محرومیاں وجود میں آئی ہیں؛ یعنی وہی مالدار، طاقتور اور دھوکے باز افراد جن میں سب سے بڑا عالمی استکبار ہے.

یہ طریقہ ایک طرح سے معاشرے سے دشمنی کرنے اور ان ظالموں کو چھپانے کے مترادف ہے جن کے ظلم کی وجہ سے انسانی معاشره ویرانی کا شکار ہو گیا ہے. یہ طریقہ دراصل ان ظالموں کے لیے ایک محفوظ علاقے کو تشکیل دینا ہے.

آج انسانوں کی خدمت کا واحد راستہ ظالموں اور ستمگروں سے مقابلہ کرنا ہے. دوسرے الفاظ میں “مزاحمت کی تہذیب کا پرچار” اور “لوگوں کو مستکبروں سے مقابلے کے لیے بیدار کرنا” انسانیت کی خدمت کا واحد راستہ ہے اور ساتھ ہی ساتھ یہی کام ظہور کے لیے مقدمہ فراہم کرنا بھی ہے. رہبر معظم نے اپنے ایک انتہائی اہم بیان میں کہا ہے کہ: (جاری ہے…)

#عالمانہ_انتظار

رہبر معظم نے اپنے ایک انتہائی اہم بیان میں کہا ہے کہ:

“جب ایک ایسا میدان فراہم ہو جائے کہ دنیا کا ایک ایک انسان اپنے برحق مؤقف پر دنیا کی مادی عالمی طاقتوں کے خلاف کھڑا ہو سکے تو وه دن، ظہورِ امام زمانہ (عج) کا دن ہو گا؛ یہ وه دن ہے جب انسانیت کے نجات دہنده پروردگار عالم کے فضل و کرم سے ظہور فرمائیں گے اور ان کا پیغام پوری دنیا میں موجود آماده دلوں کو اپنی طرف کھینچ لے گا اور پھر اس وقت ظالم طاقتیں، زور زبردستی کرنے والی طاقتیں، مال و دولت اور طاقت پر انحصار کرنے والی طاقتیں حقیقت کو پہلے کی طرح شکست نہیں دے سکیں گی اور نہ ہی اسے چھپا سکیں گی”.

ایک منتظر کا سارا انفرادی اور اجتماعی اخلاق صرف اس کے انقلابی ہونے اور ظالموں اور مستکبروں سے مقابلہ کرنے کی صورت میں ہی قابل قبول ہے، ورنہ خدا بھی آرام پسندی کے ساتھ اچھا انسان بننے کو قبول نہیں کرتا اور نہ ہی خلقِ خدا ایسے انسان سے کوئی فائده اٹھاتے ہیں.

رسول خدا (ص) کے فرمان کے مطابق اگر کوئی شخص کم از کم جہاد کی آرزو بھی نہ رکھتا ہو تو وه نفاق کا شکار ہو جائے گا.

اجتماعی اخلاق، اپنے گھر والوں کے ساتھ مہربانی اور حق کے ساتھ برتاؤ کرنے سے شروع ہوتا ہے اور پھر انقلابی بننے اور انسانیت کی نجات کے لیے مقابلہ کرنے کے ذریعے تسلسل پاتا ہے جو انسانیت کے نجات دہنده کے ظہور پر ختم ہو گا.

یہاں کسی بھی مرحلے پر رکا نہیں جا سکتا کیونکہ اگر ہم کسی بھی مرحلے پر ٹھہر گئے تو پھر شاید ہمیں طے کیا ہوا تمام راستہ واپس پلٹنا پڑے اور اس صورتحال میں ہم خود اپنے اوپر اور اپنے معاشرے پر ظلم کرنے والے بن جائیں.

اس لیے کہ آج کے زمانے میں جو بھی خاموشی اختیار کرے یا ظلم کے ساتھ مقابلے سے دستبردار ہو جائے تو وه خودبخود ظالم کا ناصر و مددگار بن جائے گا کیونکہ ہم ایک ایسے زمانے میں زندگی گزار رہے ہیں کہ جہاں آخری جہاد کا آغاز ہو گیا ہے اور حق و باطل میں ایک مکمل کشمکش شروع ہو چکی ہے.

#عالمانہ_انتظار

تسلسل کے ساتھ انجام دیا جانے والا اجتماعی کام حکومت کی تشکیل کے بغیر قابلِ تصوّر نہیں اور نہ ہی اس صورت میں وه صحیح طریقے سے نافذ ہو سکتا ہے. اگر ہم اپنی اجتماعی جدوجہد کی ذمہ داریوں پر بھرپور طریقے سے عمل کریں تو اس کا لازمی نتیجہ حکومت کی تشکیل یا ظالم حکومتوں کا خاتمہ ہے.

دوسری طرف سے اگر ہم اپنی تمام ذمہ داریوں پر عمل کرنا چاہیں تو پھر اس کے لیے بھی یہ ضروری ہے کہ حکومت تشکیل دیں اور ظالم حکومتوں کو راستے سے ہٹا دیں.

یہ وه بات ہے جس کی وجہ سے ایک منتظِر حاکمیت کا وجود میں لانا منتظرین کے دستورالعمل میں شامل ہو جاتا ہے. اور یہ ایک قدرتی بات ہے کہ ظہور سے پہلے منتظرین کی حکومت تشکیل پائے تا کہ ان کے ذریعے ظہور کے مقدمات فراہم ہوں. جیسے کہ ظہور کے لیے مقدمہ فراہم کرنے والوں کے حوالے سے روایت میں آیا ہے کہ ظہور سے پہلے ایک قوم ظہور کے لیے میدان فراہم کرنے کے لیے اقدام کرے گی.

اس ظلم سے بھری دنیا میں اس حکومت کی تشکیل کا لازمہ یہ ہے کہ اس حکومت کے دفاع کے لیے استکباری دنیا سے مقابلہ کیا جائے. آج کے دور میں یہ بات ممکن نہیں ہے کہ ایک عدل و انصاف کا نفاذ چاہنے والی حکومت تشکیل دی جائے اور عدالت کے دشمنوں کے حملوں سے امان میں رہا جائے اور آسانی سے بغیر کسی پریشانی اور مشکل کے ان دشمنیوں سے عبور کر لیا جائے. کیونکہ بنیادی طور پر ایسی حکومت کی تشکیل ظالم اور عدل و انصاف کی دشمن حکومتوں کی نابودی کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے. آج کی دنیا ماضی کی دنیا سے مختلف ہے.

آج کی دنیا میں ہم سیاسی، اقتصادی اور میڈیا کے ارتباطات کے پھیلاؤ کی وجہ سے ڈومینو گیم کی طرح ایک عالمی نظم و ضبط کے قریب ہو چکے ہیں، جس میں ہر جدوجہد کے اپنے خاص بین الاقوامی اثرات ہوتے ہیں.

آج کے حالات میں یہ بات ممکن نہیں ہے کہ آپ منتظر تو بنو لیکن ظلم سے مقابلہ نہ کرو، یہ نہیں ہو سکتا کہ خطے میں موجود ظلم سے مقابلہ کرو لیکن آپ کو بین الاقوامی ظلم کا سامنا نہ کرنا پڑے، یہ نہیں ہو سکتا کہ عالمی ظلم سے مقابلہ کرو لیکن مظلوم قوموں کے لیے نمونہ عمل نہ بنو، یہ نہیں ہو سکتا کہ عالمی سطح پر جہاد کی ایک عظیم لہر ایجاد ہو لیکن پھر وه ظہور پر ختم نہ ہو جو تمام بحرانوں سے نجات کا واحد راه حل ہے.

#عالمانہ_انتظار

عارفانہ نگاه سے مراد یہ ہے کہ دینی مفاہیم کے روحانی رازوں کو جاننا اور دین کی ظاہری چیزوں کی باطنی تجزیہ و تحلیل جو ان ظاہری چیزوں میں چھپے گہرے مطالب کو ہمارے سامنے واضح کریں.

ممکن ہے کہ ہم عرفانی گفتگو سے عارف نہ بنیں لیکن کائنات پر ایک گہری نگاه ڈالنے کا ایک اپنا روحانی مزه ہے جس سے ہم بے نیاز نہیں ہیں. یہ ایک ایسے سمندر کا پانی ہے کہ اگر ہم اس میں تیر نہ بھی سکیں تو کم از کم اس میں اپنے ہاتھ منہ ہی دھو لیں تا کہ عارفانہ انداز کی ایک ٹھنڈک ہمارے وجود کو شادابی عطا کرے.

دوسری طرف سے جس طرح ممکن ہے کہ عوامانہ انتظار کے پھیلنے سے غفلت برتنا معاشرے کو ایک طرح کی عوامانہ طرزفکر کا شکار کر دے اور انتظار کے مفہوم پر عالمانہ طور پر نگاه کرنے کو تاخیر میں ڈال دے، اسی طرح انتظار کے مفہوم کی عرفانی جہت سے غفلت کرنا بھی ممکن ہے انتظار کے معنی سے ہماری توقعات کو کم کر دے اور انتظار کی حقیقی قدروقیمت کو ہماری نگاه میں نیچے لے آئے.

اس کے ساتھ ہی انتظار پر عارفانہ نگاه معاشرے میں موجود عرفانی پیاس کو خیالی عرفان میں غرق ہونے سے بچا لیتی ہے.

اس کے علاوه انتظار پر ایک عارفانہ نگاه کے ذریعے شاید ہم یہ جان لیں کہ حقیقی منتظرین کیونکر اتنا غم و اندوه کا شکار ہو جاتے ہیں اور اپنے مولا کے حضور حاضری کی شرفیابی کے لیے اتنی زیاده تہذیب نفس کرتے ہیں اور تقوی کے راستے میں پیشقدم ہوتے ہوئے قدم بڑھاتے ہیں.

صرف عارفانہ نگاه ہی وه چیز ہے جس سے سمجھا جا سکتا ہے کہ کیونکر پیغمبر اکرمؐ کی امت کا سب سے اہم اور با فضیلت ترین کام فرج کا انتظار کرنا ہو سکتا ہے.

امام خمینیؒ اپنی کتاب سرالصلوٰة میں لکھتے ہیں کہ: اس فصل کو لکھنے سے ہمارا مقصد یہ ہے کہ نہ صرف نماز بلکہ ساری عبادات کی اس ظاہری شکل و صورت اور جلد کے علاوه ایک باطن اور حقیقت بھی ہے. اور یہ بات عقلی طور پر بھی ثابت ہے اور اس کے نقلی(قرآن، حدیث، تاریخ وغیره) شواہد بھی بہت زیاده ہیں جن کا تفصیلی ذکر اس جگہ ممکن نہیں اور ہم ان میں سے کچھ کو ذکر کر کے ان صفحات کو متبرک کریں گے…”.

#عارفانہ_انتظار

فرج اور نعمتوں کے حصول کا انتظار صرف امام زمانہ (عج) کی غیبت کی وجہ سے پیش نہیں آیا ہے بلکہ یہ بات بھی ممکن ہے کہ فرج کے انتظار کے لیے اجتماعی اور تاریخی حالات سے ہٹ کر بھی ایک مستقل معنی تصوّر کیا جائے. ایک ایسا معنی جو کسی بھی زمانے اور علاقے سے ماورا ہو ، ایک ایسا معنی جو انسان کی حیات اور اس کے الله تعالی سے تکوینی (۱) رابطے سے متعلق ہو.

انتظار کے دائمی معنی کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے ہم انسان کے فلسفہ خلقت پر غور کریں یعنی وه جگہ جہاں یہ پتہ چلتا ہے کہ بنیادی طور پر انسان اپنے پروردگار سے ملاقات کے لیے خلق کیا گیا ہے اور اس کی زندگی اور اس کی ہستی صرف اور صرف الله تعالی سے اس کے رابطے کی صورت میں معنی رکھتی ہے. حتی جنت کے باغ بھی انسان کے وجود کی حقیقت کا کامل جواب نہیں.

اگر انسان اپنی گہرائیوں میں موجود پوشیده پیاس پر غور کرے تو اسے یہ بات معلوم ہو جائے گی کہ صرف اور صرف الله تعالی کا دیدار اور اس کا قرب ہی وه چیز ہے جو اسے آرام پہنچا سکتی ہے، اور اس کے بغیر اس کا پورا وجود صرف بے قراری کے علاوه کوئی اور چیز نہیں، اور جب تک وه خدا کی ملاقات کی طرف پلٹ نہ جائے تو اس کے فراق کے درد میں تسکین نہیں پائے گا.

اہم بات یہ ہے کہ یہ جدائی اس ابتدائی ملاقات کے بعد پیش آئی ہے جس کے بارے میں ہمیں بہت زیاده معلومات حاصل نہیں ہیں. لہذا وصال کی تمنا ایک طرح کے پلٹنے کی درخواست ہے. اس صورتحال میں الله تعالی سے ملاقات کے لیے پیش آنے والا انتظار اس دلیل کے پس منظر میں شدیدتر ہو جاتا ہے اور اس کے فراق کا غم دوبالا ہو جاتا ہے.

اس بنا پر انتظار انسان کے ساتھ ہی پیدا ہوتا ہے اور جب تک انسان اس دنیا میں ہے، اس کے ساتھ ساتھ رہتا ہے. اس انتظار کا ماضی انسان کی خلقت کی ابتدا تک پلٹتا ہے.

انتظار کا یہ ماضی حضرت آدمؑ کی داستان میں واضح ہے. وه پہلے انسان جنہوں نے اس انتظار میں اور الله تعالی سے ملاقات کی تمنا میں طولانی گریے کیے وه حضرت آدمؑ تھے. وه اپنی پوری عمر خداوند عالم کی طرف پلٹنے کے منتظر تھے.

یہ ہر اس انسان کی صورتحال ہے جس نے دنیا میں اپنی اس پست زندگی کے راز کو سمجھ لیا ہے.

#عارفانہ_انتظار

فرج کے انتظار سے مراد دراصل دنیا کے زندان سے رہا ہو کر اپنے پروردگار کی طرف پلٹ جانا ہے. اگر کوئی قید سے رہا نہ ہونا چاہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وه خراب ہو گیا ہے. ہر وه شخص جو دنیا کے زندان سے رہائی حاصل کرنا نہیں چاہتا اسے اپنے آپ سے پوچھنا چاہیے کہ:

“تم نے کیونکر دنیا کی عادت کر لی ہے؟ ایسا کیوں ہے کہ تم اسی دنیا میں رہنا چاہتے ہو؟ تمہیں پلٹنے کا انتظار کیوں نہیں ہے؟ یعنی تم نے یقینی طور پر اپنی روح میں تبدیلی کر دی ہے. دیکھو کہ تم نے اپنی روح کو کتنا آلوده کر لیا ہے کہ وه دنیا سے اتنی محبت کرنے لگی ہے کیونکہ تمہاری روح تو اس دنیا کے ساتھ سازگاری رکھنے والی خلق نہیں ہوئی ہے”.

اس بنا پر پتہ یہ چلتا ہے کہ انتظار بنیادی طور پر ایک انسانی اور عرفانی مفہوم ہے جو اس دنیا میں بسنے والے تمام انسانوں سے مربوط ہے.

وه شخص جو روحانیت کی طرف مائل ہو گیا ہے لیکن الله تعالی سے ملاقات کی تمنا نہیں رکھتا دراصل اس نے روحانیت کے ساتھ کھیل کھیلا ہے، کیونکہ روحانیت کی اہم ترین تفسیر “خدا کے قرب کے حصول کا تقاضا کرنا” ہے، لہذا اس بات کا تقاضا یہ ہے کہ انسان الله تعالی کی ملاقات کا مشتاق اور منتظر ہو.

امام علی رضاؑ فرماتے ہیں کہ: وه شخص جو خدا کا ذکر کرے لیکن اس کی ملاقات کا مشتاق نہ ہو تو اس نے اپنے آپ کا مذاق اڑایا ہے.

البتہ یہ اشتیاق آہستہ آہستہ حاصل ہوتا ہے. لہذا وه افراد جو ابھی راستے کی ابتدا میں ہیں انہیں اس حدیث شریف کا مصداق نہیں سمجھنا جانا چاہیے.

اہم بات یہ ہے کہ انسان اپنے راستے کو جانتا ہو اور اپنے آخری کمال تک پہنچنے کے لیے کوشش کرے. اور اگر مطلوبہ مقصد سے اپنے فاصلے کو اندازے سے زیاده دیکھے تو جو کچھ اس حوالے سے اس کے پاس نہیں ہے اسے حاصل کرنے کی تمنا کرے.

#عارفانہ_انتظار

موت کے حوالے سے پیغمبر اکرمؐ اور امیرالمؤمنینؑ کے ارشادات: – المَوتُ رَيحانَةُ المُؤمِنِ یعنی موت مومن کے لیے ایک خوشبودار گلدستے کی طرح ہے. – ہماری سب سے زیاده محبت رکھنے والے شیعوں کا جان دینا ایسا ہے جیسے تم میں سے کوئی گرمی میں ٹھنڈا اور تسکین بخش پانی پیتا ہے. اور باقی شیعہ (جو ان سے کمتر محبت رکھتے ہیں) اپنے بستر میں اس حالت میں مرتے ہیں کہ تم میں سے ہر کوئی ایسے مرنے پر رشک کرے گا، ایسا مرنا جو ان کے لیے مبارک ثابت ہو. – اور امیرالمؤمنینؑ فرماتے ہیں: أفضَلُ تُحفَةِ المؤمنِ المَوتُ یعنی مومن کے لیے بہترین تحفہ اور سوغات موت ہے. اب جب کہ انتظار فرج پر عرفانی لحاظ سے نگاه کرنے کا مقصد واضح ہو گیا تو رسول اکرمؐ کی ان دو روایات کا باہمی تناسب بہتر طریقے سے سمجھ میں آتا ہے: – أفضَلُ العِبادَةِ ذِكرُ المَوتِ یعنی….. Read More »

اب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ کس طرح مقدس انتظار کے اس عالی اور عرفانی معنی میں (جو فطری طور پر انسان کی بے تاب فطرت میں موجود ہے) امام زمانہ (عج) کے دیدار کا شوق اپنی جگہ بناتا ہے؟!
یہ کس طرح ممکن ہوا کہ وه انسان جو اس دنیا سے رہائی چاہتا تھا وه بی بی فاطمہ (س) کے فرزند امام مہدیؑ کے ظہور کا منتظر بن گیا؟! وه شخص جو الله تعالی سے ملاقات کے انتظار میں تھا وه کس طرح اپنے امام زمانہؑ کے ظہور کا اتنا مشتاق بن گیا؟!
بات یہ ہے کہ جب انسان اس دنیا میں آیا تو اس کا رونا پیٹنا شروع ہو گیا کہ: “خدایا یہ میری جگہ نہیں ہے، آخر میں کیونکر یہاں رہوں؟ میں اس جگہ کو پسند نہیں کرتا، میں تیرے حضور میں رہنا چاہتا ہوں، میں تیرے ساتھ رہنا چاہتا ہوں، فِي مَقْعَدِ صِدْقٍ عِندَ مَلِيكٍ مُّقْتَدِرٍ (سوره قمر: 55) یعنی “اس پاکیزہ مقام پر جو صاحبِ اقتدار بادشاہ کی بارگاہ میں ہے”. میں اس جگہ سے تعلق رکھتا ہوں اور اسی کے لیے خلق کیا گیا ہوں”.
الله تعالی نے بھی اپنی تقدیر اور اپنے انبیاءؑ کی زبانی ہم سے فرمایا کہ: “میرے پیارے، آرام و سکون اختیار کرو! اِس دنیا میں تمہیں اپنے وجود کو ترقی دینی ہے تا کہ اُس دنیا میں میری ملاقات سے زیاده سے زیاده فائده اٹھاؤ.
یعنی بات یہ طے ہوئی ہے کہ اس دنیا میں دوری کی تکلیف تجھے بڑا کرے، تیری روح میں وسعت پیدا کرے اور تیری ظرفیت کو بڑھائے”.
ہم بھی ان باتوں کے سننے کے باوجود اپنے گریہ و زاری پر قابو نہیں پا سکے اور پھر بھی خدا سے یہ کہا کہ: “خدایا! تیری دوری سخت ہے”.
تو پھر ہمارے مہربان خدا نے ایک طرف سے اس جدائی اور دوری کو برداشت کے قابل بنانے کے لیے، اور دوسری طرف سے اس لیے کہ خود یہ دوری ہماری تربیت کرے اور ہمیں اس ہدف تک پہنچائے کہ جس کے لیے ہم خلق کیے گئے ہیں، زمین پر اپنا نمائنده قرار دیا جو “اُس کا جانشین اور خلیفہ” ہو اور “ہمارا امام اور مولا”.

#عارفانہ_انتظار

ہم دنیا سے رہائی اور اپنے پروردگار کی ملاقات کی طرف پلٹنے کے منتظر تھے اور طے یہ تھا کہ الله تعالی سے ملاقات کے انتظار کا یہ زمانہ وجہ الله کے حاضر ہونے کی وجہ سے برداشت کے قابل بنے، لیکن ہم اُس زمانے میں دنیا میں آئے ہیں جب وجہ الله اور ولی الله غیبت کے پردے میں ہیں.
اب اس صورتحال میں ہمیں دو برابر حق حاصل ہے کہ ہم اس جدائی پر معترض اور وصال کے منتظر ہوں، اس حالت میں ہمارے اندر جدائی و انتظار کا درد دوگنا ہو جاتا ہے اور ہمارے شکوے اور گریہ و زاری کی آواز خدا کی بارگاه میں بلند ہو جاتی ہے کہ: اللّٰهُمَّ إِنَّا نَشْكُو إِلَيْكَ فَقْدَ نَبِيِّنا ، وَغَيْبَةَ وَلیِّنَا (دعائے افتتاح) یعنی خدایا ہم تجھ سے شکایت کرتے ہیں اپنے پیغمبرؐ کے نہ ہونے پر، اپنے ولی کے نہ ہونے پر.
یا ہمیں حق حاصل ہے کہ الله تعالی سے یہ دعا کریں کہ: اللّٰهُمَّ أَرِنِي الطَّلْعَةَ الرَّشِيدَةَ ، وَالْغُرَّةَ الْحَمِيدَةَ ، وَاكْحُلْ ناظِرِي بِنَظْرَةٍ مِنِّي إِلَيْهِ (دعائے عہد) یعنی خدایا! اس باشجاعت جمال اور زیبا چہرے کو مجھے دکھلا دے اور اس نگاه کرنے سے میری آنکھوں کو روشن کر.
ایک طرف سے الله تعالی کی تڑپ، اولیاء خدا کی تڑپ میں سرایت کر جاتی ہے اور دوسری طرف سے اولیاء خدا کی محبت کا نتیجہ خود خدا کی محبت کا ایجاد ہونا ہے.
بنیادی طور پر اسلامِ ناب (خالص) میں سارے روحانی معاملات کسی نہ کسی طرح ولایت پر ختم ہوتے ہیں یا پھر اسی مقدس بارگاه سے شروع ہوتے ہیں: إِنْ ذُكِرَ الْخَيْرُ كُنْتُمْ أَوَّلَهُ وَ أَصْلَهُ وَ فَرْعَهُ وَ مَعْدِنَهُ وَ مَأْوَاهُ وَ مُنْتَهَاه (زیارت جامعہ کبیره) یعنی اگر خیر کے حوالے سے کوئی بھی بات ہو تو آپؑ (معصومین) اس کا آغاز، اس کی بنیاد اور فرع و جزء، اس کا سرچشمہ اور اس کی انتہا ہیں.
عبادت اور ولایت کا اتنا نزدیکی رابطہ ہے کہ ایک طرف سے نماز ولایت پر ایمان کے بغیر قبول نہیں ہوتی مثلاً ایک شخص نے امام زین العابدینؑ سے نماز کی قبولیت کا سبب دریافت کیا تو آپؑ نے فرمایا: وَلاَيَتُنَا وَ اَلْبَرَاءَةُ مِنْ أعْدَائِنَا (مناقب ابن شہر آشوب، ج 4، ص 130) یعنی ہماری ولایت کے ساتھ اور ہمارے دشمنوں سے بیزاری کے ساتھ؛
اور دوسری طرف سے ہر مقبول نماز انسان کی ولایت میں اضافہ کرتی ہے جیسے امام محمد باقرؑ نے فرمایا: إنَّکُمْ لَنْ تَنَالُوا وَلَایَتَنَا إِلَّا بِالْوَرَعِ وَ الاِجْتِهَادِ (کافی، ج 2، ص 74) یعنی تم ہماری ولایت کے مقام تک نہیں پہنچ سکتے مگر گناہوں سے دوری اور ورع(تقوی سے بڑا مرتبہ) کے ذریعے.

#عارفانہ_انتظار

البتہ جب انسان اس دنیا میں آیا تو اس کے ساتھ صرف یہی ایک مسئلہ نہیں تھا کہ وه خدا سے دور ہو گیا ہے جو اولیاء خدا کے موجود ہونے سے حل ہو جائے بلکہ یہاں ایک اور مسئلہ بھی تھا اور وه یہ کہ یہاں متکبر انسانوں کی جانب سے دیگر انسانوں پر مسلط کیے جانے والے مظالم اور تاریکیاں بھی موجود تھیں اور یہ دنیا کی سختیوں کے مزید سخت ہونے اور خدا کی طرف انسان کے سفر کے مشکل ہو جانے کا سبب بنتی تھیں.
1) پہلی مشکل کو الله تعالی نے اپنے خلیفہ اور وجہ الله بھیج کر حل کر دیا تا کہ انسان ان سے ملاقات کے ذریعے اور ان کے ساتھ ره کر سکون حاصل کر کے آسانی کے ساتھ اس انتظار کے وقت کو گزار سکیں.
2) دوسری مشکل کو بھی خدا نے انہیں وجہ الله کو “ولایت” عطا کر کے حل کر دیا. (یہ جو روایات میں ملتا ہے کہ امام “وجہ الله” ہیں یعنی امام الله تعالی کی صفات کا کامل ترین جلوه ہیں. وه الله کی بہترین اور خوبصورت ترین نشانی ہیں. تا کہ اگر کسی کا دل الله تعالی کی جدائی میں تڑپے تو وه خدا کی اس آیت اور نشانی پر نگاه کرے اور اس کا دل آرام و سکون حاصل کر لے)
گویا الله تعالی نے تقدیر کی زبان میں انسانوں سے فرمایا کہ “اس دوسری مشکل کو حل کرنے کے لیے میں اسی وجہ الله کو ولایت دے رہا ہوں تا کہ وه اپنی “اجتماعی ولایت” کے ذریعے نظم و ضبط کو قائم کرے تا کہ تم اس دنیا میں ظلم و ستم سہے بغیر میری طرف حرکت کر سکو”.
لہذا ہم ولی الله کی غیبت کے زمانے میں دو طرح کی کمی اور دو طرح کی مشکلات کا شکار ہیں.
ہر وه شخص جو اپنے پروردگار کے وصال کے بارے میں سوچتا ہے وه خدا کے ولی کی جدائی کو زیاده محسوس کرتا ہے؛ اسی طرح جو بھی انسانی زندگی کو خدا کی طرف سفر کا ذریعہ سمجھتا ہے وه دوسری قسم کی مشکل کا سامنا کرتے ہوئے انتظار کے درد کو اپنے وجود میں مزید احساس کرے گا. لیکن بقیہ ظہور کے منتظرین جو ایسی عارفانہ نگاه نہیں رکھتے اس سطح سے بہت کم حد تک فرج کے انتظار میں ہیں.
#عارفانہ_انتظار